افسانچے

  ملال

’’مجھے پتہ نہیں کہ میں بھی اسی کالج میں داخلہ لوں گا کہ نہیں جس میں میرے باقی دوست جائیں گے‘‘۔منان نے باپ کے سامنے حتمی لہجے میں کہا۔
    دیکھو !’’بیٹے سارے حالات آپ کے سامنے ہیں۔فی الحال یہ ممکن نہیں ۔۔۔مگر میرا وعدہ رہا کہ بارویں جماعت پاس کرنے کے بعد جس کالج میں کہو گے ایڈمیشن کرا دوں گا۔۔۔ابھی میرا کاروبار خسارے میں جارہاہے کہ گھر چلانا مشکل ہے اور اتنی بڑی رقم۔۔۔‘‘
نور نے پریشانی سے پیشانی ملتے ہوئے کہا۔سارا خاموشی سے باپ بیٹے کوسن رہی تھی۔
’’ پلیز پاپا ۔ میرے ساتھ یہ ڈرامہ مت کریں۔۔‘‘منان نے گستاخی سے کہا۔
’’تمیز سے بات کرو منان۔تمہارے پاپا ہیں۔‘‘ سارہ نے اسے ڈانتے ہوئے کہا۔’’پلیز مما آپ تو رہنے دیں۔دنیا جہاں کے والدین اپنے بچوں کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے اور ایک یہ ہیں۔‘‘
منان نے تلخی سے کہا جبکہ نور نے حیرت سے اپنے نوجوان بیٹے کے لہجے میں اپنے لیے حقارت دیکھی۔’’منان میرے بچے ۔بس کچھ مہینوں کی بات ہے پھر سب پہلے جیسا‘‘۔نور نے نرمی سے اسے سمجھانا چاہا۔
’’پاپا میں آپ کے مشکلوں کی وجہ سے اپنا مستقبل تو تاریک نہیں کرسسکتا ہوں۔اپنے دوستوں کو کیا بتائوںگا کہ میرے باپ کی اتنی اوقات ہی نہیں ہے کہ کالج میں داخلہ لے کردے سکے؟کیا کیا ہے آپ نے آج تک میرے لیے؟۔۔ اور آج جب کچھ کرنے کا وقت آرہا ہے تو آپ کے بہانے۔۔۔مائی فٹ۔‘‘منان نے غصے سے سامنے پڑی میز کو ٹھو کر ماری اور کمرے سے باہر نکل گیا۔’’تم نے دیکھا ۔۔۔اس  نے کس لہجے میں بات کی مجھ سے ۔۔۔‘‘نوررنے صدمے سے چور کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔۔ ’’وہ کہتا ہے کہ میں نے اس کے لیے کیا کیا ہے؟۔۔۔تم بتائو ۔۔۔۔۔تم تو گواہ ہو اس کے شب روز کی۔۔۔۔کیا کوئی ایسا لمحہ یا دن جب اس کے منہ سے نکلی خواہش کو بغیر پورے کیا گزرہو۔۔؟‘‘منان!میرا بیٹا! میری شان۔۔۔یہ تربیت تو نہیں کی تھی میں نے تمہاری‘‘۔۔۔ ’’ہماری تربیت یہ ہی تو تھی۔۔۔ صرف لینا ہی لینا۔ہم نے کب اسے رشتوں کی اہمیت سیکھائی۔۔۔۔ہم نے صرف اسے خواہشوں کی دوڑمیں بھاگنا سکھایا۔۔۔۔ہمیںتو خوش ہونا چاہے ۔۔جو سکھایا۔۔جو سمجھایااس نے تو فرماں برداربچوں کی طرح اسی پہ عمل کیا اور و ہی کچھ لوٹایا۔۔پھر ملال کس بات کا۔۔۔؟سارہ نے لمبی سانس لتے ہوئے جواب دیا۔
 

 دو خون

یہ چیک کرلو۔۔اس میں الٹر ساونڈ کی رپوٹ بھی ہے اور باقی دو رپوٹس بھی ۔دراصل جب مجھ میں نقص کا پتا چلا تو میں بہت پریشان ہوئی۔میں نے کوئی ڈاکٹر ،کوئی گائنا کالوجسٹ ۔۔۔کوئی حکیم نہیں چھوڑا۔میری ماں کی خالہ ڈاکٹر ہیں انھوں نے لگ کرمیرا علاج کیا۔۔میں اگر چہ علاج کروارہی تھی لیکن مجھے بالکل امید نہیں تھی کہ میں کبھی ماں بن سکوں گی لیکن۔۔۔خدا نے مجھ پر بہت بڑا فضل کیا ہے۔شدت جذبات سے اس کی آواز رندھ گئی اور دوسرے لمحے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔’’ریاض پلیز ۔۔۔مجھے معاف کردو۔۔اب ہم دونوں مل کراپنے ہونے والے بچے کا استقبا ل کریں گے۔۔۔ہم اسے ایک اچھا ماحول دیں گے۔‘‘اتنی مدت کے بعد خدا نے ہمیں عظیم نعمت سے نوازا ہے۔۔ ریاض۔‘‘۔۔۔ریاض کسی مجسمے کے مانندیوں بیٹھا تھاجیسے وہ بالکل بے جان ہو۔اس میں ہلنے کی طاقت نہیں رہی۔۔۔اس کا جاگا ہوں ضمیر طنزیہ انداز میں اسے کہہ رہا تھا۔۔۔’’ریاض شکر ادا کر و اپنے رب کا۔۔جس نے تمہیں گناہ کبیرہ  سے بچا لیا۔۔ورنہ آج تم ایک نہیں دو خون کردیتے۔۔۔ایک اپنی شریک حیات کا اور دوسر اپنے بچے کا۔۔‘‘
 
رعناواری سرینگر:رابطہ نمبر:9697330636