سرینگر//بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے قتل کے ملزم پولیس افسر کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے انسپکٹر غضنفر علی کو23جولائی کو نوجوان کی مبینہ ہلاکت سے متعلق اپنے تاثرات کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی۔یہ معاملہ7سال قبل ایک کیس کا ہے،جس کے دوران20برس کے ایک نوجوان طالب علم جنید کھورو کا قتل ماروائے عدالت ہوا تھا۔اہل خانہ نے سوپور پولیس تھانہ کے اس وقت کے ایس ایچ ائو غضنفر علی اور دیگر اہلکاروں پر جنید کے قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ پولیس نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنید ایک عسکریت پسند تھا،اور ایک جھڑپ کی پہل کی تھی،جس کے بعد اس نے خود کشی کی،اور اس حوالے سے ایک کیس زیر نمبر 178/2011 پولیس تھانہ سوپور میں درج کیا گیا ہے۔بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں2011سے اس کیس کی شنوائی ہو رہی ہے،جبکہ کمیشن کی تحقیقاتی ونگ نے اس کیس کی آزادانہ سطح پر چھان بین بھی کی،جس کے دوران انہوں نے اہل خانہ کے الزام کی تصدیق کی۔کمیشن کی تحقیقاتی ونگ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کرائم برانچ کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات اور سوپور پولیس کے خلاف علیحدہ ایف آئی آرد درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کی بنیاد پر بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے ڈاکٹر فدا حسین،جنہوں نے جنید کی نعش کا پوسٹ مارٹم کیا گیاتھا،کو بھی کمیشن کے سامنے طلب کیا ۔ ڈاکٹر نے کمیشن کے سامنے یہ بیان دیا کہ انہیں اس وقت کے بلاک میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عبدالرشید وانی اور پولیس اہلکاروں نے،ٹاسک فورس کیمپ میں نعش کا معائنہ کرنے پر دبائو ڈالا،اور وہ پوسٹ مارٹم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔