جموں// جموں وکشمیرمیں بین الاقوامی سرحد پر ہند و پاک افواج کے مابین گولہ باری کا تبادلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پیر اور منگل کی درمیانی رات پاکستانی رینجرس کی طرف سے جموں اور سانبہ سیکٹروں میں 20 سے زائد سرحدی چوکیوں اور 30 دیہات کو نشانہ بنایا گیا۔ تازہ فائرنگ میں تین عام شہری زخمی ہوئے ۔پاکستان کی طرف سے آر ایس پورہ، ارنیہ اور رام گڑھ سیکٹروں میں فائرنگ کا سلسلہ پیر کی شام دوبارہ شروع ہوا۔ پاکستانی رینجرس کی طرف سے ارنیہ سیکٹر پر گذشتہ شام چند گھنٹوں کے وقفہ کے بعد شدید مارٹر شلنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا۔ پاکستان کی طرف سے بعدازاں ملحقہ رام گڑھ اور آر ایس پورہ سیکٹروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے قریب 20 سرحدی چوکیوں اور 30 سرحدی دیہات کو 120 ایم ایم مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایس ایف جوان سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کا موثر اور منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ آر ایس پورہ میں تازہ فائرنگ میں تین عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ان کی شناخت 68 سالہ تھرو رام ولد سنسار سنگھ ساکنہ رائے پورہ ، وپن چودھری ولد باوا رام ساکنہ رائے پورہ اور 52 سالہ دیس راج ولد لال چند ساکنہ کوروتانہ خورد کی حیثیت سے کی گئی ہے۔بین الاقوامی سرحد کے ارنیہ سیکٹر میں پیر کے روز ہند و پاک افواج کے مابین گولہ باری کا شدید تبادلہ ہواجس میں ریاستی پولیس کے ایک اسپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) سمیت 6 افراد زخمی ہوئے تھے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مسلسل سرحدی گولہ باری کے پیش نظر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا ’کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس اور دوسرے محکموں کی ٹیموں کو تیار حالت میں رکھا گیا ہے۔ ان کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں‘۔ ضلع انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کیمپوں میں قریب 500 سرحدی رہائشی ٹھہرے ہوئے ہیں‘۔ جموں اور سانبہ اضلاع میں بین الاقوامی سرحد کے نذدیک واقع علاقوں میں تعلیمی ادارے گذشتہ قریب چھ دنوں سے بند پڑے ہوئے ہیں۔ 18 مئی کو جموں اور سانبہ اضلاع میں بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی رینجرز کی شدید مارٹر شلنگ کے نتیجے میں سرحد کے اس پار 4 عام شہریوں اور ایک بی ایس ایف کانسٹیبل سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ قریب ایک درجن دیگر زخمی ہوئے تھے ۔