افطار کی فضیلت و اہمیت

حضرت سہل بن سعدؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :’’میری امت کے لوگ بھلائی پر رہیں گے، جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الصيام)حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی حدیث قدسی میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :’’میرے بندوں میں مجھے پیارے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کریں۔‘‘(صحیح ابن حبان)حضرت یعلیٰ بن مرہ ؓسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کو تین چیزیں پسند ہیں :اخیر وقت تک سحری مؤخر کرنا۔(غروب ہوتے ہی) فوراً افطار کرنا۔نماز میں (بہ حالتِ قیام) ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھنا۔گویا معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں بروقت روزہ افطار کرنا نہ صرف بے شمار فضائل و روحانی فیوض و برکات کا حامل ہے، بلکہ اس وقت کی فضیلت یہ بھی ہے کہ افطار کے وقت روزے دار کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسند وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں۔ روزہ کھولنے کے صحیح وقت کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ جب رات اس طرف آنی شروع ہو اور دن اس طرف پلٹنا شروع ہو اور سورج ڈوب جائے تو روزے دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا۔ (متفق علیہ )یعنی مشرق کی طرف سے اگر رات کی تاریکی بلند ہونی شروع ہو جائے اور معلوم ہو کہ تاریکی ابھرتی چلی آ رہی ہے اور دوسری طرف مغرب کی جانب سے سورج غروب ہو چکا ہو اور دن پلٹ رہا ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ہے اور آپ کو فوراً روزہ کھول لینا چاہیے روزہ کھولنے کا وقت ہوتے ہی بلا تاخیر روزہ کھول لینا چاہیے ۔اگر ایک منٹ اذانِ مغرب کے لیے صبر کرے تو بھی اچھا ہوگا۔
رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:’’جو شخص اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت ادا کرے گا،تو اسے دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا اجر ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستّر فرضوں کے برابر ملے گا۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے،یہ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے،اور یہی وہ مہینہ ہے، جس میں مومن بندوں کے رزق میں فراخی اور اضافہ کیا جاتا ہے۔جس نے اس مہینے میں کسی روزے دار کو افطار کرایا، تو یہ اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتشِ دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا،اسے اس روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔آپﷺ سے عرض کیا گیا کہ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان (وسائل) میسّر نہیں ہوتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا،جو دودھ کی تھوڑی سی لسّی پر، یا صرف پانی ہی کے گھونٹ پر کسی روزے دار کو افطار کرا دے اور جو کوئی کسی روزے دار کو پورا کھانا کھلا دے، اسے اللہ تعالیٰ حوضِ کوثر سے ایسا سیراب کرے گا کہ جس کے بعد اسے کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی،تاآنکہ وہ جنّت میں پہنچ جائے گا۔‘‘ (بیہقی)