اشفاق سعید
سرینگر //پچھلے 14 برسوں کے دوران گاڑیوں کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2008 میں جموں و کشمیر میں گاڑیوں کی تعداد 6,68,445 تھی۔ لیکن یہ اب تقریباً ساڑھے 14 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں رجسٹرگاڑیوں کی کل تعداد میں نجی کاروں اور دو پہیوں والی گاڑیوں کا حصہ تقریباً 7 لاکھ ہے۔ ان میں سے 3,11,608 کی رجسٹریشن ہوئی ہے جبکہ دو پہیوں کی رجسٹریشن کی تعداد 3,85,672 ہے۔اگر صرف سرینگر ضلع کی بات کی جائے تو یہاںگزشتہ چار برسوں کے دوران نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کا زیادہ بوجھ بڑھ گیا ہے۔محکمہ ٹرنسپورٹ حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پچھلے چار سالوں میں رجسٹرڈ چھوٹی گاڑیوں کی تعداد بڑھ کر 30,204 ہو گئی ہے، جب کہ رجسٹرڈ دو پہیہ گاڑیوں کی تعداد 43,202 ہے۔ 2018اور2019کے بعد سرینگر میں 30,204 لائٹ موٹر وہیکل (LMV) رجسٹرڈ ہیں۔ سال 2019اور2020میں 8414 گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں ، 2020/21میں 7333 گاڑیاں، 2021/22میں 6820 اور2022/23میں 7637 گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق سرینگر میں گزشتہ چار سالوں کے دوران 43,202 دو پہیہ گاڑیوں کو بھی رجسٹر کیا گیا۔ ان میں سے 2019 میں سب سے زیادہ 12061 دو پہیہ گاڑیوں کی رجسٹریشن ہوئی اور اس کے بعد 2019 میں 11372 رجسٹرڈ ہوئیں۔ دو سالوں میں 9499 اور 10270 ٹو وہیلر رجسٹر ہوئے۔گاڑیوں کی سالانہ رجسٹریشن کی تعداد 2011 میں 0.17 لاکھ سے بڑھ کر 2018 میں 0.24 لاکھ ہو گئی ہے۔ دو پہیہ گاڑیوں کا حصہ سب سے زیادہ 52 فیصد ہے اس کے بعد کاروں اور جیپوں کا 40 فیصد حصہ ہے۔محکمہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر سرینگر میں ہر دن 10ہزار سے زیادہ گاڑیاں داخل ہوتی ہیں اور ان میں صرف چھوٹی گاڑیاں ہیں، جن میں ٹاٹا سومو، ٹاٹا میٹاڈار، موٹر سائیکل، سکوٹیز، کاریں وغیرہ شامل ہیں۔ گاڑیوں کی خرید فروخت میں آسانی کی وجہ سے لوگ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں خریدنے میں مصروف عمل ہیں اور معمولی کمائی ہونے کے ساتھ ہی گاڑیاں خریدنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ معلوم رہے کہ ٹریفک کی نقل عمل پر مکمل نظر رکھنے کے لئے سرکار نے فروری 2022میں سرینگر اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت ٹریفک نظام میں بڑا تکنیکی انقلاب لانے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ جموں اور سرینگر شہروں کیلئے انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (ITMSایک منصوبہ بنایا ہے اس منصوبہ کے تحت خودکار چالان، مینوئل چالان، ویڈیو پروف بنانا، ریڈ لائٹس پر دھیان اور بہت کچھ شامل تھا۔جموں میں یہ خود کار نظام مکمل ہوگیا ہے لیکن سرینگر شہر کیلئے اس پر 15مارچ سے کام شروع ہوگا۔