اصلاحِ معاشرہ

 آج زمانہ پکاررہا ہے کہ امت مسلمہ وحدت کی طرف لوٹے اور پوری ملت اسلامیہ مل کر صالح انقلاب کو تروتازہ پیدا کرے۔ اس سلسلے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر’’لمحوںنے خطا کی صدیوںنے سزا پائی‘‘ کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔حالات کاتغیر وتبدل ہمیں یہی کچھ کہہ رہا ہے کہ بہ نظرغائر دیکھا جائے تو آج جس قسم کے حالات سے عالم اسلام دوچار ہے، اسے درد بھرے لفظوں کے سوا کسی اور پیرائے میں بیان نہیں کیاجاسکتا ۔پوری ملت اغیار کے ہاتھوں جنگ وجدل اور نفرت وتعصب کی شکار ہے، ذہنی طور پر منتشر ہے، فکری طور پراگندہ ہے اور کوئی خطہ ایسا نظرنہیں آرہا ہے جس میںدینی اور سماجی اتحاد باقی رہا ہو۔ اسلامی مماک ہوں یا مسلم سماج ہوہر سونفرت و ذلت کی بو آرہی ہے۔ جس قوم کو پیغمبر اسلامؐ نے ایک اُمت بناکے چھوڑاتھا ،آج وہ امت ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر نفرت وعداوت کی مثال بن کر رہ گئی ہے۔ عرب کا وہ سماج جو رنگ ونسل اور قبیلہ کے نام سے تقسیم درتقسیم تھا ، جہاں صرف نفرتوں کی سوداگری تھی، ایسے سماج کو پیغمبراسلام ؐنے ایمان و اخوت لڑی میں پروکر محبت وبھائی چارگی کی ایسی مثال قائم کی کہ رہتی دنیاتک کوئی ایسا کارنامہ پیش نہیں کرسکتا ۔اسلام ایک مستقل ضابطہ حیات ہے جوانسانی زندگی کے تمام گوشوں پر محیط ہے۔ دنیامیں یہی ایک مذہب ہے کہ جوبنی نوع انسان کے لئے ہرمحاذ پر واضح ہدایات رکھتا ہے۔ پیغمبر اسلام بہ حیثیت محسن انسانیتؐ ؐاپنی مطہر ومعطر زندگی کواسی راہ میں گزاری۔ قرآن اسلام کی کتابِ حیات ہے، یہ رواداری ،برداشت ، اخلاق اور بردباری کی تعلیم دیتاہے ،خود کوسنوارنے اور دوسروں کی بہتری کے لئے دعائیں کرنے اور تڑپنے کا ہنر پیغمبر اسلام کے صدقے میں دنیاکو ملاہے ۔تمام انسا ن خدا تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اس لئے اس کو رب العالمین کہا جاتا ہے اور نبی اکرمؐ کی اُمت کو اللہ امت ِ واحدہ اور آپ ؐ کو رحمت للعالمین کے منصب عالیہ سے نوازا۔ا فسوس کہ ا س وقت پوری اُمت مسلمہ روبہ زوال ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئے زوال کو جنم دے رہا ہے ،ہماری ذلت وپستی کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم نے ایمان سے کھلواڑ کیا ، مساجدکو ویران کردیا، آپسی بھائی چارگی کو فراموش کردیا اور دنیا میں دعوت دین کو پہنچاننے سے تغافل برتا۔اس کے برے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں ۔ یہ تاریخی مسلمہ ہے کہ منتشر قوموں کا مقدر صرف رسوائی وناکامی ہوتی ہے۔ باوجود اس تنزل کے اگر آج بھی مسلمان قرآن وحدیث کواپنا کر اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر آپسی رشتوں کو استوار کرلیں تو دنیا کی کوئی طاقت قوم مسلم کو زیر نہیں کرسکتی۔ ہمارے ہر طبقہ کے لئے لازمی ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھنے کی بصیرتاپنے اندر پیدا کریں اور اُمت کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کی کوشش کریں۔اس کے بجائے جہاں فرد فرد سے ، جماعت جماعت سے، ادارہ ادارے سے ٹکرائے تو حال یہی ہونا ہے   ؎ 
وہیں دست وگریباں پاؤگے اہل دل کو
جہاں ذکر خدا زیادہ اور خوف خدا کم ہے
یہ عوام و خواص کا باہم دست وگریباں ہونا ،یہ کدورتیں ،یہ ناچاکیاں ،یہ کمزور یاں، یہ غلطیاں ، یہ کوتاہیاںکم ازکم امت مسلمہ کو زیب نہیں دیتیں ۔ملت اسلامیہ اس وقت طرح طرح کے مصائب ومشکلات سے دوچار ہے جن کے اثرات سے زندگی مکدر ہو رہی ہے ، مصائب مختلف شکل وصورت میں ہجوم درہجوم آتے ہیں ۔ان کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک ہم اصلاح کی پگڈنڈی نہ پکڑیں ۔ یادرکھئے مصائب وآلام قدرت کے تکوینی نظام سے تعلق رکھتے ہیں ،کوئی انسان انہیں تبدیل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا جب تک خود اللہ انہیں بدل نہ دے لیکن یہ بدلاؤ اصلاح احوال سے مشروط ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مصائب کے نزول پر ہم لوگوںکے رویے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر بعض لوگ ایمانی کمزوری کے باعث جزع فز ع کرنے لگتے ہیں، کوئی ہنگامہ اور واویلا مچانے لگتا ہے، کوئی رونے دھونے پر اکتفا کرتاہے ، بعضے مرتبہ مصائب دیکھ کر ایسا کر بیٹھتے ہیں کہ ان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ان سب کے برعکس اہل ایمان حالات کا آئینہ دیکھ کر رجوع الی اللہ، صبر واستقامت اور اصلاح ذات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور کوئی ایسا کام کرنے سے شعور کی گہرائیوں سے مجتنب رہتے ہیں جوخدائے تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتا ہو۔ ایسے ہی لوگوں کی خدائے عزوجل نے تعریف کی ہے جومصیبت اور آفت کے وقت صبر وثبات کی شاہراہ اختیارکرتے ہیں۔ خدائے بزرگ وبرتر نے ایسے لوگوں کی ہی خداترس اور صادق قرار دیا ہے، صبر قانون الہٰیہ ہے۔ صبر کا مفہوم یہ قطعاً نہیں کہ انسان کسی سے کچھ نہ کہے اور حق بات کرنے سے منہ بند کرے بلکہ صبر سے مراد یہ ہے کہ انسان خیر کے کام میں ہر حال میں اَٹل رہے ۔بہرحال آج امت مسلمہ اسلامی تعلیمات پرجان وتن سے عمل پیرا نہیں ہے، اگر اہل ایمان آج بھی اسلام کی عالی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں تو ان کی دنیا خود بخود امن وسلامتی کاگہوارہ بن جائے گی۔ اس لیے سطح ارض پر جہاں جہاں امت مسلمہ کا درد رکھنے والے بندگان خدابستے ہیں ،ان کی اعلیٰ اور اولین ترجیحات یہی ہونی چاہئیں کہ کس طرح سے فرقہ بندی، تنگ نظری، منافرت اور تعصب سے مسلم معاشرہ کو پاک و صاف کیا جائے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایمان والا اپنی ذات اور اپنے گھر سے اصلاح کاکام شروع کرے ،اپنے نوجوان بچے بچیوں اور خواتین کی اسلامی تربیت کرے ،سماجی خرابیوں اور سماجی جرائم کی بغرض اصلاح نشاندہی کرے تاکہ ہماری آئندہ نسل اخلاقی تباہی کے دلدل میں دھنس جانے سے بچ سکے اور قوم مسلم موجودہ اضطرابی اور جان لیوا کیفیات سے نکالا باہر کی جاسکے۔ آج کے پُرآشوب دورمیں جس طرح سماجی خرابیوں نے پاؤں پسارے ہوئے ہیں، اس کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل کے لئے بہت زیادہ مشکلات کھڑی ہوگئی ہیںاور ایک ایسا ماحول بنایا جارہا ہے جس میں انسانیت و شرافت کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہورہا ہے۔ ہمارا نوجوان جوہماری جان اور جگر ہے، جوہمارا مستقبل ہے ،جس کی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہماری ذمہ داری ہے ، جن کو برے ماحول اور بری عادات سے بچانا ہمارا فریضہ ہے اور بروقت مسلم نوجوان کو آنے والے خطرات سے آگاہ کرنا ہمارا مشغلہ ہے، اس کام کی انجام دہی کے لئے ہمیں کمر ہمت باندھ لینی ہوگی ۔ یہ امر حق ہم ذہن نشین کریں کہ جس کسی معاشرے میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اچھے اخلاق اوراچھے کردرا کے مالک ہوتے ہیں وہ معاشرہ صحیح معنوں میں دنیا کو بھی جنت کا نمونہ بناتے ہیں۔لہذا اس جنت کی تعمیر ممکن بنانے کے لئے وقت کی اذان اور حالات کا تقاضا یہی ہے کہ بالعموم پوری قوم مسلم اور بالخصوص علماء کرام واعظین عظاام اور ملت کے ذمہ داران سب مل کر اپنی نوجوان نسل بچے اور بچیوں کی فکر یں کریں۔ ایسے مشکل ترین حالات میں قائدین ملت زعمائے قوم اور روسائے قوم کے اوپر یہ واجب بنتا ہے کہ نئی نسل کو کیسے راہ راست پر لگایا جائے تاکہ ہمارا معاشرہ خرابیوں سے برائیوں سے اور جرائم سے پاک ہو۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ نصیب ہوکہ جس میں بڑوں کا ادب، ماں باپ کااحترام ، کمزوروں سے پیار ، چھوٹوں پر شفقت ، پڑوسیوں سے ہمدردی اور انسانیت نوازی کی ایسی تعلیم و تربیت کا ایسا اہتمام ہو کہ ہر پیر وجوان لامذہبیت اور غیر ذمہ داریت کے اندھے کنوئیں میں گرجانے سے بچ جائے اورسب لوگ دین اسلام کے خوشگوار سایہ دار درخت کی چھاؤں تلے جمع ہوں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کے ذہن ودماغ کو اس قدر تقویت وعروج ملے کہ مادیت کے دام فریب سے نکل کر وہ روحانیت اور اصلاح کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو جائیں تاکہ اس دور کے فتنوں اور ہر طرح کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے یہ تیار رہیں۔ اس کے لئے ہمیں شریعت اسلامیہ کے ایسے دروسِ ہدایت عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کی تاثیر وچاشنی سے خدا اور رسولؐ کی اطاعت وفرمان برداری ہم سب کے رَگ وریشے میں پیوست ہو جائے ۔ اسی چیز کی بدولت ہم خدابیزار اور حق ناشناس تہذیب وتمدن اور طرز حیات کی جھوٹی چمک دمک میں بہکنے سے بچ سکتے ہیں۔ یہ کام اپنے اپنے دائرہ اثر ہر ایمان والے کی ذمہ داری ہے اور یقینا  مکلف بھر ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے کل قیامت کے روز خدائے تعالی ہم سب سے ضرور پوچھے گا کہ ہم نے برائیوں اور بگاڑ کو روکنے کے لئے کیا کوششیں کیں۔ا للہ تعالیٰ ہمیں صالح معاشرہ کی تعمیر کے لیے ودسرے مخلص اور ہدایت یافتہ بندگان خدا کے ساتھ شانے سے شانہ ملاکر بیدار ہو نے اور ظلمت و گمرہی کے بادل ہٹانے میں اپنی مدد فرمائے۔ کسی شاعرنے یہ ناصحابہ شعر شاید اسی صورت حال کے پیش نظر کہاہے   ؎
ظلم بچے جَن رہا ہے ہر کوچہ وبازارا میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے
رابطہ نمبر  9596664228
E-mail.-  [email protected]