افسانچے

 دھماکہ

گینگ لیڈر کروکوڈائل نے اپنے سامنے کھڑے تیس سالہ جوزف سے کہا ’’تم یہ کام کرو، میں تمہیں 5کروڑ روپے دوں گا‘‘، جوزف یہ سن کر سکتے میں آگیا مگر اُس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور اعتماد بھرے لہجے میں کہا’’باس میں آپ کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہوں…‘‘۔
 ’’میں کمبخت، حرام خور سی ایم کا تختہ اُلٹنا چاہتا ہوں اور اس کے لئے کچھ ایسا دھماکہ کرنا پڑے گا کہ اپوزیشن اُس کا تختہ اُلٹ دے۔ اس نے میری بے عزتی کی ہے۔ اب میں اسے سبق سکھائوں گا‘‘۔ کروکوڈائل نے دائیں ہاتھ سے میز پر مکہ مارتے ہوئے کہا اور پھر جوزف کی طرف دیکھ کر کہا،’’ تم ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے مرکزی دفتر میں کسی جگہ ایک ایسا بم فٹ کرو کہ وہاں راکھ کے سوا کچھ نہ بچے۔ جب ہزاروں نوجوان لڑکیاں اور لڑکے مرجائیں گے تو سی ایم کو استعفیٰ دینا پڑے گا اور وہ سالا گمنامی کی موت مر جائے گا‘‘… کروکوڈائل نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ جوزف پانچ کروڑ روپے سے بھرا بیگ لے کر چل پڑا… وہ ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ اُس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ ایک دن اتنا بڑا امیر بن جائے گا۔ گاڑی میں وہ مستقبل کے سپنے دیکھنے لگا۔ راستے میں ایک جگہ کار روک کر اُس نے ایک تالا خریدا اورکار میں بیٹھ کر ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے دفتر پہنچا۔
وہ ایک عمارت کے اندر گیا اور ایک ٹوئلٹ میں ایک ٹائم بم فٹ کردیا۔ ٹوئلٹ کو اُس نے باہر سے تالا لگا دیا تاکہ کوئی دروازہ کھول نہ سکے، اس وقت تین بج رہے تھے اور چار بجے بم پھٹنے والا تھا۔
وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار گھر پہنچا اندر تو آتے ہی بیوی کو باہوں میں جکڑلیا اور اپنی والہانہ خوشی کا اظہار کیا۔ پھر اُس نے بیوی سے پوچھا، بچے کہاں ہیں؟
بیوی نے ڈوپٹہ سر پر رکھتے ہوئے جواب دیا’’ وہ دونوں بھائی اپنی بہن کے ساتھ فارم بھرنے ایمپلائمنٹ ایکسچینج دفتر گئے ہوئے ہیں‘‘!
 
 

آن لائن

سونو خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھی۔ آج شام کے چھ بجے وہ سپنا پارک میں بوڑھے چنار تلے اپنے فیس بک فرینڈ سے ملنے والی تھی۔
سونو کی ماں دو سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھی۔ تب سے گھر کا سارا کام کاج وہ خود ہی سنبھالتی تھی اور اپنے باپ اور بڑے بھائی کا بھی خیال رکھتی تھی۔ باپ اور بھائی دونوں سرکاری ملازم تھے لہذا صبح سے شام تک گھر سے باہر رہتے ۔ ایسے میں سُونو دن بھر اکیلی ہوتی تھی اورجب تنہا ئی اُسے کاٹنے کو دوڑتی تو وہ فیس بک کا سہارا لیتی۔ وہ ایک اُداس شام تھی، باہر بوندا باندی ہوری تھی، اُس نے فون اٹھایا اور فیس بک پر سرچ کرنے لگی۔ اچانک ایک بہت ہی ہیڈ سم نوجوان اُس کی نظروں میں آگیا۔ اُس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اور وہ بے قرار سی ہوگئی۔ اُس نے تھر تھراتی ہوئی انگلیوں سے مسیج کیا۔
’’ہائے‘‘
’’ہیلو ہائو آر یو۔۔۔
’’ ہائے ہیلو بڑھتے بڑھتے اُس حد تک پہنچا جہاں دودلوں کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہا۔ دھیرے دھیرے جب جذبات کی شدت نے انہیں زیر کردیا تو نوجوان لڑکے نے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ پہلے تو سُونو ہچکچائی لیکن بعد میں سوچا کہ ملنے میں کیا ہرج ہے۔ شاید بات بن جائے۔
اُس نے گھر سے نکلتے وقت احتیاط کے طور پر چہرے کو نقاب سے ڈھک لیا ۔ اُس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔
مقررہ وقت پر وہ سپنا پارک پہنچی ۔ چنار کے نیچے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ زیر لب بڑ بڑائی  وہ تو ابھی نہیں آیا ہے ، مگر یہ پاپا یہاں کیا کررہا ہے۔
 
 

بھیک

اُسے بھکاریوں سے سخت نفرت ہے۔ وہ جب بھی کسی بھکاری کو دیکھتا ہے تو اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ سوچتا ہے کہ یہ لوگ بھیک کیوں مانگتے ہیں۔ کوئی کام دھندا کیوں نہیں کرتے۔ اُس روز دفتر جاتے وقت بائی پاس پر ریڈ لائٹ دیکھ کر اُس نے کار روک لی۔ دائیں طرف سے ایک لنگڑے نے ہاتھ پھیلایا۔ بائیں طرف سے ایک برقعہ پوش خاتون نے دست سوال دراز کیا۔ دو بچے کار کا شیشہ صاف کرنے لگے۔ اُس نے دیکھا ہر طرف بھکاری ہی بھکاری تھے۔ 
’’ایک دن ایسا آئے گا کہ بھکاریوں کے شہر میں پشتینی باشندوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں ہوگی‘‘اُس نے غصے میں اپنے آپ سے کہا ۔
گرین لائٹ دیکھ کر اس نے کار اسٹارٹ کی اور بھکاریوں کے متعلق سوچتے سوچتے دفتر پہنچا، وہ اپنی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ دروازے پر ایک سائل نے اُس سے کہا ’’کیا میں اندر آسکتاہوں‘‘۔ 
’’آیئے آیئے میر صاحب میں آپ کے ہی بارے میں سوچ رہا تھا۔‘‘اُس نے میر صاحب سے کہا۔
’’میری فائل پاس کروا دیجئے پلیز…‘‘ میر صاحب نے التجا کی
اس نے اپنا دایاں ہاتھ میر صاحب کے سامنے پھیلا دیا اور کہا
’’اس ہاتھ پر بھر پور وزن رکھ دیجئے‘‘۔
موبائل نمبر؛7683062068