آسٹریا// غیر ملکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق یوروپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹوسک نے کہا کہ یوروپی یونین ممالک نے آمادگی کا اظہار کیا کہ فروری میں منعقد ہونے والے عالمی اجلاس میں عرب ممالک سے تارکین وطن سمیت دیگر مسائل اٹھائیں گے ۔یوروپی یونین کے رہنماؤں نے غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام کیلئے مصر سمیت شمالی افریقی مملک کے ساتھ انسانی اسمگلروں کے تنازع پر 'سخت بات چیت' کا عندیہ دیا ۔ دوسری جانب آسٹرین چانسلر سیبسٹین کرز نے کہا کہ ''مجھے یقین ہے یہ غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق اہم پیش رفت ہے لیکن سب سے بڑی جنگ انسانی اسمگلروں کے خلاف ہوگی''۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات ہو گی کیونکہ غربت کی وجہ سے ہزاروں لوگ غیر قانونی طور پر سفر کرتے ہیں۔اس ضمن میں واضح رہے کہ یوروپی یونین نے ترکی اور لیبیا کے کوسٹ گارڈز افسران کو بحری راستے ہونے والی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے تربیت بھی دی تھی۔ترکی اور لیبیا یوروپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے گیٹ وے سمجھے جاتے ہیں اور مذکورہ تربیت کے بعد انسانی اسمگلنگ کی غیر معمولی کمی واقع ہوئی تھی۔مصری وزیر خارجہ نے تصدیق کی کہ وہ یوروپی یونین اور عرب لیگ اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں دیگر مسائل سمیت انسانی اسمگلنگ زیر بحث آئیں گے تاہم انہوں نے حتمی تاریخ نہیں بتائی۔ آسٹرین چانسلر سیبسٹین کرز نے مصر کے دورے کے بعد کہا مصر نے 2 برس میں اسمگلنگ کیخلاف 'غیر معمولی اقدامات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب یوروپی یونین کے ذرائع نے بتایا مصر نے انسانی اور منشیات اسمگلرز کے سدباب کیلئے سخت نگرانی کا نظام واضع کیا ہے جسے شمالی افریقن ممالک بھی اپنا سکتے ہیں۔سیبسٹین کرز نے کہا کہ وہ مصری صد ر سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بعد ملاقات کریں گے ۔یوروپی یونین کے سفیر نے بتایا کہ یوروپ اور شمالی افریقہ میں سینٹرز قائم کرنے سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دینے میں وقت درکار ہے ، مذکورہ سینٹرز میں معاشی سختیوں سے متاثر غیرقانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا جا سکتا ہے ۔دوسری جانب حکام نے کہاکہ برسلز مصر سے 'جہاز سے اترنے والا نظام' مرتب کرنے کو نہیں کہہ رہا۔ یوروپی یونین کے سفیر نے بتایا کہ ایسا نظام مرتب کیا جائے جو سرحدی امور سے متعلق ہو اور جس سے تجارت کو فروغ ملے ۔یو این آئی