نئی دہلی//مشرقی لداخ میں گرم چشموں،گوگرااور دیسپانگ کے متنازعہ مقامات سے باقی ماندہ فوجیوں کی واپسی کے عمل کو آگے لیجانے کیلئے ہند چین فوجی مذاکرات کا ایک اوردور ہوا۔کارپس کمانڈر سطح کے ان مذاکرات کا گیارہواں دور حقیقی کنٹرول لائن کے اِس طرف بھارت کی حدود میں چشول مقام پرجمعہ ساڑھے دس بجے شروع ہوا۔واقف کار ذرائع کے مطابق مذاکرات کا دسواں دور 20فروری کومنعقد ہواتھا،جبکہ اس سے دودن پہلے پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں پر دونوں اطراف کی فوجوں کی واپسی کا عمل مکمل ہوا تھا ۔جمعہ کو ہوئے مذاکرات میںبھارت کے وفد کی قیادت لیفٹینٹ جنرل پی جی کے مینین نے کی جو لہہ میں مقیم 14ویں کمان کے سربراہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت باقی ماندہ ،متنازعہ مقامات سے فوجوں کی مکمل واپسی پر زوردے گا ۔گزشتہ ماہ فوجی سربراہ ایم ایم نروانے،نے کہاکہ پینگانگ جھیل سے فوجوں کی واپسی سے بھارت کو خطرہ کم ہواتھالیکن وہ مکمل طور ختم نہیں ہواتھا۔بھارت اور چین کے مابین گزشتہ سال 5مئی کو اُس وقت سرحدی تعطل پیدا ہوتھا جب پینگناگ جھیل کے علاقے میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی اور طرفین نے یہاں اپنی فوجوں کی تعیناتی میں مزید فوج اور کمک طلب کرکے اضافہ کیاتھا اور بھاری تعداد میں اسلحہ وتوپ خانہ بھی بھیج دیاتھا۔دونوں طرفوں کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح کے مذاکرات کے بعد طرفین نے پینگنانگ جھیل سے فوجیوں اور اسلحہ کی واپسی کا عمل فروری میں مکمل کیا ۔بھارت باقی ماندہ علاقوں جن میں دیسپانگ،گرم چشمے اور گوگرا بھی شامل ہیں ،سے فوجوں کی مکمل واپسی پر زوردے رہا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان مجموعی تعلقات بہتر ہوں۔