ناصر شاہ کشمیری
عصرِ حاضر میں انسان نے ترقی کی منازل طے کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔دن بہ دن نئے نئے تجربات کئے جارہے ہیں۔معاشی بحران کےخاتمے کے لئے تحقیق کی جاتی ہے۔کارباری سرگرمیوں میں نِت نئی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں اور تعلیمی خسارے کی تلافی پر زور دیا جاتا ہے۔غرض انسان اپنی زندگی پُر سکون، خوشحال اور پُر آسائش بنانے کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کرتا ہے۔ایسے میں اگرچہ انسان بہت سے میدانوں میں کامیاب ہوا ہے،لیکن دورِجدید میں جس چیز کی کمی سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے وہ سماجی اصلاح کاری ہے۔ایک اچھے معاشرے کی بنیاد اسکے مصلحین اور ذمہ دار افراد پر ہوتی ہے۔اگر اصلاح کاری کو ایک صحت مند سماج کی ریڈ کی ہڈی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا،کیونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک حقیقی کامیابی حاصل نہیں کرسکتی ،جب تک اس میں اصلاحِ معاشرہ کا عمل مؤثر انداز میں جاری نہ ہو۔زندگی کے دیگر شعبوں میں پائی جانے والی کمزوریاں کسی نہ کسی حد تک دور کی جاسکتی ہیں لیکن اگر معاشرے میں اصلاح کاری کا فقدان ہو تو ایک غیر مہذب اور ناکام معاشرے کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔
اصلاح کاروں میں سماج کے بڑے اور بزرگ لوگوں کا عمل دخل نہایت ہی ضروری ہے۔سماج کے ذی عزت شہریوں سے ایک مؤثر اور سود مند پیغام جاتا ہےاور ایک بہترین سماج کی بنیاد پڑتی ہے۔افسوس کہ آج بڑوں کا احترام اور انکی توقیر کا خیال نہ رکھا جاتا ہے انکا کہا اور انکے نصائح جو انسان کی شخصیت کے لئے مشعل راه، ثابت ہو سکتے تھے کو آج نظر انداز کیا جاتا ہے۔انکے ساتھ بدکرادری کے ساتھ پیش آنا اب رواج جیسا بن گیا ہے وہ بزرگ جنکے سامنے بات تو کیا سر ہلانے کی بھی جرأت نہ کی جاتی تھی ۔اساتذہ کا کردار بھی اصلاح کاروں میں سرفہرست ہے۔بچے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ استاد اسکی تربیت پر بھی زور دیتا ہے۔اسکی ذہنی نشونما اور اخلاقی قدریں بھی استاد ہی سکھاتا ہے۔سماج میں ایک اچھے انسان کی بنیاد اگر پڑتی ہے تو اسکے پیچھے ایک استاد کا ہاتھ ہوتا ہے۔دل اس وقت نہایت ہی تنگ ہوتا ہے جب استاد سے اسکے اختیارات چھینے جاتے ہیں۔وہ اختیارات اور حقوق جنکی وجہ سے بچہ مستقبل میں ایک روشن دیے کے طور سامنےآتا ہے۔اسی استاد کی معمولی ڈانٹ ڈپٹ کو اب ٹارچر کا نام دیا جاتا ہے۔اس پر طرح طرح کی زیادتیاں کی جاتی ہے وہ استاد جسے کبھی قوم کا معمار نام دیا گیا تھا۔اسی استاد کو اللہ بچائے زلیل کیا جاتا ہے وجہ کیا ہوتی ہےکہ اس نے کسی بچے کو ادب سکھانے کی کوشش کی ہوتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہی استاد بددل اور کم ہمت ہوتا ہے،اسکے جذبے میں کمی آتی ہے۔
جسکی وجہ سے سماج میں ایک نہایت ہی ذمہ دار اور عزت دار اصلاح کار کی کمی ہوتی ہے۔والدین بھی اصلاح کاری میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔اولاد کی بنیادی ضروریات کے علاوہ اسکی تربیت بھی کافی اچھے ڈھنگ سے کرتے ہیں۔بچے بڑے ہو کر انکا نام روشن کریں گے یہ توقع اپنے بچوں سے رکھتے ہیں.لیکن جب بچوں کا قد کچھ بڑھ جاتا ہے تو یہی بچے روگردان ہو کر خود فیصلے لینا شروع کرتے ہیں۔اپنے آپکو افلاطوں سمھجنے لگتے ہیں جیسے وہ سب کچھ ماں کے پیٹ سے ہی سیکھ کر آئے ہوتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہی بچے اپنے پیارے اور شفیق والدین کی شفقت اور نہایت ہی بیش قیمتی باتوں سے محروم رہتے ہیں۔علماء کرام سماج میں آئینے کا کام کرتے ہیں۔کافی عزت و اکرام کے حقدار ہیں۔دورِ جدید میں ان سے بھی منہ موڑا جاتا ہے انکی باتوں سے انسان ٹس سے مس نہ ہوتا ہے۔انسانی فطرت کا خاص اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر اچھے کام کو سراہا نہ جائے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب انسان بددل ہوتا ہےجسکی وجہ سے سماج میں خیرخواہی اور اصلاح کاری کا کام ہونا بند ہوتا ہے اور سماج میں برے کام اور جرائم بڑھنے
لگتے ہیں۔غرض اس بات کی ہے کہ سماج میں جتنے بھی مصلحین ہیں ان کی باتوں اور مشوروں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔موجودہ دور میں اپنے آپکو خود احتسابی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب انسان کو کوئی بولنے اور سمجھانے والا نہ رہ جائے تو سمجھ لینا کہ وہ زندہ لاش کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔انسان اس چیز کو خوش بختی سمجھیں کہ کوئی بولنے،پوچھنے اور سمجھانے والا ہے۔سماج کے جتنے بھی اصلاحی تحریکیں اور کام چل رہے ہیں انکے ساتھ اپنے آپکو جوڑیں اور اپنی زندگی کو ایک طرح دیں ورنہ خدا نخواستہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ کوئی بتانے والا نہ رہے گا ناہی کوئی ذمہ دار شخص کے طور سماج میں آگے آئے گا۔اللہ ہمیں سماج میں ایک ذمہ دار اور خیرخواہ فرد کے طرح اپنے فرائض انجام دینے کا حوصلہ عطا کرے۔ آمین
(رابطہ۔ . 7889583930)
[email protected]