پرویز احمد
سرینگر//یورپین ماہر نفسیات کی انجمن کی جانب سے کئی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موبائل فون کے استعمال سے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ ذہنی دبائو ہوتا ہے۔ یورپین ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ زیادہ وقت تک موبائل فون کے استعمال سے نکلنے والی تابکاری کرنیں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے ذہن پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ کشمیر میں بھی ماہر نفسیات اس بات سے متفق ہیں کہ نوجوان لڑکیوں میں زیادہ سمارٹ فون استعمال کرنے سے مختلف ذہنی پریشانیوں میں اضافہ ہواہے ۔انکا کہنا ہے کہ ایک مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتال میں آنے والے ہر 10 مریضوں میں 2 بے چینی ، ذہنی دبائو اور رویئے میں تبدیلی کی شکایات سے متاثر ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے سمارٹ فون استعمال کرنے کے مضر اثرات جاننے کیلئے سینکڑوں افرادپر کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وادی میں سمارٹ فون کے استعمال سے کشمیری نوجوانوں میں بے چینی، ذہنی دبائو اور مزاج میں جارحانہ پن میں اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وادی میں مجموعی طور پر 21.70فیصد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سمارٹ فون کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ جن میںمردوں میں 10.66فیصد جبکہ خواتین میں 11.04فیصد میں سمارٹ فون کے مضر اثرات پائے گئے ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ نفسیات کے سینئر پروفیسر یاسر احمد راتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’جموں و کشمیر میں انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی جانب سے ایسی کوئی تحقیق نہیں کی گئی ہے لیکن او پی ڈی میں آنے والے مریضوں میں
ایسی کئی جواں سال خواتین اور بالغ لڑکیاں ہوتی ہیں، جنہیں سمارٹ فون نے عادی بنایا ہے اور انکے عام رویئے میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ رات دیر گئے تک موبائل فون اور سماجی رابطہ گاہوں پر سرگرم رہنا ذہنی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹر یاسرنے کہا کہ خواتین جذباتی ہوتی ہیں اور ان کے ہارمونوں میں وقت وقت پر تبدیلی آتی ہے جس کی وجہ سے ان میں ذہنی تنائو بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا’’ نوجوان خواتین سوشل میڈیا پر خود کو غیر دانستہ طور پر مصروف رکھتی ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک ایسی بیماری کے عادی بن جاتی ہیں جس کا انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں میں سے ہر 10افراد میں 2ایسے ہونگے جو موبائل فون کی وجہ سے اعصابی بیماری کے شکار ہوتے ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ چین، امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت مغربی ممالک میں فی الوقت سب سے کم موبائل فون استعمال ہو رہے ہیں اور اسکی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے فوری طور پر اسکے منفی اثرات کو محسوس کیا اور وہ اسے زیادہ استعمال کرنے سے گریز کرنے لگے۔انکا مزید کہنا ہے کہ مغرب نے موبائل فون متعارف کرکے پہلے کچھ تھوڑے عرصے کیلئے اسے خود استعمال کیا لیکن پھر اسے مضر صحت پا کر استعمال کرنا چھوڑ دیا۔