سیروسیاحت زندگی کے لئے بہت ہی ضروری ہے مگر جب یہی زندگی بخش عمل بے حیائی اور بے شرمی کی حدود کو پار کر جائے، تو یہ کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ ایسا ہی حال ابھی کشمیر میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تفریح کے نام پر گناہوں کا چلن عام ہو رہا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، جانے انجانے میں اس تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے معصوم بچے اور بچیاں بھی اس مصیبت میں پھنس چکے ہیں۔
یہ واضح حقیقت ہے کہ کچھ سال پہلے کشمیر میں سیر اور ایکسکرشن کا اتنا رواج نہیں تھا جتنا آج ہے۔ لوگ کبھی کبھی ایکسکرشن کے لئے جاتے تھے اور وہاں پر حیااور شرم کی پابندی کرتے تھے۔ وہ ایکسکرشن کو بھی عبادت سمجھتے تھے ۔ اللہ کی وسیع زمین کو دیکھنا اور پھر اس کا حمد بجا لانا، اس عمل کا بنیادی مقصد ہوتا تھا۔ مگر اس کے برعکس آج عبادت کا تصور بزرگوں کے ساتھ ساتھ جوانوں کے ذہنوں سے بھی اوجھل ہوگیا ہے۔ آنے والی سطروں میں ان وجوہات پر بات ہوگی۔
پہلا ہے اللہ کا خوف دل سے نکل جانا: آج ہر جگہ ایسا ماحول قائم ہوا ہے کہ جہاں اللہ تعالی کا خوف پایا ہی نہیں جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنی مرضی سے جی رہا ہے۔ کچھ بد دماغوں اور دنیا کی جاہ و حشمت کی وجہ سے اب ہم اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں لگتا ہے کہ خدا نے تو اس دنیا کو بنایا ہے، مگر اب ہم آزاد ہے۔ جیسے چاہے،جی لیں۔ اس وجہ سے بزرگ سے لے کر بچے تک، سارے کے سارے سیر اور ایکسکرشن کے نام پر بے حیائی کو فروغ دے رہے ہیں۔
دوسرا ہے دوسرے لوگوں کی نکالی: جو قوم اپنے آپ سے بے خبر ہوتی ہے، ان کو دوسروں کا اچھا اور برا سب کچھ اچھا لگتا ہے۔ یہی ہمارا حال ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، تو ہماری زندگیوں میں بھی اسلام ہونا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس اسلام کو چند رسومات تک سمیٹنا کوئی دانائی نہیں ہے۔ دوسرے مذاہب میں آخرت کا تصور یا تو پایا ہی نہیں جاتا ہے یا تو بہت ہی مشکوک حالت میں پایا جاتا ہے۔ ان کے لئے سیر اور ایکسکرشن کے دوران برایئوں میں مبتلا ہونا ان کے مطابق ٹھیک ہے مگر ہمیں تو آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ ہر عمل کا حساب ہوگا۔
تیسرا ہے دنیا کی لذت اور موت کاخوف دل سے نکلنا: گاڑیوں کی بھرمار، مکانوں کی بھرمار، پیسوں کے انبار، وغیرہ سے اب ہمیں لگتا ہے کیوں نہ زندگی کو آرام سے گزارا جائے۔ آنے والا کل کس نے دیکھاہے اس لئے جو کرنا ہے آج ہی کرلو اور ایک چیز جس نے جڑ پگڑی ہے وہ کہ موت سے کیوں گھبرانا، یا تو لوگ اس کے بارے میں سوچتے ہی نہیں کیونکہ اگر سوچیں گے بھی تو ان کو دنیا کی چیزوں سے دور رہنما برداشت نہیں ہوتا ہے۔
چوتھا ہے ہماری اپنی خامیاں: ہم نے کبھی بھی یہ کوشش نہیں کہ ہمارا معاشرہ امن والا، انصاف والا، حیا والا اور دوسروں کے لئے قابلِ ذکر و قابل ِ تقلید والا ہو۔ آپسی اختلافات اور حسد نے ہمیں ہمیشہ ایک دوسرے کو کافر اور نیچے گرانے میں مصروف رکھا، جس کی وجہ سے کرنے کا جو کام تھا وہ پردے کے پیچھے چلا گیا۔ آج بھی ہم فروعی مسائل میں ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ سماج کی اصلاح کی طرف ہمارا دھیان جاتا ہی نہیں ہے۔
تو ایسے میں وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ایکسکرشن اور سیر و تفریح کرتے رہیں مگر حیا اور پاکدامنی کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ اب بھی موقع ہے کہ اس بگڑے ہوئے معاشرے کو اصلی راہ پر واپس لایا جائے،ورنہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے بچے کھچے دینی اقدار اور معاشرتی روایات سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا اور ہم نہ دین کے رہیں گے اور نہ دنیا کے۔
( حاجی باغ، زینہ کوٹ)