ادلب کا بحران

گذشتہ کئی برسوں کے دوران، جب سے عرب بہار کے انقلاب کے نتیجے میں کئی مسلم ملکوں کے حکمرانوں کو اپنی حکومتوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا، اس وقت سے بشار الاسد کی طرف سے اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے بے انتہا ظلم وستم روا رکھا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے اور لاکھوںاپنا ملک شام چھوڑ کر ترکی اور یورپ کے دیگر ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان چند برسوں میں دنیا کی بدترین قتل گاہوں میں شام میں بشار الاسد کی فوجوں کی طرف سے انجام دی جانے والی قتل گاہیں شمار ہوتی ہیں، ایک ایک شہر میں ہزاروں کی تعداد میں سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ہے جب کہ عالمی تنظیموں کی طرف سے شام کے خلاف کارروائیاں نہیں کی جارہی ہیں۔ادلب ترکی سے متصل علاقہ ہے، ترکی نے اس علاقے سے اپنے ملک پر دہشت گردوں کے حملوں کے خدشات کے پیش نظر اپنی فوج تین سال پہلے روانہ کی تھی تاکہ یہاں موجود دہشت گردوں کو کدھیڑا جائے۔  پچھلے دس بارہ دنوں سے جنوب کی طرف شامی فوجیں آگے بڑھ رہی ہیں جب کہ شمال میں ترکی اپنی فوجوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔یہاں اس بات سے واقف ہونا ضروری ہے کہ ادلب میں شامی حکومت کا تسلط نہیں ہے، شامی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے کوشاں الاحرار اور دیگر جنگجو گروپوں کا قبضہ ہے۔ ترکی یہاں سے اپنے مخالفین کو کدھیڑنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور یہاں ترکی کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور اس علاقے میں کشیدگی پر قابو پانے کے لیے ترکی اور روس کے درمیان سوتشی معاہدہ بھی ہوا ہے۔ ان آخری دنوں میں ادلب میں شامی فوجوں کی طرف سے مسلسل حملے ہورہے ہیں جن کو ترکی معاہدے کی خلاف ورزی مانتا ہے اور ان حملوں میں ترکی کے کئی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ دوسری بات جس کا ذکر کرنا یہاں ضروری ہے کہ شامی حکومت کی تائید میں روس اور ایران ہیں ،جو بشار الاسد کی مدد کررہے ہیں، ان کی مدد کے بغیر بشار الاسد کو اپنی حکومت کو بچانا ناممکن ہے، ان آخری دنوں میں ادلب پر سیاست بہت تیز ہوئی ہے، ترکی، روس، امریکہ اور فرانس وغیرہ کی طرف سے ا س سلسلے میں بہت سے بیانات آئے ہیں۔ ترکی صدر رجب طیب اردگان نے شامی حکومت اور اس کے ہم نوا جنگجو گروپوں کو فروری کے اخیر تک ادلب کا علاقہ خالی کرنے کی مہلت دی تھی ورنہ ملک شام میں شامی فوجوں پر حملوں کا انتباہ دیا ہے۔ ہم ذیل میں ادلب کے موجودہ حالات، ادلب کی اہمیت، ترکی اور روس کے اس علاقے سے وابستہ مفادات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔شامی حکومت اور ایران کی پشت پناہی میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے وسیع پیمانے پر معاہدے کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، جن کو روسی فضائی مدد حاصل ہے۔ بشار الاسد کی حکومت اور اس کے حلیفوں نے علاقے کے وسیع حصوں پر پیش قدمی کی ہے اور وہ حلب۔ دمشق کی تیز رفتار شاہراہ پر قابض ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں شامی سخت سردیوں میں ترکی سرحدوں کا رخ کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ترک پریس (۱۹فروری۲۰۲۰)کے مطابق ان حالات کو دیکھتے ہوئے ترکی صدر اردگان نے کہا ہے کہ ادلب علاقے میں اپوزیشن کے خلاف شامی حکومت کی فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے ترکی فوجی کارروائی ناگزیر ہوگئی ہے۔
اردگان نے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ سرحدی علاقوں کو کسی بھی قیمت پر پر امن بنانے کا وہ مصمم ارادہ رکھتے ہیںلیکن روسی حکومت نے ترکی کی طرف سے مستقبل میں ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی پر اعتراض کیا ہے۔ کرملین دیمیتری بیسکوف کے ترجمان نے یہ بات کہی ہے کہ ادلب میں شامی حکومت کی فوج کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی سب سے بدترین فیصلہ ہوگا۔شامی حکومت اور روس نے ترکی کی اس درخواست کو قبول نہیں کیا ہے کہ ۲۰۱۸ میں جنگ بندی کے مطابق متعین کردہ حدود کے پیچھے شامی فوج کو جانا چاہیے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ شامی فوج کی اس کارروائی کی وجہ سے نو لاکھ لوگ دسمبر ۲۰۱۹ سے نقلِ مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔گزشتہ ماہ ۱۸ فروری ۲۰۲۰ کو ادلب کے متعلق جو ماسکو میں روس اور ترکی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے اس کے سلسلے میں ترکی کے صدارتی ترجمان کالن ابراہیم نے کہا ہے کہ مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ ترکی نے اس سلسلے میں روس کی طرف سے پیش کردہ فارمولے اور نقشے کو قبول نہیں کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انقرہ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سوتشی معاہدے کے مطابق ادلب میں سب فریق اپنے اپنے دائرے میں واپس چلے جائیں۔اور انہیں ادلب میں ترکی فوج کی نگرانی کے پوائنٹ کو تبدیل کرنا قبول نہیں ہےاور یہ بھی اشارہ دیا ہےکہ ترکی اس علاقوں میں ادلب اور وہاں کے باشندوں کی حفاظت کے لیے فوجی ساز وسامان بھیجتا رہے گا۔ساتھ ہی واضح کیاکہ ترکی فوج ادلب میں اس کی فوجیوں پر کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔ترکی خبررسا ں ایجنسی اناضول نے اپنے ۲۱ فروری ۲۰۲۰ کے نشریے میں ماسکو میں ترکی اور روسی وفود کے درمیان ادلب کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد روسی صحافت سے نقل کیا ہے کہ ترکی نے اپنے فضائی راستوں کو روسی جنگی جہازوں کے لیے بند کردیا ہے۔ روسی اخبار ’’ننیزا فیسیمایا گازیتا‘‘ نے اپنی خبر کا عنوان لگایا ہے ’’انقرہ روس کے لیے آبنائے استنبول کو بند کردے گا‘‘۔ اس اخبار نے دعوی کیا ہے کہ ترکی نے روسی جنگی جہازوں کے لیے اپنا راستہ بند کردیا ہے جو ترکی سے ہوتے ہوئے شام میں اپنے فوجی اڈے حمیمیم جانے والے تھے۔ اخبار نے مزید دعوی کیا ہے کہ ترکی آبنائے استنبول اور ابنائے جناق قلعہ بحر اسود کے راستے کو شام میں اپنے فوجی ساز وسامان لے جانے والی روسی کشتیوں کو روک دے گا۔اردگان اور پوتن کی فون پر گفتگوترک پریس نے اپنے ۲۱ فروری ۲۰۲۰ کے نشریہ میں لکھا ہے کہ اس دوران ترکی صدر اردگان اور روسی صدر ولادمیر پوتن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں اردگان نے ادلب میں شامی نظام کی سرکشی پر لگام کسنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ارگان نے اس دوران ادلب میں ہونے والے انسانی المیہ کو ختم کرنے کی ضرورت کو بھی بیان کیا، ترکی صدارتی دفتر کی طرف سے اس بات کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ادلب کے موجودہ بحران کو اسی وقت حل کیا جاسکتا ہے جب انقرہ اور ماسکو کے درمیان ہونے والے سوتشی معاہدے کو رو بعمل لایا جائے۔
 اردگان اور پوتین دونوں نے ادلب سے متعلق سوتشی معاہدے کی پابندی کی تاکید کی۔امریکہ کی طرف سے ترکی کی تائید کا اعلان پر امریکہ نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ شامی علاقے ادلب میں ترکی کے ساتھ ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں یہ بات کہی گئی ہے۔(ترک پریس ۲۱فروری ۲۰۲۰)فرانسیسی صدر کی طرف سے جلد از جلد جنگ بندی کرنے کا مطالبہ جب کہ اناضول کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون نے جمعہ کو مطالبہ کیا کہ جتنا جلد ممکن ہو شام سے متعلق جرمنی، روس، ترکی اور فرانس پر مشتمل چار فریقی کانفرنس استنبول میں منعقد کی جائے۔جس کا مقصد ادلب میں ہونے والی جنگ کو روکا جائے اور لوگوں کو انسانی بحران سے بچایا جائے۔
فرانسیسی صدر نے صحافیوں سے کہا کہ روس کی طرف سے مدد یافتہ شامی فوجیں جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود شمال مغربی شام ادلب میں پیش قدمی کررہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میری رائے میں اور جرمنی مشیر انگیلا میرکل کی رائے میں ادلب کے بحران کا حل یہ ہے کہ فوراً جنگ بندی کی جائے، ہم نے روس اور بشار الاسد کی حکومت سے اس کا مطالبہ کیا ہے۔میکرون نے یہ بات کہی کہ ادلب کے ہسپتالوں بھی حملوں کا شکار ہیں، یہ ناقابلِ قبول بات ہے۔ انھوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ادلب میں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد بیس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ پناہ گزین یہاں بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔فرانسیسی صدر نے کہاہے کہ ہم نے روسی صدر ولادمیر پوتن اور ترکی صدر اردگان سے وضاحت کے ساتھ بات کی ہے، اب اس سے متعلق روسی صدر کی ذمے داری بہت بڑی ہے۔(اناضول ۲۲ فروری ۲۰۲۰)ادلب کی اہمیت شمال مغرب میں ادلب کی سرحد ترکی ریاست ھطای سے ملتی ہے اور مشرق میں شامی ریاست حلب سے ملتی ہے اور شمال مشرق میں عفرین شہر سے، جب کہ جنوب میں حمات ریاست سے اور جنوب مغرب میں لاذقیہ ریاست سے۔
ادلب کی بڑی اسٹریٹیجک اہمیت ہے کیوں کہ یہ علاقہ ترکی، شام، اردن اور خلیج کو جوڑنے والا بین الاقوامی راستہ ہے۔ علاقائی اعتبار سے بھی اس کی بڑی اہمیت اس طور پر ہے کہ اس کو بحر ابیض متوسط کا دروازہ مانا جاتا ہے۔۲۰۱۱ میں یہاں کی آبادی بیس لاکھ تھی، لیکن اب اس کی آبادی ۳۷ لاکھ ہے، ان میں سے ۱۷؍لاکھ شام کے دوسرے علاقوں سے پناہ گزینوں کی شکل میں آئے جب کہ اس ریاست کے دس لاکھ لوگ اب ترکی سرحدوں پر دو سو کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ادلب مارچ ۲۰۱۵ میں شامی حکومت سے آزاد کرائے جانے کے بعد سے شامی اپوزیشن طاقتوں کا سب سے اہم قلعہ ہےجب کہ اس سے متصل علاقہ ریاست لاذقیہ بشار الاسد کے اہم قلعوں میں شمار ہوتا ہے اور یہیں پر روسی فوجی اڈہ حمیمیم میں ہے۔ترکی سے اس کی سرحد ملنے کی وجہ سے شام میں امداد پہنچنے کا ادلب کو سب سے اہم دروازہ مانا جاتا ہے، یہاں سے ماہانہ تقریبا ڈیڑھ ہزار ٹرک امدادی ساز وسامان لے کر جاتی ہیں جب کہ ساڑھے چار ہزار ٹرک تجارتی سامان لے کر ہر ماہ شام میں داخل ہوتے ہیں۔
آستانا میں ۴۔۵ مئی ۲۰۱۷ میں ہوئے معاہدے میں ترکی، روس اور ایران کی طرف سے جنگ بندی کا علاقہ مانا گیا ہے اور ترکی نے معاہدے کے مطابق اکتوبر ۲۰۱۷ کو نگرانی کے لئے اپنی ۱۲ چوکیاں بنائی ہے، یہاں چالیس لاکھ شہری ترکی حمایت میں اس حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں کہ ترکی شامی حکومت سے متصادم جنگجو گروپوں کا ضامن ہے۔
ادلب کی سرحدیں ترکی کے ساتھ ایک سو تیس کلومیٹر تک ملتی ہیں، یہاں کے حالات تشویش ناک ہیں۔ ادلب پر شامی حکومت کے حملوں کا ہمیشہ خوف رہتا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں پناہ گزین ترکی اور یورپ کی طرف رخ کرنے کا اندیشہ رہتا ہے۔اگر اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو ترکی کے لیے بڑی پریشانی کا باعث ہوگا کیوں کہ پہلے سے ہی ترکی میں ۳۶ سے ۴۴لاکھ شامی پناہ گزین رہتے ہیں، اس وجہ سے ترکی ادلب سے متعلق جنگ بندی معاہدے کو باقی رکھنے پر زیادہ زور دیتا ہے۔روسی اور ترکی مذاکرات ادلب سے متعلق کشیدگی دور کرنے کے لیے روس اور ترکی کے درمیان مذاکرات چل رہے ہیں لیکن کسی بھی نتیجے کی امید نظر نہیں آرہی ہے۔
روسی وفد جنگ بندی کے علاقے کا نیا نقشہ پیش کرنے پر مصر ہے، جس کی رُو سے روس اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا کر حلب۔ لاذقیہ M4، اور حلب۔ دمشق M5  شاہراہوں پر مکمل قبضہ کرنا چاہتا ہے اور شامی حکومت نیان دونوں راستوں کے اطراف میں جن جن علاقوں اور شہروں پر قبضہ کیا ہے انھیں اسی حالت میں باقی رکھنے پر اصرار کررہا ہے۔
دوسری طرف ترکی اس نئے نقشے پر راضی نہیں ہے، وہ قدیم سوتشی معاہدے کے مطابق ہی شامی فوجوں اور اس کے حلیف جنگجو گروپوں کے یہاں سے انخلا پر مصر ہے۔ یہ معاہدہ اردگان اور پوتین کے درمیان ۲۰۱۸ میں ہوا تھا، ترکی اس سے کم پر مذاکرات کرنے پر راضی نہیں ہے۔جب کہ صدر اردگان نے انخلا کے لیے فروری کے اخیر تک مہلت دی ہے ورنہ سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔توقعات اور اندیشےتوقع یہ ہے کہ اس مہلت کے دوران روس ترکی پر دباؤ بناتا رہے گا تاکہ شامی فوج کی طرف سے قبضہ کردہ علاقوں کو اپنے تسلط میں ہی باقی رکھے لیکن ترکی کی طرف سے کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آرہا ہے، اس وجہ سے ترکی کی طرف سیاسدی فوجوں کے خلاف جنگ شروع کرنے کی صورت میںروس ترکی کو اپنے ہتھیاروں خصوصاً فضائی ہتھیاروں کی فروخت بند کرسکتا ہے لیکن روس کے لیے اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے لیے ترکی جیسے حلیف کو چھوڑنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ان حالات کا ذمہ دار روس پر ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ان آخری دنوں میں ادلب میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کا ذمہ دار روس ہے، کوئی دوسرا نہیں کیوں کہ اس میں ترکی۔ روس معاہدوں کی صریح خلاف ورزی نظر آرہی ہے۔ اب گیند روسی صدر پوتین کے ہاتھوں میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کی اندھی تائید جاری رکھی جاتی ہے یا ترکی کے ساتھ موجود اسٹریٹیجک تعلقات کو باقی رکھنےکو ترجیح دی جاتی ہے۔کیا روس ترکی کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوجائے گا؟یہ بات متوقع ہے کہ پوتین ادلب کے مسئلہ میں بشار الاسد کی اندھی تائید نہیں کریں گے بلکہ وہ ترکی مطالبات کے مطابق موقف اپنانے کے لیے بشار الاسد پر دباؤ بنائیں گے تاکہ گذشتہ دنوں ترکی فوجیوں پر کیے جانے والے حملوں کی وجہ سے(جن میں تیرہ ترک فوجی مارے گئے ہیں) دو ممالک کے درمیان جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے اس کو دور کیا جائے۔