اسمبلی حلقوں میں بھاری پھیر بدل کے خلاف پورے جموں صوبہ میں عوامی جذبات انگیخت

 پوگل پرستان کو بانٹنے کیخلاف تمام سیاسی جماعتوں کا اْکڑال میں احتجاج

 کہا مذہب کی بنیاد پر علاقوں کی تقسیم کی اجازت نہیں دی جائیگی ،آج کل جماعتی اجلاس طلب

محمد تسکین
 رام بن // ضلع رام بن کے حلقہ انتخاب بانہال کی تحصیل اْکڑال پوگل پرستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی جماعتوں نے حد بندی کمیشن کی مجوزہ ڈرافٹ سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے اس مسودہ رپورٹ کے خلاف تحصیل صدر مقام اْکڑال میں احتجاجی مظاہرے کئے اور حد بندی کمیشن کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس احتجاجی مظاہرے میں کانگریس کے لیڈر اور سابقہ این ایس یو آئی صدر فیروز خان ، ریاض احمد میر نیشنل کانفرنس لیڈر ، ایڈوکیٹ ارون سنگھ راجو کانگریس لیڈر ، کرلیپ سنگھ دیہی ترقیاتی کونسل چیئرمین اْکڑال پوگل پرستان ، فاروق احمد کٹوچ کانگریس صدر برائے ضلع رام بن ، پینتھرس پارٹی لیڈران کے علاوہ سماجی سیاسی اور سول سوسائٹی کے کارکنان موجود تھے۔اس موقع پر لیڈروں نے عام لوگوں سے بات چیت کی گئی اور اْکڑال مارکیٹ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس موقع پر مقررین نے حد بندی کمیشن کی طرف سے حلقہ انتخاب بانہال کے پوگل پرستان کے علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے پوگل اور پرستان کو رام بن اور بانہال میں تقسیم کرنے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک مخصوص جماعت کی ایما پر کی گئی تقسیم قرار دیا ہے۔ انہوں نے پوگل پرستان کو مذہب کی بنیادی پر تقسیم کر نے اس کوشش کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اسے ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوگل پرستان کی زبان ، ثقافت ، تہذیب و تمدن اور زبان کو تار تار کرنے کی کوشش کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب ڈویڑن رامسو پوگل پرستان کو یا تو مکمل طور بانہال سے یا رام بن سے جوڑا جائے نہ کہ اس آپسی بھائی چارہ اور علاقائی روایات کو تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کمیشن نے سب ڈویڑن گول کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے جس میں سنگلدان کو رام بن میں اور گول کو قریب ایک سو کلومیٹر دور حلقہ انتخاب بانہال کے ساتھ جوڑنے کی تجویز حد بندی کمیشن کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ مقررین نے سیاسی جماعتوں کے تمام پارٹی کے کارکنوں اور عام لوگوں سے احتجاج درج کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ اس ناانصافی کے خلاف آواز کو بلند کیا جاسکے۔بدھ کے روز ہوئے احتجاج کے بعد آج یعنی جمعرات کے روز رام بن میں ایک کل جماعتی اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کو طے کیا جاسکے۔ 
 

سرحدی پنچایتوں کورام گڑھ میں شامل کرنے پر سخت برہمی

سچیت گڑھ اسمبلی حلقہ کو آر ایس پورہ میں شامل کرنے پربھی احتجاج جاری

سید امجد شاہ
جموں// ضلع سانبہ کی دو پنچایتوں نے حد بندی کمیشن کی مسودہ رپورٹ کی مخالفت کی ہے جس میں ان کے ساتھ ناانصافی کا دعویٰ کیا گیا ہے کیونکہ انہیں مقامی لوگوں سے مشاورت کے بغیر دو اسمبلی حلقوں سے جوڑا گیاہے۔دھیانی پنچایت کے سرپنچ پردیپ کمار نے کہا"ہماری دھیانی پنچایت سانبہ ضلع میں جموں پٹھانکوٹ ہائی وے کے قریب واقع ہے۔ تاہم ہمیں نئے بنائے گئے رام گڑھ حلقے میں ضم کر دیا گیا جو ہم سے 35 کلومیٹر دور ہے" ۔کمار نے کہا "ہم اپنی پنچایتوں کے رام گڑھ کے ساتھ ضم ہونے سے سخت مایوس ہیں جو جغرافیائی طور پر ہم سے بہت دور ہے۔ ہم سانبہ اسمبلی حلقہ میں آتے ہیں اور ہمیں دوبارہ سانبہ کے ساتھ رکھا جانا چاہیے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اپنی نمائندگی تیار کر رہے ہیں جو حد بندی کمیشن، ڈویژنل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سانبہ کے سامنے پیش کی جائے گی"۔انہوں نے کہا کہ لوگوں میں سخت ناراضگی ہے اور کمیشن کو مذکورہ پنچایتوں کو سانبہ اسمبلی حلقہ کے اندر رکھنے کے ہمارے مطالبہ پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ سانبہ ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے قریب بنگلاڈ اور پنگڈور جیسی پنچایتیں اور رام گڑھ اسمبلی حلقہ (ایس سی کے لیے ریزرو) میں شامل ہونے کی مستحق تھیں، کو بلاجواز طریقے سے سانبہ اسمبلی حلقہ کا حصہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا "ان دونوں پنچایتوں نے بھی مسودہ رپورٹ کی مخالفت کی تھی اور غالب امکان ہے کہ وہ بھی کمیشن کے سامنے اپنی نمائندگی پیش کریں گے اور ان پر زور دیتے ہوئے مجوزہ حلقہ میں ترمیم کریں گے"۔دریں اثناء  لوگوں نے سچیت گڑھ اسمبلی حلقہ کو آر ایس پورہ میں شامل کئے جانے کے خلاف احتجاج جاری رکھا اور کمیشن کی تجویز پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
 

 مسودہ رپورٹ کو لیکر بونجواہ و درابشالہ کی عوام سراپا احتجاج

بونجواہ کو درابشالہ و سرتھل کیساتھ ملاکر الگ نشست بنانے کا مطالبہ

عاصف بٹ
کشتواڑ//حدبندی کمیشن کی عبوری رپورٹ کومسترد کرتے ہوئے جہاں چناب خطہ کی عوام سراپا احتجاج ہے وہیں ضلع کشتواڑ کے علاقہ بونجواہ کی عوام نے بھی اس رپورٹ کو لیکر بونجواہ میں تحصیل ہیڈکوارٹر پر احتجاج کیا۔جہاں بونجواہ پہلے اندروال میں ہوا کرتا تھا وہیںاب اسے مغل میدان کی نشست بناکراسکے ساتھ مڑواہ و واڑون کا علاقہ جوڑدیاگیاہے جسکو لیکر لوگ سراپا احتجاج ہیں۔اس موقعہ پر معزز شہریوں نے بتایاکہ انہیںاس ڈیجیٹل دور میں الیکشن کمیشن نے ایسا سبق سکھایا کہ جووہ بھول نہیں سکتے ۔انہوںنے کہا ’’ علاقہ میں پندرہ ہزار سے زائد ووٹر ہیں اوروہ اپنی نشست کے حقدارتھے،علاقہ جہاں ایک طرف ہماچل تو دوسری طرف پاڈر اور اننت ناگ سے ملتا ہے ،نئی نشست بناکر ہمیںکہیں کا نہیں چھوڑا گیا۔اگر ہمارا کوئی ایم ایل اے مڑوہ یا واڑون سے بنکرآتاہے تو ہمیں تین روز کا سفرکرکے انکے پاس  اپنی مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے جانا ہوگاجو ہمارے ساتھ سراسر ناانصافی ہے‘‘۔انھوں نے بونجواہ کو الگ کرنا انہیںمنظور نہیں ہے۔ اس دوران درابشالہ میں بلگران و چموتی کی عوام نے کمیشن کی رپورٹ پر اعتراض جتایا۔انھوں نے کہا کہ انھیں مغل میدان کے ساتھ جوڑا گیا ہے جہاں انھیں پہنچنے میں کئی دشواریاں ہونگی۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ انھیں کشتواڑ یا پھر پاڈر نشست کے ساتھ رکھا جائے ۔ انھوں نے حدبندی کمیشن سے اپیل کی کہ انکے مطالبات پرغور کیا جائے۔
 

گول میں کمیشن رپورٹ کے خلاف بیزاری بڑھنے لگی

سیاسی جماعتیں اور عوام سیخ پا،کہا تقسیم منظورنہ گول اسمبلی حلقہ کا خاتمہ 

زاہدبشیر
گول//گول میں کانگریس کے لیڈر گلزار احمد وانی ، نائب سرپنچ گول سی غلام جیلانی ، سرپنچ گول بی حافظ عبدالطیف ، سنگلدان سے کانگریس لیڈر محمد امین بٹ اور بشیر احمد بٹ ادھر داڑم علاقے میں ڈی ڈی سی ممبر چوہدری سخی محمد اور بی ڈی سی چیر پرسن جاوید اقبال منہاس نے گول ارناس حلقہ انتخا ب کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کو ایک سازش قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹ نہیں بلکہ یہ بی جے پی کی رپورٹ ہے اور ان ہی کے اشاروں پر یہ کمیشن چل رہا ہے جو زمینی اور جغرافیائی حقیقت کو بالائے طاق رکھ کر من مرضی سے اپنا کام چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ انتخاب گول ارناس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا اور اس کا وجود ہی ختم کیا گیا ، ایک حصہ مہور حلقہ انتخاب کے ساتھ ، ایک ریاسی کے ساتھ ، ایک رام بن کے ساتھ اور ایک بانہال کے ساتھ جوڑا گیاجس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس حلقہ انتخاب کے ساتھ کس طرح کا ظلم ڈھایا جا رہا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ اس سلسلے میں یہ پہلا قدم ہے اور گول سب ڈویژن کے تمام سیاسی لیڈران ، سرپنچ ، پنچ ڈی ڈی سی ، بی ڈی سی مل کر ایک لائحہ عمل تیار کریں گے جس میں سماجی و سیاسی تنظیموں کے لیڈران ایک ہو کر اس کمیشن کی بھر پور مخالفت کر کے احتجاج شروع کریں گے ۔ وہیں اس دوران نیشنل کانفرنس کے ڈی ڈی سی ممبر گول داڑم چوہدری سخی محمد نے علاقہ داڑم میں کہا کہ اس ظلم کے خلاف زبردوست طریقے سے آواز بلند کی جائے گی اور گیارہ تاریخ کو فیصلہ لیا جائے گا ۔ادھر عام لوگوں نے بھی حد بندی کمیشن کی رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف کسی ایک طبقے ، ذات ، علاقے کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے اور اس کا وجود مٹایا جا رہا ہے بلکہ یہ پورے سب ڈویژن گول کو تہس نہس کرنے کی ایک مضموم کوشش ہے جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر سرکار و انتظامیہ اور کمیشن نے اس رپورٹ کو واپس نہیں لیا یا اس پر نظر ثانی نہیں کی تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے ۔
 
 

حدبندی رپورٹ انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی ایک چال کے سوا کچھ نہیں

رپورٹ میں جغرافیائی تسلسل اور آبادی کے لحاظ سے سنگین تضادات ہیں:نغمہ

نیوز ڈیسک
جموں// معروف ہندوستانی فلم اداکارہ اورآل انڈیا مہیلا کانگریس جنرل سکریٹری انچارج برائے جموں و کشمیر نغمہ اروند موراجی نے بدھ کوایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں حد بندی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اور دیگر علاقائی اور قومی مسائل سمیت مختلف مسائل پر روشنی ڈالی۔ بی جے پی حکومت کو متعدد محاذوں پر 'مایوسی' قرار دیتے ہوئے انہوں نے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم مودی کی حالیہ تقریر کی بھی مذمت کی جس میں آج کے مسائل کا الزام کانگریس پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان کی ناکامیوں اور مہنگائی، بے روزگاری جیسے حقیقی خدشات کو دور کیا جا سکے۔ حد بندی رپورٹ کے مسودے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تجویز میں جغرافیائی تسلسل اور آبادی کے لحاظ سے سنگین تضادات ہیں۔ حد بندی کمیشن کی افشا ہونے والی ابتدائی رپورٹ سے عام لوگوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے اور کمیشن کو بجا طور پر ڈیوسٹیشن کمیشن کہا جانا چاہیے۔ کمیشن اس بری طرح ناکام ہوا ہے کہ اب بی جے پی کے اپنے ممبران اس عمل کی مخالفت کی تحریک میں شامل ہو گئے ہیں۔ پہلے صرف اپوزیشن پارٹیاں ہی آواز اٹھاتی تھیں لیکن اب خود بی جے پی کے اندر ہی اختلاف ہے ۔انہوںنے کہا کہ امیدیں تھیں کہ حد بندی مواصلات اور رابطے کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے ہو گی اورپرانے طریقوں کو بہتر بنایاجائے گا لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان فیصلوں میں کوئی آئینی پیرامیٹرز استعمال نہیں کیے گئے۔ یہ محض بھارتیہ جنتا پارٹی کے پروپیگنڈے کو فروغ دیتا ہے، مضبوط فرقہ وارانہ سوچ رکھتا ہے اور تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی ایک چال کے سوا کچھ نہیں ہے۔پی ایم مودی کی پارلیمنٹ تقریر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نغمہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے عوام کے حقیقی خدشات کو دور نہیں کیا جو اپوزیشن کے ذریعہ اٹھائے گئے تھے لیکن کانگریس پارٹی پر حملہ کرنے کی اپنی پرانی عادت کو جاری رکھا۔ بی جے پی کا آخری لمحات میں اہم خدشات کو نظر انداز کرنے اور گھمنڈ بھری تقریریں کرکے عوام کی توجہ ہٹانے کی پی ایم مودی کی صلاحیت پر پیچھے ہٹنا تھا۔ لوگوں کو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ پی ایم مودی نے بھی تقریر میں ایک لکیر پار کر کے پارٹی پر سستے طعنے کسے اور اپنی تقریر سے ایک بار پھر ملک کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔ بالی ووڈ اداکارہ نے نجکاری کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی نجکاری کی مہم عقل اور منطق سے نہیں چلتی۔انہوں نے جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر بھی بات کی اور مودی سرکار پر اس کے تدارک کے لیے کوئی اقدامات نہ کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری عروج پر ہے اور اسے کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر بی جے پی جموں و کشمیر کو مکمل ناکامی اور تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ اندو پوار (سابق ایم ایل اے) صدر پردیش مہیلا کانگریس اور کئی کانگریس کارپوریٹرس اس موقعہ پر موجود تھے۔
 

جموں مسلم فرنٹ نے بھی رپورٹ کو مسترد کر دیا

جموں// جموں مسلم فرنٹ کے سینئر لیڈروں کی ایک ہنگامی میٹنگ میں حلقہ بندیوں کے کمیشن کے غیر معقول انداز میں حلقہ بندیوں کو دوبارہ ترتیب دینے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرنٹ لیڈروں نے پونچھ راجوری کو اننت ناگ کے ساتھ جوڑنے کے اقدام پر تنقید کی ہے جس نے کمیشن کے کام کاج پر ایک سنگین سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس نے حق رائے دہی کی از سر نو تشکیل کرتے ہوئے بے مقصد انتقامی کارروائیاں کی ہیں۔پریس نوٹ میں ملک کے عدالتی نظام کے بارے میں مزید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو 5 اگست کے حکم نامے کو چیلنج کرنے والی رٹ پٹیشن پر سو رہا ہے۔جے ایم ایف نے صدر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حساس ریاست کو بچائیں جو بدامنی کی لپیٹ میں ہے، جہاں عدم تحفظ عروج پر ہے نوجوان سڑک پر ہیں اور حد بندی کی رپورٹ نے عوام کو مزید الگ کر دیا ہے اور لوگوں کا نظام حکومت سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔مزید کہا گیا کہ حکومت کو اس انتقامی تجویز پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اسے ختم کرنا چاہیے۔
 

شرنارتھی فورم بھی سیخ پا،رپورٹ کو جمہوریت کا قتل قرار دیا

جموں//آل جے اینڈ کے 1947 شرنارتی دانشور فورم نے اپنی کور کمیٹی کے ارکان کی ایک ہنگامی میٹنگ ایڈووکیٹ امریک سنگھ کی صدارت میں بلائی اور اس میں فورم کے سکریٹری ایس سرجیت سنگھ نے شرکت کی۔فورم نے جموں و کشمیر حد بندی کمیشن کی ابتدائی رپورٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جو کمیشن کے ایسوسی ایٹ ممبران بشمول جموں و کشمیر ممبران پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی گئی تھی۔بیان کے مطابق پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والی تفویض رپورٹس کے مطابق اگر یہ عملی طور پر درست ہے تو فورم کو لگتا ہے کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے اور یہ عوامی نمائندہ ایکٹ پر منفی ردعمل ظاہر کرے گا کیونکہ 26 ویں سال کے انتظار کے بعد سبز زرعی حلقہ جسے آر ایس پورہ کہا جاتا ہے ایک بار پھر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فورم نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ سچیت گڑھ حلقہ کو آر ایس پورہ میں ضم کرنا دیہی ووٹروں کے ساتھ بڑی ناانصافی ہے۔
فورم نے مزید کہا کہ حد بندی کمیشن نے 1947 کے شرنارتھیوں کے ایک بڑے حصے کو بھی نظر انداز کر دیا تھا جو17 حلقوں میں فیصلہ کن عنصر ہیں اور گزشتہ 75 سال سے انہوں نے دیگر معاشروں کی مقننہ کو منتخب کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا لیکن خود نہیں۔ فورم نے الزام لگایاکہ شرنارتھی برادری میں شدید ناراضگی ہے اور وہ آزاد ہندوستان میں خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں اور انہیں جمہوری حقوق سے دور رکھا جاتا ہے۔فور م نے حد بندی کمیشن کے چیئرمین سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنی ڈرافٹ رپورٹ پر نظر ثانی کریں اور جموں ضلع کے حلقوں کے خاکے کو از سر نو تیار کریں اور آر ایس پورہ حلقہ کی ریزرویشن کے ساتھ ساتھ سچیت گڑھ حلقہ کو مکمل درجہ دیا جائے۔
 

رپورٹ زمینی حقائق اور عوامی خواہشات کے منافی

مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کیلئے ڈرافٹ رپورٹ تیار کی گئی:منجیت سنگھ
سانبہ//اپنی پارٹی صوبائی صدر اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے حدبندی کمیشن کی ڈرافٹ رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ زمینی حقائق اور عوامی لوگوں کی خواہشات کے منافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ رپورٹ جموں خطہ کے ہر شخص اور ہر ضلع کے خلاف ہے اور یہ صرف ایک سیاسی جماعت کو جموں وکشمیر میں آنے والے سیاسی انتخابات میں فائیدہ پہنچانے کے لئے ہے۔سانبہ ضلع میں ایک عوامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لوگوں میں غم وغصہ ہے ، وہ حیران ہیں کہ کیسے کمیشن ممبران نے بغیر صلاح ومشورہ کے رپورٹ تیار کی جس کو وہ مسترد کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں گاؤںکا توازن بگاڑ دیاگیاہے اور کہیں تو پورے حلقوں کو ضم کر دیاگیاہے۔ جموں وکشمیر ہمیشہ بیروکریسی کی بالادستی کا شکار رہا ہے جوکہ ہمیشہ برسر اقتدار سیاسی جماعت کی ہدایت  اور خواہشات کے مطابق کام کرتے ہیں جس سے انصاف کا گلا گونٹا جاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ سماج کے کمزور طبقہ جات کے ساتھ کمیشن کی ڈرافٹ رپورٹ میں دھوکہ ہوا ہے جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور سنجیدگی کے ساتھ صلاح ومشورہ کر نے کے بعد ایک قابل قبول حتمی رپورٹ کمیشن کو پیش کرنی چاہئے۔کمیشن نے جانبدارانہ رویہ کا مظاہرہ کیا اور ایک کو فائیدہ پہنچانے کے لئے دوسرے حلقہ کے حقوق ہی چھین لئے۔ کمیشن نے عوامی مفاد کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے اور ایک سیاسی جماعت جموں وکشمیر کے اندر اقتدار میں آنے کی ہوس کا شکار ہے جوکہ اپنی مرضی ومنشا سے سب کچھ کرا رہا ہے۔