اترپردیش اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ

لکھنؤ//یواین آئی//اترپردیش کے پہلے مرحلے کے تحت 11اضلاع کی 58سیٹوں پر جمعرات کی صبح 7بجے شروع ہوئی ووٹنگ میں شام 6بجے تک تقریبا69.42فیصدی رائے دہندگان نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرلیا ہے ۔ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے باوجود اکثر پولنگ اسٹیشنوں پر رائے دہندگان کی قطاریں دیکھنے کو ملیں جس سے ووٹنگ فیصد میں مزید اضافے کے قومی امکانات ہیں۔نقلی مکانی کی وجہ سے سرخیوں میں رہے ضلع شاملی کے کیرانہ اسمبلی حلقے پر سب سے زیادہ 75.12فیصدی جبکہ ضلع غازی آباد کی صاحب آباد سیٹ پر45.00فیصدی رائے دہندگان نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔صبح میں تھوڑی سست رفتاری کے بعد پولنگ میں تیزی آئی اور الیکشن کمیشن سے موصول اطلاع کے مطابق مظفر نگر میں 65.34فیصدی،میرٹھ میں 60.91فیصدی،باغپت میں 61.35فیصدی، متھرا میں63.28فیصدی، بلند شہر میں60.52فیصدی ، ہاپوڑ میں60.50فیصدی، آگرہ میں60.33فیصدی اور علی گڑھ میں 60.49فیصدی ووٹنگ ہوئی۔قابل ذکر ہے کہ سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں پہلے مرحلے میں 73سیٹوں پر64.22فیصدی ووٹنگ ہوئی تھی جبکہ سال2012 میں 58.62فیصدی ووٹنگ ہوئی تھی۔راشٹریہ لوک دل(آر ایل ڈی) صدر جینت چودھری بجنور میں انتخابی مہم میں مشغول ہونے کی وجہ سے ووٹ ڈالنے متھرا نہیں پہنچے سکے لیکن ان کی بیوی نے ووٹ ڈالا۔ یوگی حکومت میں گنا وزیر سریش رانا نے تھانہ بھون میں ووٹ ڈالتے ہوئے سبھی 58سیٹوں پر جیت کا دعوی کیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق قومی راجدھانی دہلی کی سرحوں سے منسلک مغربی اترپردیش میں پرامن طریقے سے رائے دہندگا اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں۔