اسرائیلی انتخابات، نیتن یاہو نے پانچویں مرتبہ کامیابی حاصل کرلی

تل ابیب // غاصب ریاست اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کے سرکاری نتائج آگئے، صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو پانچویں مرتبہ فتحیاب ہوکر ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ فلسطین پر قابض صیہونی ریاست اسرائیل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایک مرتبہ پھر فلسطینی عوام کے خون سے ہولی کھیلنے والے بنجامن نیتن یاہو کی لیکوڈ نے اکثریت رائے سے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت موجودہ الیکشن میں سابق آرمی چیف بینی گینٹز کے بلیو اور وائٹ اتحاد سے شکست کی امید کررہی تھی لیکن لیکوڈ اور اس کی اتحادی دائیں بازو کی جماعتوں موجودہ الیکشن میں بڑے مارجن سے فتح حاصل کی ہے۔ لیکوڈ نے پارلیمانی الیکشن میں کینسٹ (پارلیمنٹ) کی 120 نشتوں میں 65 پر واضح برتری حاصل کی ہے جبکہ تقریباً 50 سے 55 نشتیں حاصل کی ہیں۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ 69 سالہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو کرپشن الزامات کا سامنا ہے اس کے باوجود وہ پانچویں مرتبہ اپنی پوزیشن محفوظ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق موجودہ انتخابات کے نتائج سامنے آنے بعد نیتن یاہو طویل عرصے تک اسرائیل پر حکمرانی کرنے والے وزیر اعظم بن جائیں گے بنجامن نیتن یاہو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دائیں بازو کی حکومت ہوگی لیکن سب کے لیے وزیر اعظم میں ہی بنوں گا۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’میرا عوام سے رابطہ بہت اچھا ہے، اس لیے عوام نے مجھے پانچویں مرتبہ اعتماد کا ووٹ دیا ہے اور یہ اعتماد کا ووٹ سابقہ انتخابات سے کہیں بڑا ہے‘۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ’میں اسرائیل کے تمام شہریوں کا وزیر اعظم بننا چاہتا ہوں، دائیں، بائیں بازو کے افراد ہوں، یہودی و غیر یہودی سب کا وزیر اعظم بننا چاہتا ہوں‘۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل نیتن یاہو نے نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ پٹی میں بسنے والی یہودی بستیوں کو اسرائیلی حصہ قرار دے دیا جائے گا، اس فیصلے پر قائم رہیں گے۔