اسلام امن وآشتی کا پیام بر

   اگر غزوات کی اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ امن وآشتی کے واحد علمبردارآنحضورﷺ نے خدا کی راہ میں لڑی والی  جنگ میں بوڑھوں،بچوں اور عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا، اسی طرح جو اطاعت قبول کرلے اس کو بھی معاف کرنے کا حکم دیا ، نیز بدر کی جنگ کے بعد قیدیوں سے حسن سلوک کرکے فتح مکہ کے بعد عام امن و امان کا اعلان کرکے، یہودیوں کی سازشوںکے بعد جلاوطنی پر اکتفا کرکے خیبر کی فتح کے بعد کاشت کے لئے ان کو زمین دے کر امن وامان اور سلامتی وشانتی کی جو مثالیں قائم گئیںوہ اپنی مثال آپ ہیں۔یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ اتنے غزوات کے باوجود دونوںجوانب کے مقتولین کی جو تعداد ہے اس سے کہیںلاکھ گنا زیادہ امن پسندی کا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان ہوئی جنگ وجدل میں کام آئی۔ یہ سب آپ ؐ کی امن پسندی، عفو ودرگزر اور مساعی ٔجمیلہ کا نتیجہ تھا کہ محض چند سالوںکے عرصے میں جو عظیم الشان انقلابی کارنامہ انجام دیا اسے انجام دینے سے پوری کی پوری قومیں، ممالک ، ادارے اور جماعتیںایک لمبے عرصے میںبھی عاجز وبے بس ہیں،۔ آپ ﷺامن وسکون والایہ انقلاب لانے میںاس لئے کہ آپ  ؐتو رحمۃ للعالمین  اور سیدالمرسلین ہیں۔
تربیت یافتہ صحابہ اور امن عالم
 آںحضور ﷺکی بہت ساری پیغمبرانہ خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے بعد صحابہ ؓ  کی ایسی درخشندہ و قابل رشک  جماعت چھوڑدی جو ہمیشہ ہمیش سوفیصد خالص تعلیمات نبوی ؐپر تعلیمات امن پر گامزن رہی، لہٰذا ضروری ہے کہ اس جماعت کے بعض اہم نمونوں کا ذکر باختصار کردیا جائے۔ یوں تو ہر صحابیؓ امن کا پیغامبر اور سلامتی کا خوگر تھا، ہر ایک کا ذکر دشوار ہے، لہٰذا چند پر اکتفاء کیا جاتاہے۔
۱- حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہجب حضور ﷺ کے وصال و انتقال پرملال ہوا تو ہر مسلمان فطری طورپر ایک غم واندوہ کی کیفیت کا شکار ہوگیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابیؓ یہ کہہ بیٹھے کہ جو یہ کہے کہ محمد ؐ کا انتقال پُرملال ہوگیا اس کا سر قلم کردوں گا، لیکن اتنے بڑے صدمہ سے دوچار ہونے کے باوجود اس وقت حضرت ابوبکرؓ نے جس جوانمردی اورغیر معمولی ہمت و استقلال کا ثبوت دیا، وہ بھی امن کے قیام کی ایک بیّن مثال ہے۔ سب سے پہلے آپ ؐنے دلائل سے حضورﷺ کے وصال یعنی رفیق اعلیٰ سے اتصال کو ثابت کیا، پھر منصب امامت کو سنبھالا، اس کے بعد تجہیز وتکفین کے امورات پوری دل جمعی سے انجام پائے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ان اہم کاموں میں ذرا بھی تاخیر ہوتی تو بہت سے مفاسد وجود میں آتے ۔ آپ ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں ہر سو امن کو عام کیا، اور عندالوفات حضرت عمرؓ کو خلیفہ مقرر کرکے امن وصلح جوئی کی راہ کو ہموار کیا۔
۲- حضرت عمررضی اللّٰہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں نظام امن وقیام عدل کے ضمن میں بہت سی نئی راہیں کھول کر تاریخ کازریں باب رقم کیا۔ لوگوں کے حالات و کیفیات جاننے کے لئے آپ ؓ راتوں کوگشت کرتے، ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کی بات کو غورسے سنتے اور صحیح ہوتو اس پر عمل کرتے، امن کی بقا ء کے لئے ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہشہادت کے وقت آئندہ کون خلیفہ ہوگا ،اس کو طے نہیں کیا بلکہ چھ رکنی ٹیم تشکیل دی،جس میںان کے فرزند بھی تھے، لیکن فرمایا کہ وہ مشورہ میںتو شریک ہوںگے لیکن خلیفہ ان کو نہ بنایا جائے گا ۔اگر چاہتے تو بنادیتے اوروہ اس کے اہل بھی تھے، لیکن فساد کا خدشہ تھا ، اس کا پیشگی سد باب کردیا ۔
۳-حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ اپنے سابقہ دو خلیفوں کی راہ پر ہی گامزن تھے، یہاں تک کہ جب فتنہ پروری کا دور شروع ہوا اور بلوائیوں نے ان سے منصب خلافت سے الگ ہوجانے کا مطالبہ کیا، آپ ؓ نے جان عزیز تودے دی، لیکن ان کا ناروا مطالبہ پورا نہ کیا ، کیونکہ آپ ؓ جانتے تھے کہ اگر خلافت ان فسادیوں کے ہاتھ جائے گی تو رہا سہا امن وامان بھی غارت ہوجائے گا۔
۴- حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ آپؓ کا دور فتنوںسے بھر پور اور آزمائشوں کا دور تھا، غیر تو غیر اپنے بھی مخالف ہوگئے تھے اور آپ ؓ کا عہد خلافت راشدہ کا آخری دور تھا جس کی حضورﷺ نے اپنی حدیث میں پیشیں گوئی فرمائی تھی، لیکن ان تمام فتنوں کے باوجود حضرت علی ؓنے آخری دم تک خلافت کے کاروبار کو سنبھالے رکھا، اور امن وامان کے قیام کی ہر ممکن کوشش کی۔ آپؓ کی شہادت کے بعدحضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختصر عرصہ تک کاروبار ِ خلافت سنبھالا اور منصب خلافت سے امن اور اتحاد امت کے وسیع تر مفاد میں دستبردار ہوئے۔ خلافت راشدہ کی ایک جھلک حضرت عمر عبدالعزیزؒ کے زمانے میں بھی زمانے دیکھی ۔انہی بزرگ وبرتر ہستیوں کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج تک وہ ملوکانہ حکومتیں جہاں اسلام کا قائم کردہ نظام باقی ہے، وہاں زیادہ امن وامان ہے، بالمقابل ان حکومتوں کے جن میں اسلامی اصول وقوانین کو نظر انداز کرکے نئے خود پسندانہ اصول واحکام اپنائے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے درجات بلند فرمائے، اور پھر وہ سنہری دورِ لائے جو امن وامان اورعدل و انصاف کا دور کہلاتاہے ۔ آمین۔
حضور ﷺکا قیام امن کے لئے امکانات فساد کا قلع قمع کرنا
جس طرح اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے اقوال وتعلیمات اور اخلاق وکردار کے ذریعے امن وعدل کی تعلیم دی، اسی طرح اس نبی رحمت ؐنے ظلم وشقاوت کی دنیا کو امن وسعادت کا گہوارہ بنانے کے لئے دنیامیں بدامنی وخونریزی کے جواسباب ہوسکتے تھے ، ان کوایک ایک کرکے ختم کردیا۔
۱- شہنشاہیت: دنیا میں فتنہ وفساد کا بڑا سرچشمہ شہنشاہیت رہی ہے،۔تاریخ شاہد ہے کہ قصر شاہی کی آبادی ورونق کے لئے رعیت کی جھونپڑیاں ہمیشہ اجڑتی رہی ہیں، پیغمبر اسلامﷺ نے سب سے پہلے فتنے کی اس جڑ کو صاف کیا۔ قرآن میں ہے :اور خدا کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو اپنا پروردگار قرار نہ دے‘‘۔ یہاں تک کہ جب وفدِ بنی عامر نے آپؐ سے کہا : ’’ أنت سیدنا‘‘ آپؐ ہمارے سردار ہیں ،تو آپؐ نے جواب دیا: ’’ السید اللّٰہ تبارک وتعالیٰ‘‘ سردار تو اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔
۲- سرمایہ داری یہ بھی امنِ عالم کے لئے بڑا فتنہ رہی ہے۔ اسلام نے ہر انسان کو وسائلِ معیشت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا، لیکن کمانے اورخرچ کرنے کے طریقوں اورشکلوںپر ایسی پابندیاں عائد کردیں جس سے دولت چند افراد کا سرمایہ بن کر نہ رہ جائے۔اسلام نے ذخیرہ اندوزی،سود ، قمار(جوا) وغیرہ کو ممنوع قرار دے کر وراثت، زکوٰۃ، عشر وغیرہ ، تقسیم دولت کی صورتوں کو لازمی قرار دیا۔
۳- وطنیت:یہ بھی ہمیشہ سے ایک ایسا بت رہی ہے جس پر ہزار ہا انسانوںکے سروں کے چڑھاوے چڑھتے رہے۔اس سلسلے میں حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ لا فضل لعربي علی عجمي ولا لأحمر علی أسود‘‘ عربی النسل کو عجمی النسل پر اور سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر کوئی برتری حاصل نہیں۔
۴- مذہبی منافرت : اسلام نے پیغام محمدیؐ کے قبول کرنے والے کے لئے تمام پچھلے پیغمبروں ؑاور ان کے صحیفوں پر ایمان لانا ضروری قرار دیا، اس اقرار کے بغیر کوئی شخص مسلم تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
۵- انتقام در انتقام: یہ چکر بھی ہمیشہ دنیا میں خون کے طوفان برپا کرتارہا، خود جزیرۃ العرب بعثت محمدی ؐسے پہلے اس طوفان کی موجوں میں گھرا ہو اتھا، چراگاہوں میں ، میلوںمیں، یا شاعروں کی مجلس میں کسی بات پر جھڑپ ہوجاتی تو سینکڑوں تلواریں نیام سے باہر نکل آتی تھیں، اور پھر برسوں اورصدیوں تک ان کی برق افشانی جاری رہتی تھی، انتقام کے اس مجنونانہ جذبے میں مجرم وغیر مجرم اور حق وناحق کا کوئی فرق باقی نہ رہتا تھا، اسلام نے سب سے پہلے اس حقیقت کا اعلان کردیا کہ خدا کی مخلوق کے درمیان پیدا ہونے والے جھگڑوں کا فیصلہ خدا ہی کے مقرر کردہ قانون کے مطابق اس حکومت کے ذریعے ہونا چاہئے، جو اس قانون کے نفاذ کے لئے قائم ہوئی ہے، قرآن میں ہے : ’’ إن الحکم إلا للّٰہ‘‘ حکومت اور فیصلہ کا حق صرف خداہی کو حاصل ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات امن اور دیگر مساعی امن : ایک موازنہ
انسان چاہے کتنا ہی براکیوں نہ ہو، وہ امن وسکون کا طالب ہوتاہے، یا پھر ہر زمانے میں کچھ نہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو امن و امان سکون اورشانتی اور سلامتی کے خوگر ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر شروع زمانے سے اللہ تعالیٰ نے بھی ہر زمانے میں اس مقصد کی تکمیل کے لئے انبیائے کرام ؑ کو بھیجا، چوںکہ حضورﷺ سے پہلے جو انبیائؑ آئے، ان کا ایک محدود دائرہ مکان وزمان کے اعتبار سے ہوتا اور ان کی تعلیمات اس دائرے سے خارج نہیں ہوتی۔  مختلف زمانوں میں انسانوں میں سے خود بھی بعض مصلح بن کر ابھرے اور ان میںسے ہر ایک کا مقصد اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں امن وامان کو قائم کرناہی تھا، لیکن بعد کو ان کے متبعین نے ان تعلیمات کو اپنایا نہیں اور انہیں باتوں میں وہ گرفتار ہوگئے جس سے ان کو روکا گیا تھا۔ اسی طرح حضورﷺ کے زمانے میں دو نبیوں ؑکی امتیںموجود تھیں :ایک حضرت موسیٰؑ کے ماننے والے یہود تو دوسرے حضرت عیسیٰ ؑکو ماننے والے نصاریٰ۔ لیکن یہ بھی اپنی تعلیمات کو کھو چکے تھے، بجائے امن وامان کے فساد وتخریب کے داعی بن گئے تھے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے کچھ مذاہب کا وجود بر وقت اور بر محل بھی ہوا لیکن اس کو دوام حاصل نہ ہوسکا۔ اسی طرح حضورﷺ کی آمد کے بعد بھی حضورﷺ کی تعلیمات کو صحیح نہ سمجھنے کی بنا پر مختلف زمانے میںامن وسکون کے حصول کے لئے مختلف کوششیںکی گئیں، کبھی جمہوریت کو ہر مرض کی دوا سمجھا گیا، تو کبھی اشتراکیت کا نعرہ لگایاگیا، لیکن ان میں سے کسی کو دوام نہ حاصل ہوسکا۔ یہودیوں نے اپنے مذہب میں اتنی سختیاں ایجاد کرلیں کہ جو عمومی طور انسان برداشت نہ کرسکے، عیسائیت میں امن وامان اور عفو ودر گذر پر اتنا زور دیا گیا کہ انصاف وعدل کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا، جین مت وبدھ مت ودیگر مذاہب میں ایک تو مکمل تعلیمات تھی ہی نہیں، اگر تھی بھی تو انسانی فطرت کے مطابق نہ تھی، کیوںکہ وہ ایک انسان کے تجربات کا نتیجہ تھے، جس میں ہر لمحہ غلطی کا امکان رہتا ہے۔ جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے تو بقول علامہ اقبال ’’شہنشاہیت کے چہرے پر جمہوریت کی نقاب ڈال دی گئی، ایک مہذب اور ہر طرح سے مکمل دستوری ڈھانچہ ایسا تیار ہوا جس میں مہذب انسان کو فریب او ر دھوکہ بازی کے سوا کچھ نہ ملا، ایک دو یا اس سے زیادہ سر برآورہ طبقات نے تمام طبقات کے حقوق چھین کر اپنی تجوریاں بھرلیں، پہلے نوابوں اور راجاؤں کا دور دورہ تھا، جمہوری نظام میں وزرائے عالی مقام نے وہ پوزیشن سنبھال لی‘‘۔
اشتراکیت کا بھرم بھی کھل گیا، ایک خونی ڈرامہ جو ستر سال تک مادی مساوات کے نام پرجمہور کو جانوروں کی سطح پر رکھنے کا چل رہا تھا، وہ ختم ہوا، اور یہ بھی معلوم ہو کہ سویت یونین کی اشتراکیت اور نازی اشتراکیت کے درمیان سخت جنگ تھی۔ سائنس وٹکنالوجی کے اس زمانے میں ایجادات کو امن کا ذریعہ سمجھا گیا، اور امن کی بحالی کے لئے اس کا استعمال کیا گیا، لیکن ہم اپنے گردوپیش کے حالات سے بے خبر نہیں ہیں، ہمیں بھی وہ ہلاکت آفرین ایجادات بھی نظر آتی ہیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان ایجادات نے انسان کو اتنا فائدہ نہیں پہنچایا ہے جس قدر ان سے نقصانات ہوئے ہیں، فیکس انٹرنیٹ، ٹی وی سے صرف جھوٹ موٹ کی خبریں اور فحاشی ہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ رذائل کا ایک سیلاب بھی گھرگھر داخل ہوگیاہے۔ اسی طرح اس وقت ہر تاجرو ملازم پیشہ اور کاریگر ومزدورمقروض ہے، سود کی وبا اس قدر عام ہے کہ کوئی شخص چائے کی ایک پیالی بھی پیتا ہے تو اس میں سود کا تخم موجود  ہوتاہے۔
 ان تمام آلائشوں کے برعکس اسلام نے زندگی کا پیغام ہر انسان کوزندگی کے ہر میدان میںدیا ہے۔اس کا نظام عقوبت بھی عدل پر قائم ہے، قتل کا بدلہ قتل عادلانہ نظام کا ثبوت ہے، کیوں کہ اسی سے قاتلوں کی ہمت شکنی ہوتی ہے اور دوسروںکو عبرت ہوتی ہے۔اس کے برخلاف رومن قانون پر چلنے والی عدالتوں میں ہر جرم کی پرورش ہوتی ہے کیوں کہ قاتل کو معلوم ہے کہ ضروری نہیں کہ اس کو سزا ملے، سفارش ، رشوت اور وکلاء کی مہارت سے ہزاروں قاتل بچ گئے اور لاکھووں بے گناہ مارے گئے، چور کی سزا اسلام نے جو مقرر کی ہے اس پر ساری دنیا میں واویلا ہے، اسلامی قانون کو جنگل کا قانون، بے رحمی اور شقاوت کا عنوان دیا جاتاہے مگر حقیقت یہی ہے یہی قانون ضمیروں پر پہرہ داری کا کام دیتاہے اور برے کاموں سے انسانی معاشروں کو بچاتا ہے ۔ طلاق کے مسئلہ کو لیجیے یورپ اور افریقہ میں توایک عورت کی حیثیت اس گندے اور میلے تولیہ کی طرح ہے جو کسی تھرڈ کلاس کی ریسٹورنٹ میں واش بیسن کے ساتھ لٹکادیاجاتاہے ہے، ہر کھانے والا اپنے ہاتھ پونچھتا ہے، اسی طرح سفید چمڑی والے یوروپین او ر سیاہ چمڑے والے افریقین جب چاہتے ہیں ذراسی بات پر طلاق دے کر کورٹ میںرجسٹری کرالیتے ہیں۔اسلام جو حقیقت پسند دین انسانیت ہے اور انسان کے خالق ومالک کا بتایاہوا دین ہے ،وہ اپنی مخلوق کی نفسیاتی کشائش سے واقف ہے اور انسانی طبائع اور زندگی کی اونچ نیچ کو جانتا ہے ،اس نے نکاح  ہی نہیں بلکہ طلاق وخلع کو بھی ایک خاص قانون کے اندر کنٹرول میں رکھاہے تاکہ خاندانی نظام کی گاڑی ہمیشہ محبت ، عزت ، افہام وتفہیم اور صلح جوئی کے جذبے سے چلتی رہے۔ اور ذرا یہ دیکھئے کہ جس یورپ اور اس کے مشرقی دم چھلوں میں عورت کو آزادی ا ور مساوات کے نام پر ننگا کیا جاتا ہے ،وہ اسلام کے فیملی لاز پر فضول اعتراضات کرتا ہے اور طلاق اور تعدد ازدواج پر نمائشء واویلا کر تا ہے ، حالانکہ اسلام نے ہی ایک انسان کو زمین پر جینے کا سلیقہ اور عدل و انصاف کا قرینہ دیا ہے جس پر عامل ہو کر دنیا وعقبیٰ کی برکتیں حاصل ہونا طے ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حضورﷺ کے امن وامان کی تعلیمات کو عام کیاجائے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے، کہ اس میں دنیا و آخرت کی فلاح وکامیابی مضمر ہے۔
وماتوفیقی إلا باللّٰہ، علیہ توکلت والیہ أنیب 
Mob:+91-9889943219