پرویز احمد
سرینگر //پیشانی ، گال اور جبڑے تک احساس پہنچانے والی اعصابی خلیوں میں درد کو طبی زبان میں ٹراجیمینل نیورلگلیا(Trigeminal neuralgia)کہتے ہیں۔ انسانی چہرے میں موجود اعصابی خلیاں جو چہرے سے دماغ تک احساسات پہنچاتے ہیں اور چبانے کے عضلات کو قابو کرنے والی اعصابی خلیوں میں کرنٹ دوڑنے سے چہرے کی نسوں اور ماس پیشیوں میں شدید درد ہوتا ہے اور اسی درد کو طبی زبان میں Trigemnail neuralgiaکہا جاتا ہے۔یہ درد آہستہ آہستہ چھوٹی نسوں میں پھیلتا ہے اور اس کا علاج مریض کے خون سے نکالنی گئی خون کی سفید خلیوں سے کیا جاتا ہے۔ چہرے کی اعصابی خلیوں میں درد کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ وادی میں بلڈ پریشر، شوگر اور دیگر بیماریوں میں مبتلا لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس بیماری کی بڑی علامتوں میں دانتوں، جبڑے،مسوڑھوں، ہونٹ اور ماتھے پر شدید درد ہونا جیسی کسی کوبجلی کا جھٹکا لگتا ہے۔
ان بیماری کے حملے کافی عرصہ تک جاری رہ سکتے ہیں جن کا دورانیہ چند سکینڈوں سے لیکر چند منٹوں پر محیط ہوتا ہے۔ معروف ماہر اعصاب ڈاکٹر عادل امتیاز کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر، شوگر اور تھائرڈ کے مریضوں میں بیماری کی وجہ سے نسیں کمزور ہوجاتی ہیں اور کمزوری کی وجہ سے ان مریضوں کے دماغ سے لیکر چہرے اچانک شدید درد ہوتا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ عمر رسیدہ افراد اور خواتین میں دور زچگی، خاص دنوں اور موپشن کی کمی کی وجہ سے نسیں کمزور ہوتی اور وہ بھی اس بیماری کی شکار ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری آہستہ آہستہ لوگوں کو اثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب مریضوں کے چہرے میں شدید درد ہوتا ہے جو اس بیماری کی بڑی علامتوں میں مانی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مردوں میں دھاڑی کاٹنے،دانت صاف کرنے اور مصنوعی رنگ وغیر ہ لگانے سے ہوتی ہے جبکہ خواتین میں مصنوعی رنگ، میک اپ، کریم ،سستی پاڈرسے پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی آر کے ذریعے ہم درد پیدا کرنے والے جگہ اور نسوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور بعد میں اس کا علاج ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاج مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے لیکن زیادہ تر مریضوں میں خون کی سفید خلیوں سے تھرپی دی جاتی ہے اور اس تھرپی سے مریض کافی راحت محسوس کرتا ہے جبکہ اس کے علاوہ دوائیاں بھی مریض کو لینی پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعصابی نظام میں درد کی یہ بیماری کبھی ٹانگوں اورکبھی بازوں اور دیگر حصوں میں بھی پھیلتی ہے اور مریض سخت درد محسوس کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے درد کا واحد علاج صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہی کرپاتا ہے۔