آتشی اسلحہ قوانین میں تبدیلی ضروری ہے :وزیر اعظم نیوزی لینڈ

کرائسٹ چرچ//نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا ٓارڈرن نے کہا کہ کرائسٹ چرچ شہر میں دو مساجد پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد ملک کے آتشی اسلحہ قوانین میں تبدیلی ہوگی۔  واضح رہے ایک مسلح شخص نے جمعہ کو دو مساجد پر حملہ کیاتھا جس میں 49 افراد ہلاک اور کئی شدید زخمی ہو گئے تھے ۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ہفتہ کو کہا‘‘ مجھے بتایا گیاہے کہ کلیدی مجرم نے پانچ بندوقوں کا استعمال کیا، اس کے پاس ان بندوقوں کا لائسنس تھا. مجھے بتایا گیا اس نے یہ اسلحہ 2017 کے نومبر میں حاصل کیا تھا۔ میں آپ کو ایک بات ابھی بتا سکتی ہوں کہ اب ہمارے بندوق قانون بدل جائیں گے ’’۔وزیر اعظم نے یاد کیا کہ 2005، 2012 اور 2017 میں نیوزی لینڈ میں بندوق قوانین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔محترمہ آرڈرن نے دلیل دی ابھی تبدیلی کا وقت ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حملوں کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والوں نے تین افراد کو گرفتار کیا تھا ان میں سے ایک آسٹریلیائی شہری پر قتل کا الزام عائد کیا گیا، اسکو ہفتہ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔