جموں + راجوری +اوڑی//جموں وکشمیر کے راجوری اوراوڑی میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کے دوران ہند و پاک افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ راجوری میں پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک معمر شہری زخمی ہوا ہے۔ اس دوران صوبہ جموں کے تین اضلاع جموں، سانبہ اور کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد پر گذشتہ 9 دنوں سے جاری ہلاکت خیز گولہ باری کا سلسلہ تھم گیا۔ بین الاقوامی سرحد پر بدھ کے روز ہلاکت خیز گولہ باری ہوئی جس میں پانچ عام شہری ہلاک جبکہ 5 بی ایس ایف اہلکاروں سمیت 40 دیگر زخمی ہوئے۔ راجوری میں پاکستان کی طرف سے گذشتہ رات قریب گیارہ بجے بھارتی فوج کی چوکیوں اور سرحدی دیہات کو نشانہ بناکر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 60 سالہ معمر شخص محمد مشری زخمی ہوا۔ گولی لگنے سے زخمی ہوئے شہری کو پہلے نوشہرہ اسپتال اور بعدازاں گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال جموں منتقل کیا گیا۔دریں اثناء علاقے میں گزشتہ رات پکھرنی ، جھنگڑ ولام سیکٹروں میں شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔اس دوران ہند و پاک افواج کے درمیان اوڑی میں ایل او سی پر گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان کی طرف گذشتہ رات اوڑی کے کمل کوٹ سیکٹر میں ہلکے اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔’فائرنگ کا سلسلہ رات کے دس بجے سے رات کے ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا‘۔ پاکستان کی طرف سے بھارتی فوج کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے پاکستانی فائرنگ کا موثر جواب دیا‘۔ فائرنگ میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔دریں اثنا صوبہ جموں کے جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں گذشتہ 9 روز سے جاری ہلاکت خیز گولہ باری کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ پولیس نے بتایا ’بین الاقوامی سرحد پر کٹھوعہ سے لیکر اکھنور تک دونوں طرف کی بندوقیں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات سے خاموش ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ نصف شب سے بین الاقوامی سرحد پر کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ تاہم بتایا کہ حکومت کی طرف سے محفوظ علاقوں میں قائم کئے گئے ریلیف کیمپوں میں قریب دس ہزار لوگ پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ’لوگوں کو تمام بنیادی سہولیات بشمول پینے کا صاف پانی اور کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ ان کیمپوں میں ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی تعینات رکھی گئی ہیں‘۔ بین الاقوامی سرحد کے نذدیک دیہات میں قائم تمام تعلیمی اداروں کو احتیاطی طور پر بند رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر رواں برس سرحدی شلنگ کی وجہ سے 44 لوگ مارے گئے۔ ان میں 18 سیکورٹی فورس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی طرف سے رواں برس کے دوران 700 سے زائد مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1999 کے تنازعے کے بعد 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔