اسسٹنٹ پروفیسر کی خالی اسامیوں کیلئے نیاضابطہ

جموں//حال ہی میں JKPSCکی طرف سے شائع ہونے والے نئے رُول کواُردواسکالروں نے بے روزگارنوجوانوں کے ساتھ ناانصافی قراردیاہے۔یہاں جاری پریس ریلیزکے مطابق جموں صوبہ کے اُردواسکالروں کاکہناہے کہ جے کے پی ایس سی کی طرف سے شائع کئے گئے نئے رول جس میں کمیشن برائے عوامی روزگارنے نوجوان طبقے کے ساتھ بے انصافی کرتے ہوئے ایسا طریقۂ عمل اپنایا ہے وہ بے روزگار نوجوانوں کے ذہنی استحصال کا موجب ہے۔بموجب اسکالرزاس رول نے جہاں نوجوان نسل کی پوری زندگی کی محنت کو داغدار بنا دیا ہے وہیںJKPSCسے وابستہ اُمیدیں بھی ختم ہوتی نظر آرہی ہیں۔اس رول میں JKPSCنے اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے دسویں اور بارھویںکلاس کو بھی شامل کیا ہے جس کے 2اور3پوئنٹ رکھے ہیںجبکہB.AاورM.Aکے5اور25رکھے ہیں۔وہیں اعلیٰ تعلیم M.Phil ، Ph.D،D.Lit.کے3،6اور3قابل اعتماد سمجھے ہیں۔جبکہ یو۔جی۔سی کی طرف سے پاس کیے گیے نیشنل امتحان NETکے بجائے JRFکے نمبر رکھے گئے ہیں۔ریاست وبیرونِ ریاست کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں اس بات کولے کرتشویش پائی جارہی ہے کہ جس اسسٹنٹ پروفیسر کی نوکری کے لیے ایم۔فل اور پی۔ایچ ڈی کے زیادہ نمبر رکھنے چاہیئے تھے وہاں انھوں نے دسویں اور بارھویں کلاس کو ترجیح دی ہے۔ان کاکہناہے کہ اس سے ہم سب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام کیسے بہتر ہوسکے گا۔ وہیں دوسری طرف کالج کے Experianceمیں بھی ترمیم کی گئی ہے جہاں پہلے ایک سال کا ایک Pointتھا اب ایک سال کے 0.25ہوں گے ۔تین Pointپورے کرنے لیے اب اُسے بارہ سال لگانے ہوں گے۔آپ خود اس بات کا انصاف کریں کہ جو طالب علم اپنی ڈگری پینتیس یا چھتیس سال میں مکمل کرے گا وہ کیسے اپنی زندگی کے بارہ سال کالج Experienceکے لیے صرف کرے گااس حساب سے تو اُس کی عمر اٹھتالیس سال کی ہوجائے گی ہمارا سماج کے ہر اُس طالب علم سے ایک سوال ہے کہ آخر کب تک طالب علم کو ہی ان سب باتوں کا نشانہ بنایا جائے گا؟اسکالروں نے سوالیہ لہجے میں کہاہے کہ کیاآپ چاہتے ہیںکہ نوجوان نسل کو ذہنی طور منتشر کیا جائے؟ گذشتہ کچھ سالوں سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بیرون ریاست کی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کے نمبرات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ ریاست کی یونیورسٹیاں نمبرات دینے کے معاملے میں کم ظرفی سے کام لیتی ہیںجس سے ریاست جموں وکشمیر کی یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبائJKPSCکے مقررہ شدہ Criteriaمیں Fallنہیںکرپارہے ہیں۔ جس سے ریاست جموں وکشمیر کی تعلیم یافتہ نوجوانوں نےJKPSCکے متعلق دکھ کا اظہار کیا ہے ۔ریاست کے اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان اس بات سے اُمید کرتے ہیں کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ،گورنر اور وزیر برائے تعلیم کے ساتھ ساتھ  JKPSCکے چئیرمین اور سکریٹری سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ اس قانون کوترمیم کرنے کی کوشش کریں تاکہ اسسٹنٹ پروفیسر کی خالی اسامیوں کے لیے Merit Systemرکھنے کے بجائے ان اسامیوں کی تقرری کے لیے تحریری امتحان کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ جو بھی NETیاPh.Dڈگری حاصل کرنے والے طالب علم ہیں اُن کو بھی موقع مل سکے۔