استنبول کانفرنس

کابل//یواین آئی// ترکی میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے دوران افغان صدر اشرف غنی افغانستان میں امن کے لیے تین مراحل پر مشتمل ’امن روڈ میپ‘ پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان صدر انتخابات سے قبل طالبان سے معاہدہ اور جنگ بندی کا مطالبہ کریں گے۔واشنگٹن اقوام متحدہ کی شمولیت کے ساتھ رواں ماہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ترکی کے زیر اہتمام ایک کانفرنس کے لیے زور دے رہا ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے اس کانفرنس میں تین مرحلوں پر مشتمل ایک امن منصوبہ پیش کریں گے۔ پہلے مرحلے میں صدارتی عہدے سے علیحدگی، فریقین کے درمیان سیاسی تصفیے کے لیے قابل عمل معاہدے کا طے پانا اور عالمی قوتوں کی نگرانی میں جنگ بندی کو یقینی بنانا شامل ہے۔دوسرے مرحلے میں صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا اور منتخب صدر کو نئے سیاسی نظام کا ڈھانچہ ترتیب دینا ہوگا اور سیاسی حکومت کے قیام کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔تیسرے اور آخری مرحلے میں سیاسی حکومت آئین سازی کرے گی، تارکین وطن سے متعلق مسائل کو حل کیا جائے گا، ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا جائے گا۔ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ افغان صدر اشرف غنی پہلے ہی اپنے روڈ میپ پر غیر ملکی دارالحکومتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔تاحال ترکی کے اجلاس کی تاریخ کا فیصلہ ہونا باقی ہے لیکن متعدد ذرائع نے بتایا کہ یہ دو ہفتوں کے دوران ہوسکتا ہے۔افغان حکومت اور متعدد سیاستدانوں نے کہا کہ افغان صدر کو اجلاس سے قبل طالبان کے ساتھ ایجنڈے پر اتفاق رائے کرنا ہوگا۔گزشتہ ماہ ایک بیان میں طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر سابق صدر ٹرمپ انتظامیہ کے مابین معاہدے کے تحت طے شدہ یکم مئی کی ڈیڈ لائن کو پورا نہیں کرتے تو دوبارہ حملے شروع ہوجائیں گے۔ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ طالبان یکم مئی کی تاریخ میں توسیع کرنے پر راضی ہیں اور وہ کابل حکام کے زیر حراست اپنے ہزاروں قیدیوں کی رہائی کے بدلے غیر ملکی افواج کے خلاف حملے دوبارہ شروع نہیں کریں گے۔دوسری جانب قطر میں طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے بتایا کہ ایسی کوئی پیش کش نہیں کی گئی تھی۔