سرینگر //جموں کشمیر کی انتظامیہ نے’ریاست کی سلامتی کے مفاد میں‘ جموں و کشمیر پولیس کے 16 ماہ سے گرفتار ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ دیویندر سنگھ اور دو ٹیچروں کو نوکریوں سے برطرف کردیا ہے۔ اس سے قبل اسسٹنٹ پروفیسر اور ایک نائب تحصیلدار سمیت 3ملازمین کو زبردستی نوکریوں سے نکال دیا گیا تھا۔تازہ حکم نامہ میں کہا گیا ہے’’لیفٹیننٹ گورنر اس معاملے کے حقائق اور حالات پر غور کرنے کے بعد مطمئن ہیں اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر کہ دیویندر سنگھ ، ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ پولیس (معطل) ولد دیدار سنگھ ساکن اور ی گنڈ ترال پلوامہ کی سرگرمیاں انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کی ضمانت دیتے ہیں‘‘۔آرڈر میں کہا گیا‘‘لیفٹیننٹ گورنر آئین ہند کے دفعہ 311 کی شق (2) کی دفعات (2) کے تحت اس بات سے مطمئن ہیں کہ ریاست کی سلامتی کے مفاد میں ، اس معاملے میں تحقیقات کرنا مناسب نہیں ہے۔ لہٰذ الیفٹیننٹ گورنر فوری طور پر دویندر سنگھ کو ملازمت سے برطرف کرتے ہیں‘‘۔اسی طرح کے احکامات لیفٹیننٹ گورنر نے کرناہ کے گاؤں دلدار بٹہ پورہ کے محکمہ تعلیم کے ٹیچر بشیر احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ اور ٹرچ کپواڑہ کے ایک اور استاد محمد یوسف گنی ولد غلام قادر کے خلاف بھی استعمال کئے ہیں۔ان اساتذہ کولیفٹیننٹ گورنر نے دستور ہند کی دفعہ 311 کی شق (2) کی شق (2) کی دفعہ کی شق (سی) کے تحت نوکری سے بے دخل کیا ہے۔اس سے قبل ڈاکٹر عبدالباری نائیک ، اسسٹنٹ پروفیسر جغرافیہ گورنمنٹ وومنز کالج ادھمپور اور نائب تحصیلدار پلوامہ کے علاوہ گورنمنٹ مڈل اسکول کپواڑہ کے استادادریس جان کو بھی اسی قانون کے تحت نوکری سے برخواست کردیا گیا تھا۔