پروفیسر ڈاکٹر مرغوب بانہالی کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت ،ڈگری کالج بانہال کو انکے نام سے منسوب کرنیکا مطالبہ
محمد تسکین
بانہال// معروف کشمیری ادیب، شاعر اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر مرغوب بانہالی کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ذہنی صحت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے گورنمنٹ ڈگری کالج بنکوٹ بانہال میں ہفتے کے روز ایک روزہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
یہ پروگرام مرغوب فاؤنڈیشن نے ادبی مرکز کمراز اور سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن بانہال کے اشتراک سے منعقد کیا۔ تقریب کی صدارت ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ نے کی، جبکہ مہمانوں کا استقبال مرغوب فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور پروفیسر مرغوب بانہالی کے فرزند ڈاکٹر مشتاق احمد مرغوب نے کیا۔ادبی نشست کے دوران مقررین نے ڈاکٹر مرغوب بانہالی کی کشمیری زبان و ادب کے لیے گراں قدر خدمات کو یاد کیا۔ مقررین نے انہیں عظیم شاعر، استاد اور ثقافتی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی شہرۂ آفاق ادبی تصنیف’’پرتوستان‘‘ کا ذکر کیا، جس پر انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔تقریب میں غلام علی گیری (ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر)، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ منشور بانہالی، ظاہر بانہالی، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج بانہال ڈاکٹر سنیل کمار بٹ، شبیر حسین شبیر، ایوب صابر، عبدالغنی تانترے، ایڈووکیٹ مبشر احمد نائیک، حنظلہ وانی، شوکت لون، عاسیہ رشید ، دانش احمد اور فاؤنڈیشن کے سینئرممبر اور ماہر تعلیم طارق مرغوب سمیت متعدد ادیبوں، دانشوروں اور طلبہ نے شرکت کی۔مقررین نے پروفیسر مرغوب بانہالی کی سات دہائیوں پر محیط ادبی و تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ان کے خاندان کے بیشتر فرد بھی موجود تھے ۔ طلبہ نے بھی ڈاکٹر مرغوب بانہالی کی زندگی اور ادبی کارناموں پر مقالے پیش کیے، جبکہ عاسیہ رشید نے ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو خوبصورت انداز میں اجاگر کیا۔اس موقع پر مقررین نے مطالبہ کیا کہ بنکوٹ بانہال میں قائم گورنمنٹ ڈگری کالج کا نام پروفیسر ڈاکٹر مرغوب بانہالی کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ ان کی ادبی اور تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ مقررین نے کہا کہ پروفیسر غلام محمد گیری المعروف مرغوب بانہالی کا تعلق بھی اسی بنکوٹ گاؤں سے ہے جہاں یہ تعلیمی ادارہ قائم ہے۔پروگرام کے دوسرے سیشن میں معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر مشتاق احمد مرغوب کی رہنمائی میں ذہنی صحت بیداری پروگرام منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹر مشتاق احمد مرغوب نے ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ذہنی بیماریوں سے جڑے سماجی داغ کو ختم کرنے اور بروقت علاج و رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق احمد مرغوب، ڈاکٹر امتیاز منصور، ڈاکٹر دیبا، ڈاکٹر ایمن اور ڈاکٹر عبیداللہ کامگار پر مشتمل ٹیم نے دور دراز علاقوں سے آئے مریضوں کا معائنہ کیا اور انہیں مفت ادویات فراہم کیں۔