اخلاق وتواضع کے پیکر

ندوۃ  العلماء کے معتمد تعلیم، ہردلعزیز اُستاد ،مشہور عالمِ دین ،عظیم مفکر ،علم وعمل کے پیکر، زبان وادب کے میدان کی قدآورشخصیت، عربی زبان کے مایہ ناز ادیب، نیک سیرت وخوش کلام حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی ؒ کے انتقال کی المناک وغم انگیز خبر16؍جنوری کو بجلی بن کر گری ۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔سانحۂ ارتحال کی اندوہ ناک خبر سے دینی حلقے مغموم و متفکر ہوئے۔ مولاناواضح رشید حسنی ندوی ؒ کا انتقال سے نہ صرف ندوۃ العلماء سوگوار ہوا بلکہ پورا عالم اسلام ایک جید عالم دین، عظیم مفکر ، ماہر عربی زبان، مایہ ناز ادیب ،باکمال صحافی اورمحسن علم ِواد ب سے محروم ہوا ۔ مولانا 83؍برس کے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو علم وعمل دین وتقویٰ اخلاق وسلوک اوررواداری کی عظیم نعمتوں سے نواز ا تھا ،آپ دین کے سچے علمبردار تھے ، زندگی انتہائی سادگی وتواضع، فنائیت  واستغنا ء ،بے نفسی اوربے غرضی سے عبارت تھی۔ مولاناکا ایک نمایاںوصف ان کی خاموشی تھا۔ بلاضرورت نہیں بولتے تھے۔ عظیم مفکر،بے لو ث داعی ، کامیاب معلم ،بالغ نظراورجیدعالم دین تھے۔ برصغیر ہندوپاک میں عربی زبان وادب اورجدید عربی صحافت کی آبرو تھے۔عربی زبان وادب حضرت مولانا کا خاص موضوع تھا۔ آپ عربی ادب کے گویا بے تاج بادشاہ تھے۔حضرت مرحوم کی پوری زندگی قابل ِرشک تھی ،ان سے تعلق رکھنے والے بندگانِ خدا کی تعداد بے شمارہے۔قرآن و حدیث میں مومنین کے جواوصاف بیان کئے گئے ہیں ، ان کی جھلک آپ کی زندگی میںصاف نظرآتی تھی۔مولانا مرحوم نے اپنی پوری زندگی ملت اسلامیہ کے فلاح وبہبود کے لئے وقف کردی تھی ۔ آپ کی تحریروں وتقریروں سے اس کا اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ آپ قوم وملت کی بے راہ روی اور دین ِخداوندی سے غفلت پر بے چین وبے قرار ہوکر اپنی تحریروں سے مسلم قوم کو جگاتے رہتے تھے۔ 
مولاناکی شہر ت عالم اسلام میں ایک صحافی کی حیثیت سے مسلمّہ تھی لیکن حضرت مولانا اس سے بڑھ کر ایک عظیم اسلامی مفکر اوراعلیٰ علمی ذوق رکھنے والی شخصیت تھے ۔ یکسوئی کے عادی، خلوت پسند، گوشہ گیر اورکم گو تھے لیکن گفتگومیں بڑی معنویت ہوتی تھی۔ حضرت مولانا کی مغربی افکار اوراس کی خطرناک سازشوں، عالم اسلام پر اہل مغرب کی فکری یلغار اوراس کیلئے اختیار کئے جانے والے زہر ناک طور طریقوں پر گہری نظرتھی۔ مرحوم بہت گہرائی اورگیرائی سے ملّی اور عالمی مسائل کا جائزہ لیاکرتے تھے اوراسلامی فکر کی معنویت کو بہت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ کی طرح پیش کر نے کا ملکہ ر کھتے تھے۔ مولانامرحوم کی تدریس وتربیت اورانداز بیان بہت موثرہوتاتھا۔ مولانا اپنے فکر انگیز مضامین سے عالم عربی کا المیہ، جدید میڈیا کی بے راہ روی، مستشرقین کی ریشہ دوانیوں، یہود ونصاریٰ اور مشرکین کے اسلام اورمسلمانوں کے تئیں منفی رجحانات اورمخرب اخلاق ذرائع ابلاغ سے نسل ِنوع کو بیدار کرتے رہے ۔آپ ہمیشہ اسلامی صحافت سے وابستہ رہے اور ’’الرائد ‘‘کی ادارت کرتے ہوئے اسلامی مضامین اوراسلام کے خلاف لکھی گئی تحریروں کا مدلل جواب دیتے رہے ۔آپ نے اپنی زندگی میں ’’الرائد ‘‘کو اسلامی صحافت کی بلندیوں پر پہنچایادیا۔
مولانا مرحوم صاحب ِاسلوب ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک زاہد خداترس اُستادا ورمربی کے علاوہ عاجزی وشرافت کے مجسمہ تھے ۔ان کے قلب وجگر میں غیرمعمولی توسع اوررواداری کاجذبہ موجزن تھاکہ خود کو نقصان بھی پہنچ جائے لیکن دوسرے کو تکلیف نہ ہو۔مولانا کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے ہمیشہ خود کو پیچھے رکھا اوردوسروںکو آگے بڑھایااور ہمت افزائی بھی کی۔ ان کارہن سہن، نشست وبرخاست ،کھانا پینا ،لباس بہت سادہ ہوتا تھا۔تواضع اورسادگی آپ کی پہچان تھی۔ مولانا کی زندگی ایثار وقربانی اورقناعت سے لبریز تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ حضرت مولانا نے گورنمنٹ کی اعلیٰ ملازمت چھوڑ کر رضائے الٰہی کے حصول کیلئے ندوۃ العلماء سے وابستگی اختیار کی اور2006ء میںحضرت مولانا عبداللہ عباسؒ کی وفات کے بعد معتمد تعلیم کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے۔ جب انہوں نے معتمد تعلیم کی ذمہ داری سنبھالی تو تنخواہ سے بھی دستبردار ہوگئے اوراپنی آخری سانس تک بغیر کسی مالی معاوضہ کے اپنی خدمت رضاکارانہ طورانجام د یتے رہے ۔مولانا کی شخصیت دینی تعلیم وتدریس سے مزین تھی، تعلیمی نظام کی باریکیوں اور نزاکتوں سے خوب واقف تھے۔ اپنی صلاحیت اورتجربہ کی بناء پر مولانا مرحوم نے ندوۃ العلماء میں تعلیمی نظام کو مستحکم کیا۔ طلباء کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھی خوب رہنمائی کرتے اورذاتی مفاد کے بجائے بطور مشن تدریسی فرائض انجام دینے کی تاکید وتلقین کرتے رہتے ۔ ان تمام حوالوں سے حضرت کی شخصیت بہت عظیم تھی ۔ حضرت سے میری پہلی ملاقات جب ہوئی توملاقات کے بعد طبیعت پر ایک سکینت وطمانیت طاری ہوگئی اورعجب روحانی لذت کا احساس ہوا جو عرصہ تک قائم رہا۔حضرت مولانا سے کوئی زیادہ ملاقات کاشرف حاصل نہ رہا لیکن جب بھی ملاقات ہوئی اُنہیں شرافت ،ہمدردی ،انسانیت نوازی اوراخلاق کریمانہ وتواضع کے اعلیٰ مقام پر فائز پایااوریہ خصوصیت پورے حسنی خاندان کو اللہ رب العزت کی جانب سے ملی ہے۔  
 مولاناواضح رشیدندویؒ  ایک بلند پایہ ادبی ناقد بھی تھے اورنقد وبصر کی قدروقیمت سے پوری طرح واقف تھے۔مولانا اردو اورعربی کے علاوہ انگریزی میں بھی مہارت رکھتے تھے،ا س لئے تینوں زبانوں کی صحافت پر گہری نظرتھی ۔ عالمی حالات پر ان کا مطالعہ بہت عمیق تھا۔ حضرت کو ان دنوں میں بہت دُھندلا دکھائی دیتاتھا ،اس لئے مطالعہ کاسلسلہ منقطع تھا لیکن پھر بھی کماحقہ عالم اسلام کے احوال وکوائف سے واقف رہتے اوران پر اپنی رائے بھی دیتے تھے۔ تحریر کو پڑھواکر سنتے تھے اوراپنے مضامین وخطوط املاکرواتے تھے۔اُستاد ادب دارالعلوم ندوۃ العلماء مولانا محمدوثیق ندوی حضرت کے کاتب ِخاص تھے ۔آپ کی تحریریں بہت مستند ہوتی تھیں، علمی دنیا میں آپ کی حیثیت مسلمہ تھی۔ حضرت مولانا واضح رشید ندویؒ نے کبھی جوشیلی اورجذباتی تقریر نہیں کی بلکہ انہوں نے تقریر و تحریر میںہمیشہ میانہ روی اورتوازن قائم رکھا۔ قرآن وحدیث میں مومنین کے جواوصاف بیان کیے گئے ہیں اس کی جھلک آپ کی زندگی میں صاف نظرآتی تھی۔ وہ دریا کو کوزے میں بندکردینے کے فن سے تھے۔مولانا مرحوم صاحب زبان ہونے کے ساتھ ساتھ زبان کی باریکیوں سے بھی واقف تھے۔ مولانا مرحوم نے نظام تعلیم وتربیت اندیشے، تقاضے اورحل جیسے اہم اورنازک موضوع پر بھی قلم اٹھایااورایک دیانت دار مصنف کی طرح غیرجانب داری کے ساتھ دونوں نظاموں کی خوبیوں اورخامیوں کی نشاندہی کی اور ان کی اصلاح کے ضمن میں بہتر اورمفید مشورے دئے۔اس کتاب میں نصاب ونظام تعلیم وتربیت کے سلسلے میں مولانانے جو خیالات پیش کیے ہیں وہ ندوۃ العلماء کے تعلیمی وتربیتی نقطہ نظر کو پیش کرتے ہیںاورانہوں نے حیرت انگیز انکشاف کیاہے کہ مغربی سامراج اوران کی شکست خوردہ سوچ نے نظام تعلیم وتربیت کے ذریعہ عالم اسلام کی نئی نسل کو بگاڑ کر رکھ دیاہے اور اس سے اخلاق دیوالیہ پن تک پہنچادیاہے۔ مغرب کی علمی فکری اورثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کا لائحہ عمل اس کتاب کی روشنی میں طے کرنا چاہئے اوریہ کتاب ہر دردمند کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔ اس کتاب میں عالم اسلام پر مغرب کے علمی فکری اورثقافتی یلغار کے خطرات اوراثرات کو مولانامرحوم نے دالائل وبراہین کے ساتھ واضح کیا۔ حضرت مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی اورمولانا واضح رشیدحسنی ندوی ؒ ایک جان دوقالب تھے ۔ اُمت مسلمہ کو جہاں مولانا واضح رشید ندویؒ کی بلندیٔ درجات ان کے پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعائیں کرنی چاہئے ، وہیں حضرت مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی کیلئے اس اندوہ ناک سانحہ سے گزرنے کا حوصلہ اورصحت وعافیت کے ساتھ دراز عمر کی دعا کرنی چاہئے۔ مولانامرحوم نے اپنی بے داغ زندگی گزاری ،اُن کاظاہر اُ ن کے باطن کی گواہی دیتاتھا ۔انہوں نے ایک مثالی زندگی گزاری اورہر مسلمان کیلئے ایک نمونہ اورآئیڈیل چھوڑ گئے ۔مولانا واضح رشید صاحب کے فرزند ارجمند مخدومی استاد محترم مولاناسید جعفر مسعود حسنی ندوی مدیر تحریر’’ الرائد‘‘ و استاد حدیث مدرسہ عالیہ عرفانیہ ہیں جو الولدسرلابیہکامکمل نمونہ ہیںاوراپنے والدمحترم کی بولتی ہوئی تصویر ہیں۔حضرت مولانا واضح رشید ندوی ؒ کے تئیں سچا خراج عقیدت یہ ہے کہ ہم لوگ ان کے شروع کیے ہوئے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں اورصہیونی سازشوں کے خلاف جوان کا طریقہ کار تھا، اس کوپُرکرنے کی کوشش کریںاورمولاناکی شخصیت پر ایک عالمی سیمینار کرکے آپ کے افکار و خیالات کو اُجاگر کر نے والے مقالے پیش کئے جائیں۔ جہاں تک راقم الحروف کاعلم ہے ایک بہت بڑا حلقہ ایسا ہے جو مولانا سے صرف وابستگی ہی نہیں رکھتا بلکہ تحریری میدان کا بھی شہ سوار ہے ۔ وہ ان کی زندگی پر ایک ضخیم کتاب لکھ کر ان کا نسل نو میں تعارف کر ا سکتے ہیں۔ یہ چندسطورمولانا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جو اپنے مرہوؤں کی اچھائیوں کا تذکرہ کیا کرو، کے نبوی ؐحکم کی تعمیل میں قارئین کی نذرہیں۔ اُمید ہے کہ مولاناکے فاضل اعزاء اورطلباء اس تحریرسے تحریک پاکر مولانا کے حالات زندگی تحقیق وجستجو کے ساتھ سوانح حیات کی شکل میں منظر عام پر لائیں گے جویقینا آئندہ نسلوں کیلئے مشعل راہ ہوگی۔ملت اسلامیہ کو حق ہے کہ مولانا مرحوم جیسی عظیم شخصیت پر فخر کرے ،اللہ مولاناکی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین
(قاری عطاء الرحمان بلہروی متعلم  عالیہ ثالثہ شریعہ(ہ)دارالعلوم ندوۃ العلماء )
8917094625
쬄쬄쬄쬄