پاکستانی فائرنگ سے 31شہری اور 39 سیکورٹی اہلکار ہلاک :جی کیشن ریڈی
نئی دہلی// مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ 5اگست 2019میں دفعہ 370اور 35اے کی منسوخی کے بعد لائن آف کنٹرول پرسرحد پار سے فائرنگ اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں 31 شہری اور 39 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر پاکستان کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات دہائیوں سے جارہی ہیں اور اسکے خلاف موثر جوابی کارروائی بھی کی جاتی رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستانی فائرنگ سے نہ صرف عام شہر ی بلکہ سیکورٹی فورسزاہلکار بھی لقمہ اجل بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے 28 فروری 2021 تک ایسے سینکڑوں واقعات میں 31 عام شہری اور 39 سیکورٹی فورسز اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن کے نزدیک رہائش پذیر لوگوںکی حفاظت کیلئے زیر زمین بینکر تعمیر کئے گئے ہیں ۔ ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سرحد پار سے فائرنگ کی صورت میں انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کیلئے 14460بینکروں کو منظوری دے دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان میں سے جموں وکشمیر کے سرحدی علاقوں میں پہلے ہی 7 ہزار،856 بنکرز تعمیر کیے جاچکے ہیںجبکہ دیگر بینکروں کی تعمیر بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کل 32.31 لاکھ افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیئے گئے ہیں ، جبکہ 2.15 لاکھ درخواستوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔ ریڈی نے لوک سبھا میں یہ بھی کہا کہ حکومت جموں وکشمیر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ، 31 دسمبر 2020 تک ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لئے کل 35,44,338 درخواستیں موصول ہوئی ہیں ، جن میں سے 32,31,353درخواست دہندگان کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کردی گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (ضابطہ کار) کے قواعدمیں کچھ دستاویزات کو درخواست کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جن درخواستوں میں مقررہ دستاویزات کی کمی ہے وہ مسترد کردیئے جاتے ہیں۔