پونچھ //پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ فرقہ پرست جماعتیں آپسی بھائی چارے پر حملہ آور ہیں۔ مینڈھر ڈاک بنگلہ میں منعقدہ تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ مرکزی حکومت نے جموںوکشمیر میں ترقی میں رکاوٹ کیلئے دفعہ370اور 35Aکو اڑچن قرار دیا تھا، ان خصوصی دفعات کو منسوخ کرنے کے بعد اب جو ترقی کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں، وہ بالکل غلط ثابت ہورہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایک تو پہلے ہی لوگوں کی پگڑیاں اچھالی گئیں، لوگوں کا تشخص چھینا گیا اور اس کے بعد اب ترقی کا جو ڈھونگ مچارہے ہیں، وہ سراب ثابت ہورہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ ’مجھے کہیں بھی جتنے لوگ ملے، وہ شکایتیں کررہے ہیں، سڑکوں کا حال برا ہے،بجلی کا حال اسے بھی برا ہے، بے روزگاری سب سے بڑی چیز ہے‘۔ انہوںنے کہاکہ مفتی محمد سعید کے دور میں رہبر تعلیم ٹیچر سکیم کے ذریعہ لاکھوں کی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار ملا، اس کے بعد پھر رہبر صحت اور رہبر زراعت جیسے روزگار سکیموں کو متعارف کیا گیا لیکن آج کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ ’’ہماری ریاست میں ساڑھے18فیصد بے روزگاری ہے جو ملک میں سے سے زیادہ ہے جو پہلے کے برعکس ہے جب یہاں دفعہ370موجود تھا‘‘۔ انہوںنے کہاکہ دفعہ 370نہ صرف یہاں کے تشخص کی رکھوالی کرتا تھا بلکہ ہماری زمینوں، نوکریوں حتیٰ کہ ہر چیز کی رکھوالی کرتا تھا ۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ بدقسمتی سے ابھی تو نوکریاں دینے کے بجائے نوکریاں لی جاتی ہیں، آنگن واڑی ورکروں کوبرخواست کرنے کی بات ہورہی ہے، جموںو کشمیر میں کئی ملازمین کو برخواست کیا جارہا ہے اور نوکریاں دینے کے بجائے لی جاتی ہیں۔ پی ڈی پی صدر نے کہاکہ ’’ اس کے ساتھ ساتھ میں دیکھتی ہوں کہ یہاں کا جو بھائی چارہ ہے، ہندو مسلم اکھٹے رہتے ہیں، اُس پر بھی کہیں نہ کہیںجو ’’فرقہ پرست ‘‘جماعتوں کاجماوڈا ہے، وہ اُس پر بھی حملہ آورہونا چاہتے ہیں،بھائی بہنوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں،گوجر ۔پہاڑی کرنا چاہتے ہیں، کشمیری۔ گوجر کرنا چاہتے ہیں، تو یہ صحیح نہیں ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ،بات کریںگے تو پکڑ کر لے جائینگے‘‘۔ انہوںنے کہاکہ’’کہیں جانا ہو تو باہر سے تالا لگاتے ہیں، گیٹ بند کرتے ہیں،تو ہم کیا کرسکتے ہیں، آپ کے پاس تو آپ کی زبان استعمال کرسکتے ہو، قلم استعمال کرسکتے ہو، باقی تواحتجاج کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ابھی آپ ملک میں دیکھئے، جہاں بد سے بدتر حالات ہیں وہاں لوگوں کو احتجاج کرنے کا حق ہے، یہاں تو آپ کو احتجاج کرنے بھی نہیں دیتے، اگر آپ کسی چیز کے خلاف پُرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو وہ کرنے نہیں دیتے ہیں، اور جب بھی ان کا دل چاہتا ہے تو نظر بندکردیتے ہیں۔