نئی دہلی//ہندوستان کی وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے قومی کرکٹر ارشدیپ سنگھ کے وکی پیڈیا پیج پر ان کے پروفائل میں ردوبدل کرنے پر کمپنی کے افسران کو طلب کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق پیر کو ایک سرکاری ذریعہ نے ان کو بتایا کہ اتوار کی شپ ہندوستان اور پاکستان کے میچ کے بعد فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ کے پیج پر رد وبدل کرتے ہوئے ان کا نام ایک سکھ علیحدگی پسند تحریک سے جوڑا گیا۔خیال رہے اتوار کو ارشدیپ سنگھ پر سوشل میڈیا پر اس وقت شدید تنقید دیکھنے میں ئی جب انہوں نے پاکستان کے خلاف ایشیا کپ کے میچ میں محمد آصف کا کیچ چھوڑا تھا ہندوستان پانچ وکٹوں سے ہار گیا۔ارشدیپ سنگھ کے وکی پیڈیا پیج میں رد و بدل کرکے لکھا گیا کہ سکھ کرکٹر جو ہندوستان کی ریاست پنجاب میں پیدا ہوئے تھے انہیں ’خالصتان‘ کے لیے کھیلنے کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔اس حوالے سے ایک بیان میں وکی پیڈیا چلانے والی آرگنائزیشن وکی میڈیا نے بتایا کہ ’گمراہ کن رد و بدل منٹوں کے اندر پیج سے ہٹادیا گیا تھا۔ ارشدیپ کے کیچ چھوٹنے کا ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نفرت ا?میز مہم چلائی جانے لگی۔ گھریلو کرکٹ میں پنجاب کی جانب سے کھیلنے والے اس تیز گیند باز کو خالصتانی تک کہا گیا۔ حالانکہ سوشل میڈیا ٹرولنگ کا ارشدیپ پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ایشیا کپ کے سپر فور میں ہوئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مقابلہ کو دیکھنے کیلئے ارشدیپ سنگھ کے والدین بھی پہنچے تھے۔ تیز گیند باز کے والد درشن سنگھ نے انڈین ایکسپریس سے بات چیت میں کہا کہ ارشدیپ ان ٹویٹس اور میسیج کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ ارشدیپ نے بتایا کہ وہ ان سب چیزوں کو مثبت طریقہ سے لے رہا ہے۔ ان چیزوں سے اس کی خود اعتمادی مزید بڑھتی ہے۔ارشدیپ نے اپنے والد سے کہا کہ پوری ہندوستانی ٹیم ان کے حمایت میں کھڑی ہے۔