سری نگر// مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ میں یونیورسٹی کے کشمیر کیمپس میں ڈھانچے کی تعمیر کو لے کر بہت سنجیدہ ہوں اور میری بھرپور کوشش ہے کہ کام جلد سے جلد شروع ہو،تاہم ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ حکومت اور مقامی لوگوں کے تعاون سے یہ کام بہت جلدی شروع ہو سکتا ہے ۔پروفیسر سید عین الحسن نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ 'قومی اردو سائنس کانگریس' کے حاشئے پر ایک انٹرویو کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا،’’یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے روز اول سے ہی میں نے کیمپسز کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور یہاں اس کانگریس میں شرکت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے‘‘۔انہوں نے کہا،’’میں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس سلسلے میں ملاقات طلب کی ہے وہ ہمیں کیا دے سکتے ہیں اگر ایک معاہدہ بن جائے تو بہت جلد تعمیری کام شروع ہو جائے گا میں اس کے لئے بہت سنجیدہ ہوں‘‘۔اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہا کہ اس کیمپس میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے مقامی حکومت اور مقامی لوگوں کا تعاون بہت ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ مقامی حکومت، مقامی لوگوں اور دیگر متعلقین کے تعاون سے یہ کام بہت جلدی ہوگا اور میری کوشش ہے کہ یہ کام کم سے کم وقت میں شروع ہو جائے ۔موصوف پروفیسر نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن فنڈنگ ایجنسی (ہیفا) کی طرف سے بھی مدد ہو گی۔ انہوں نے کیا رقم مختص رکھی ہے وہ ہمیں ابھی معلوم نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ میری طرف سے حرکت جاری ہے اور برکت اوپر سے ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ کیمپس میں پانی، بجلی و دیگر ضروری امور کی انجام دہی کے لئے مقامی انتظامیہ کا تعاون از حد ضروری ہے ہم ان کے ساتھ بھی بات کریں گے ۔وائس چانسلر نے کہا کہ ہم بھی کرائے کی عمارتوں یا کمروں میں اپنی یونیورسٹی کا کیمپس نہیں چلانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیمپس تعمیر ہونے کے بعد یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد بھی بڑھے گی اور اساتذہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔یونیورسٹی کے کشمیر کیمپس میں فارسی مضمون شروع کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا،’’یہاں کشمیر یونیورسٹی میں بھی فارسی مضمون پڑھایا جا رہا ہے ، ہم فارن لینگویجز کے لئے ایک ڈویژن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں فارسی، عربی، چینی، جرمن وغیرہ جیسی بڑی غیرملکی زبانیں پڑھائی جائیں گی‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہم یو جی سی سے اجازت حاصل کریں گے اور بنیادی ڈھانچے کی دستیابی کے ساتھ ہی ان کو متعارف کریں گے ۔