سرینگر//حریت کانفرنس(ع) نے گزشتہ سال لاوے پورہ سرینگرمیں پیش آئے تصادم کے دوران جاں بحق کئے گئے تین نوجوانوں میں سے ایک نوجوان پلوامہ کے اطہر مشتاق کے والد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے شدیدردعمل کااظہار کیا ہے۔ایک بیان میں حریت (ع) نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے جواطلاعات منظر عام پرآئی ہیں ان کے مطابق مشتاق احمد وانی پراپنے فرزند اطہر مشتاق کی میت کوواپس کئے جانے کا مطالبہ کرنے پر پولیس نے موصوف سمیت نصف درجن افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کس قدرشرم اور افسوس کی بات ہے کہ ایک توبے گناہ نوجوان کی لاش لواحقین کے سپردنہیں کی جارہی ہے اور دوسری طرف سوگواراورغمزدہ افراد کیخلاف کیس درج کرکے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پرنمک پاشی کی جارہی ہے۔بیان میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ مداخلت کریں تاکہ لواحقین کونہ صرف اطہر کی لاش واپس مل سکے بلکہ کسی حدتک متاثرین کی اشک سوئی ہوسکے۔حریت نے اس طرح کی کارروائی کوسیاسی انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے اِسے قابل مذمت قراردیا۔اس دوران حریت نے محمدمقبول بٹ کو ان کی 37ویں برسی اور محمدافضل گورروکو ان کی آٹھویں برسی پرخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو یاد کیا۔