سڈنی// (رائٹر) آسٹریلیا کی مخلوط حکومت میں نائب وزیر اعظم بارنابی جوائس اپنے عملے کے رکن کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات کا راز افشا ہونے اور اس پر تنقید کئے جانے کے بعد اپوزیشن کے ان استعفی دینے کے مطالبہ کو مسترد کر دیا۔اس 'نااہلی' کے اجاگر ہونے اور ان کے اس رویے کی وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے مذمت کی ہے ۔ اس واقعہ سے ناراض آسٹریلوی وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے اپنی کابینہ کے وزرا پر عملہ کے ارکان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔وزیر اعظم کی یہ تنبیہ اس وقت سامنے آئی جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے نائب وزیر اعظم کا اپنے عملے میں سے ایک فرد کے ساتھ جنسی تعلق ہے ۔پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے میلکم ٹرنبل نے اپنے نائب بارنابی جوائس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان سے 'سخت غلطی ہوئی' ہے ۔بارنابی جوائس کو چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ اس بارے میں گفتگو جاری ہے کہ آیا وہ وزیر کی حیثیت سے کام کرنے کے لائق ہیں یا نہیں۔ وزیر اعظم میلکم ٹرن بل نے کہا کہ وہ وزرا کے لیے بنائے گئے ضابطہ اخلاق کا ازسر نو جائزہ لیں گے ۔ ''وزرا کا رویہ اپنے مرتبے کے لحاظ سے ہونا چاہیے ۔ وہ اپنے عملے کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھ سکتے ۔'' اس سے قبل وزیر اعظم ٹرنبل نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ بارنابی جوائس ان کے دورہ امریکہ کے دوران ملک کے قائم مقام وزیر اعظم کا عہدہ نہیں سنبھالیں گے ۔اس تنازع کی خبر گذشتہ بدھ سے آسٹریلوی میڈیا میں چھائی ہوئی ہے جب بارنابی جوائس کے وکی کیمپیؤن کے ساتھ تعلقات کی خبر منظر سامنے آئی تھی۔میلکم ٹرنبل نے کہا کہ بارنابی جوائس پیر کے دن سے کام پر نہیں آئیں گے جب کہ حزب مخالف کی پارٹیوں نے نائب وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے ۔ رائٹر