عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//ریاستی تحقیقاتی ایجنسی ، کشمیر نے پیر کے روز 1990 میں شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی نرس سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں سابق جے کے ایل ایف سربراہ یاسین ملک سمیت پانچ افراد کے خلاف 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ سری نگر کی خصوصی عدالت میں پیش کر دی۔ چارج شیٹ ایڈیشنل سیشنز جج، ٹاڈا/پوٹا اور این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی عدالت، سری نگر میں داخل کی گئی ہے۔ اس مقدمے کی تحقیقات 18 مارچ 2024 کو جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی ہدایت پر ایس آئی اے کے سپرد کی گئی تھیں، جس کے بعد ایجنسی نے تفصیلی تحقیقات انجام دیں۔ایس آئی اے کے مطابق چارج شیٹ گواہوں کے بیانات، سرکاری دستاویزات، فرانزک اور بیلسٹک رپورٹوں، طبی شواہد، الیکٹرانک مواد اور زمینی سطح پر کی گئی وسیع تحقیقات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ایجنسی نے کہا کہ واقعے کے تقریباً 35 برس بعد چارج شیٹ کا عدالت میں پیش کیا جانا وادی کے طویل عرصے سے زیر التوا دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں انصاف کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔
ایس آئی اے نے واضح کیا کہ دہشت گردی سے متعلق سنگین جرائم وقت گزرنے کے باوجود تحقیقات کے دائرے سے باہر نہیں ہوتے۔ تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو سکمز صورہ میں بطور اسٹاف نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، کو 18 اپریل 1990 کو اسپتال کے قریب سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں سری نگر کے مالباغ علاقے کی عمر کالونی میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت کے خراب سیکورٹی حالات اور خوف کے ماحول کے باعث کئی دہائیوں تک یہ مقدمہ منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ گواہ سامنے آنے سے گریز کرتے رہے۔ایس آئی اے نے بتایا کہ مقدمہ دوبارہ کھولنے کے بعد محفوظ گواہوں، عینی شاہدین کے بیانات، فرانزک تجزیے، طبی ریکارڈ اور دیگر دستاویزی شواہد کی مدد سے واقعے کی مکمل کڑیوں کو دوبارہ جوڑا گیا۔
چارج شیٹ میں سابق جے کے ایل ایف سربراہ یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلکو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ایجنسی کے مطابق نامزد ملزمان میں سے عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو وفات پا چکے ہیں، جبکہ یاسین ملک ایک دوسرے مقدمے میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ ایس آئی اے نے مزید بتایا کہ خورشید احمد چلکو کے خلاف اشتہاری کارروائی شروع کر دی گئی ہے، کیونکہ وہ مبینہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر فرار ہو چکے ہیں۔چارج شیٹ میں رنبیر تعزیرات ہند (آر پی سی) کی دفعات **364، 341، 302، 34، 201 اور 120-بی کے علاوہ ٹیررسٹ اینڈ ڈسٹرپٹو ایکٹیوٹیز (پریوینشن) ایکٹ (ٹاڈا) 1987 اور آرمز ایکٹ 1959 کی دفعات 7 اور 27 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ایس آئی اے نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ سرلا بھٹ کو مخبر قرار دینے کے الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں اور انہیں مبینہ طور پر ان کے قتل کا جواز بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ قتل 1990 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں کشمیری پنڈت برادری میں خوف و ہراس پھیلانے اور ان کی نقل مکانی کو فروغ دینے کی ایک وسیع مہم کا حصہ تھا۔