ابلیس کا شکنجہ اور سوئی اُمت

انسانی فطرت کا جوہر جب مرجھانے لگے، جب ذہانت و فطانت کے پتے جھڑنے لگے، جب شرف و مروت کے تار بکھرنے لگے، جب الفت و محبت کے کلمات سڑنے لگے، جب عقل و دانش کی قدروقیمت گھٹنے لگے، جب علم و عمل کے پیکر کم ہونے لگے تو اس دنیا میں مومن کا قیام گویا آتشِ نمرود میں ڈالا گیا مثلِ خلیل  ساہے،کیونکہ اس دنیا میں مومن کی آہ و فغاں کو سمجھنے کے لئے رقیق قلب ،عاجز طبعیت ،سنجیدہ عقل اور شائستہ شخصیت مطلوب ہے اسی لئے آج اس دور میں بھی خدا ترس اور متقی انسانوں کے دلگداز پیغامات اور استدعات پہ کان نہیں دھرا جاتا اور مسلسل انسان اپنی عاقبت تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔اس امت میں ان جیالوں کی کمی کبھی نہیں رہی ہے جنہوں نے تن من دھن سے پوری  انسانیت کو خدا کی طرف نہ بلایا ہو ،حقائق سے آگاہ نہ کیا اور ایک خطرناک انجام سے نہ ڈرایا ہو لیکن بدمست دنیا مسلسل غفلت ،لطف ،عیاشی اور ظلم کے قفس میں محبوس ہے۔جکڑی ہوئی زنجیر میں خود کو آزاد محسوس کرنا خود فریبی سے کہیں زیادہ خودکشی ہے۔بھیڑیوں کے ریوڑ میں پھنس کے شیر کی آواز نکالنا خود کو اجل کے منہ میں دینے کے مترادف ہیکیونکہ بھیڑیوں کا جھنڈ اسے اپنا دشمن سمجھ کر اسے نوچنے لگیں گے۔انسانوں کے انسان نما چہرے اور حیوانی شرارت کی نفسیات کے درمیان شرف و متانت کی مورتیاں محض سرابِ صحراء ہیں جو پوری انسانیت سے دغابازی کا عمل جاری رکھے ہیں۔نفرت کی غذا سے پالا ہوا جسم،تعصب کی لہروں سے لبریز دل اور تنگ نظری کے دیو مالائی تصورات سے بھرا دماغ انسانیت کی بقا کے لئے ایٹم بم سے کم نہیں۔کیا ہے یہ تماشا  ! خدا سے بھی بغاوت روا ہے اور کعبہ کی تعظیم بھی جاری ہے ،خدا کے مقررکردہ حدود کی جہاں پامالی  ہورہی  ہے اور وہیں اسلام کی بات بھی ہورہی ہے ،اپنے نفس پہ شدید قسم کا ظلم جاری ہے اور دوسرے پر ڈھائے جانے والے ظلم کی بات ہورہی ہے ،لذت کے نرے غلام خدا کے محبوب ہونے کے مدعی بنے ہوئے ہیں،شہوت کے متوالے شرم وحیاکی بات کر رہے ہیں ،ظلم ڈھانے والے انصاف کی بات کررہے ہیں اورفساد برپا کرنے والے قیامِ امن پر کانفرنسسز کا انعقادکر رہے ہیں۔ یہ رنگ  برنگی تضاد دنیائے انسانیت کی بقا کے لئے نہایت خطرناک ہے جس سے یقینی طور حضرت انسان  کا خیرابلیسی شر سے تبدیل ہونے کے عمل سے گذر رہاہے۔انسان کے اندرخیر کا مادہ اس کی قدردانی کا محتاج ہے۔اگر انسان اس کی قدردانی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا تو یہ خیر اسے شرف و مروت کے اعلی مقام پر براجمان کرنے کا رول ادا کرتا ہے وگرنہ عدم قدردانی کی صورت میں  فسق و فجور اور ذلت و رسوائی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کا مسافر بناکے چھوڑتا ہے۔
مشرق سے لے کر مغرب تک کے تمام ممالک میں احکامِ خداوندی کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔یہ ناقابلِ ذکر انسان آج اپنا احسان خدا پر جتلا رہا ہے کہ میں نے ترقی کے زیورات سے زمین کو سجا رکھا ہے ورنہ کیا تھا یہاں بس بحر و بر کی وحشت ناکیاں ،ہواؤں کا شور ،جنات کا زور اور زمین سے لیکر فلک تک سکوت ہی سکوت  چھایاہوا تھا۔ہم آئے تو محلات تعمیر کئے، عمارات کھڑی کیں ،دشت و صحرا میں اپنا مسکن بسایا ،چاند پر قبضہ جمایااور تہذیب و تمدن کے چراغ روشن کئے لیکن انسان اپنی اوقات سے اس حد تک غفلت برتتا ہے کہ بھول بیٹھتاہے میں کبھی لم یکن شیئا مذکورا تھا اور اسی اللہ تعالیٰ نے اسے قابلِ ذکر بنایا،اسے دیگر مخلوقات کے مقابلے میں ایک خاص مقام عطا کیا اور اس کے لئے پوری کائنات مسخر کی۔
مذکورہ بالا تناظر میں فرد ہو یا جماعت،مرد ہو یا عورت،ظالم ہو یا مظلوم،حکومت ہو یا عوام ،حاکم ہو یامحکوم سب کے سب موقعہ پانے کے انتظار میں رہتے ہیں کہ کب ہوائے نفس کی بندگی بجالانے کا فریضہ ادا کیا جائے  تو دل کھول کر تمناؤں کی پیاس بجھائی جائے۔ لذت و تفریح کے غلاموں سے خیر کی توقع رکھناتقصیرِ کبیر اس مناسبت سے ہے کیونکہ  توقعات  انسان کے اندر سرد مہری اور کاہلی پیدا کرتی ہیں اور انسان خود سے کوئی کام کرنے کے بدلے دوسروں سے اس کی ابتداء کا انتظار کرتا ہے۔دنیا میں 58 مسلم ممالک مسلم دنیا ہی میں امن قائم کرنے کے لئے امریکہ اور یورپ سے بھیگ طلب کرتے ہیں ،اقوامِ متحدہ کی فوج طلب کرتے ہیں ،معاہدات اور بات چیت کی اہمیت بتلانے کے لئے ہاتھ جوڑتے ہیں۔اتنے بڑے بڑے ممالک اقوامِ متحدہ کے ایک فیصلے کو بھی اپنے حق میں کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے !کس ساکھ اور اوقات کے مالک بنے بیٹھے ہیں یہ ممالک ! دنیا کے کس خطے میں خون مسلم ارزاں نہیں لیکن ان کی ساکھ اور وقار بس اس میں ہے کہ یہ بیان بازی سے اپنا کام اور نام چلاتے ہیں۔چین کے ریچھ سے کون سا ملک باخبر نہیں کہ سنکیانگ میں اس نے لاکھوں مسلمانوں پر قہر برپا کیا ہے ،مشرقی درندوں کے نام سے کون سا ملک واقف نہیں جنہوں نے انسانیت کو شرمسار کر دینے والے مظالم انسانیت پر روا رکھے ہیں ،مغربی لٹیروں کی لوٹ سے کون واقف نہیں جنہوں نے مشرقِ وسطی کے امن وامان کو لوٹ لیا ہے اور خود مشرق وسطی میں بپا مسلکی و فرقہ ورانہ خباثتوں کی شدت کو کون نہیں  جانتا جس سے مشرق وسطی مثلِ جہنم بنا ہوا ہے۔پوری دنیا ابلیس کے شکنجے میں گرفتار نظر آتی ہے اور اس چنگل سے آزاد کرنے کا رول جو ملت ادا کر سکتی ہے اور جس کو مبعوث ہی اسی مقصد کے لئے کیا گیا تھا وہ تو اپنے مقصد کو کب کا بھول چکی ہے کہ اب غیر اسے اپنا مقصد یاد دلا رہے ہیں۔
انسانیت کی اس ڈوبتی ہوئی ناو پر کہاں سے ڈوری ڈالی جائے کہ بچاو کی صورت نکل آئے۔دنیا کے کس ملک کو انسانیت کی حفاظت کے لئے موزون قرار دیا جائے جب کہ حال یہ ہے سب انسانیت کو نوچنے والے درندوں کے زیرِ تسلط ہیں۔دولت ،لذت، اقتدار اور خوشامد کی طلبگار دنیا آخر کس طرح امن کو یقینی بنانے کا کوئی مضبوط لائحہ عمل وضع کر سکتی ہے ! جب کہ یہ چیزیں خود انسان کی اپنی تاریخ اسے امن کے لئے ذہر کے طور پیش کرتی ہے۔ضرورت اس  بات کی ہے کہ اس ملت کا ہر فرد اپنے اوپر عائد کردہ زمہ داری کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرے ورنہ ایک اسٹڈیو میں بیٹھ کریا کیمرے کے سامنے ٹیک لگا کر کبھی انقلاب برپا نہیں ہو سکتا ،عمل کی دنیا میں تجربات کرنے کی عادی یہ امت بن جائے تو بات بن سکتی ہے۔