سید مصطفیٰ احمد
ہمارے اجسام پر زخموں کے اتنے نشانات ہیں کہ ان کا شمار بھی مشکل ہے۔ ہر آن زخمی جسموں پر مزید درد کی گہری پرتیں چڑھ جاتی ہیں۔ ہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ہر طرف خوشیوں کی نفیس لہروں کا سماں ہے تو ہماری ہی قسمت میں کانٹوں کا ہار کیوں ہے! کسی نغمہ نگار نے کیا خوب لکھا ہے کہ قسمت والوں کو ملتا ہے پیار کے بدلے پیار، میرے قسمت میں کانٹوں کے ہار۔ کسی اور نے کیا خوب لکھا ہے کہ ہے سبھی کچھ جہاں میں، دوستی ہے وفا ہے، اپنی ہی کم نصیبی ہم کو نہ کچھ بھی ملا ہے۔ ایک نغمہ نگار دل کے زخموں کو ایسے بیان کرتا ہے کہ اداس رات ہے، ویران دل کی محفل ہے، نہ ہم سفر ہے کوئی نہ کوئی منزل ہے۔ ان سب لکھاریوں کے اقلام سے ہمارے زخموں کی کچھ حد تک ترجمانی ضرور ہوتی ہے۔ صبح سے لے کر شام تک زخموں کے ابواب میں ایک اور باب کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ ندی کی مانند ہے جو اپنے راستے پر ہمیشہ رواں دواں رہتی ہے۔ کیا زخم ہی ہماری زندگی ہے؟ جیسے سدرشن فاقر صاحب لکھتے ہیں کہ زخم جو آپ کی عنایت ہے اس نشانی کو نام کیا دیں ہم۔ کیا زندگی کا تحفہ زخموں کی شکل میں ہی ہم کو دیا گیا ہے؟ اپنی کم معلومات کی بنا پر میں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہا ہوں کہ ہاں! ہماری زندگیاں بس زخموں کی کڑیوں میں اضافہ کرنے کے مترادف ہیں، باقی کچھ نہیں ہے۔ پھول سے دکھنے والے اجسام آگ پر تپائے گئے ہیں اور زخموں کے نوکیلے تیروں نے روح کو چھلنی کر دیا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری قسمت میں صرف کانٹوں کا ہی کیوں ایک لامتناہی سلسلہ ہے؟
اصل میں جس نے بھی اس دنیا میں جنم لیا ہے اس کو دکھ، درد اور کانٹوں کی چبھن سے گزرنا تو ضروری ہے، مگر کیا یہی آخری اور حتمی وجہ ہے جس سے زخموں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لیتا؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ اصل میں ایسے بہت سارے اسباب ہیں جو ہمارے ظاہری اور مخفی دونوں قسم کے زخموں کو زندہ رکھنے میں اپنا رول ادا کرتے ہیں۔
پہلی بڑی وجہ ہماری آپس میں بے وفائی اور بے رحمی ہے۔ ہم انسان ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے، ایک دوسرے کے دل پر تیز دھار خنجر چلا دیتے ہیں۔ رشتوں کی پناہ گاہوں میں بھی اب خیانت، حسد، جھوٹ اور خود غرضی کا راج ہے۔ ماں باپ کی نافرمانی، بھائی بہنوں کی بے رخی، دوستوں کی دھوکہ دہی، محبت میں دھوکا یہ سب زخموں کی نئی پرتیں چڑھا رہے ہیں۔ جب انسان انسان کا ہی دشمن بن جائے تو پھر زخموں کا سلسلہ کیسے رک سکتا ہے؟ دوسری وجہ ہماری اندرونی کمزوریاں اور نفسیاتی زخم ہیں۔ ہم نے اپنے دل کو حسرتوں، حسد، غصے، لالچ اور خواہشات کی آگ میں جلا کر رکھ دیا ہے۔ خود سے دوری، اپنی حقیقت سے فرار اور کامیابی کی دوڑ میں اپنی روح کو کھو دینا یہ سب اندر سے ایسے زخم پیدا کرتے ہیں جو باہر سے نظر نہیں آتے مگر روح کو مسلسل چبھتے رہتے ہیں۔ان زخموں سے ہر آن خون رستا رہتا ہے۔ تیسری وجہ دنیاوی مادیت اور بے مقصد دوڑ ہے۔ ہم نے سکون چھوڑ کر دولت، عزت، مقام اور شہرت کی ایسی دوڑ لگا رکھی ہے کہ سانس بھی لینے کا موقع نہیں ملتا۔ جب دل خالی ہوجائے اور صرف دنیا کی چمک دمک سے بھر جائے تو پھر سکون کہاں سے آئے گا؟ سکون کی جگہ زخم ہی تو رہ جاتے ہیں۔ چوتھی وجہ ہمارا صبر اور شکر کا فقدان ہے۔ مشکل کے وقت ہم شکوہ کرنے لگتے ہیں، حالات پر سوال اٹھاتے ہیں، مگر جو کچھ ہمارے پاس ہے اس کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں۔ جب صبر ٹوٹ جاتا ہے اور زبان سے صرف شکوے ہی نکلتے ہیں تو زخموں کی گہرائی اور بڑھ جاتی ہے۔ پانچویں وجہ ہماری غلطیوں کی عادت اور ان سے سیکھنے سے دوری ہے۔ بار بار ایک ہی غلطیاں دہرانا، اپنی کمزوریوں کو تسلیم نہ کرنا اور خود کو بدلنے کی کوشش نہ کرنا یہ سارے عیب اندر سے زخموں کو تازہ رکھتے ہیں۔
ان تمام وجوہات کی وجہ سے ہمارے زخم اب صرف جسم پر نہیں، روح پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔اتنے گہرے کہ ان کو کسی پیمانے سے ناپا نہیں جاسکتا ہے۔ان زخموں نے ہماری راتوں کو ویران کر دیا ہے، دن کو اجیرن بنا دیا ہے، مسکراہٹ اب صرف چہرے پر رہ گئی ہے، آنکھوں میں اداسی کی گہرائی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہماری نسلیں بھی انہی زخموں کو ورثے میں پا رہی ہیں۔ خاندان ٹوٹ رہے ہیں، معاشرہ بے حس ہوتا جا رہا ہے۔ یہ زخم اب صرف درد نہیں دیتے، یہ ہماری وجودیت کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ ہم زندہ تو ہیں، مگر زندگی کا ذائقہ کھو بیٹھے ہیں۔ ہماری آنکھیں روتی ہیں مگر آنسو بھی تھک چکے ہیں، دل چیختا ہے مگر آواز تک نہیں نکلتی ہے۔ اس بے بسی کے گہرے اور منحوس چھاؤں جیسے دور جانے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس فانی زندگی میںزخم تو ہر ایک کے حصے میں آتے ہیں، مگر جو زخم بے وفائی، اندرونی کمزوریوں، مادیت کی دوڑ، صبر کے فقدان اور بار بار کی غلطیوں کی وجہ سے لگتے ہیں، وہ آسانی سے حقیقی شفا نہیں پاتے ہیں۔ ان سب کا مداوا کا راستہ خود سے شروع ہوتا ہے۔اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا، دوسروں کے ساتھ رحم دل بننا، اندرونی سکون کی تلاش کرنا اور زندگی کی دوڑ میں تھوڑا سا رک کر خود کو سنبھالنا اور اپنی اندرونی ذات سے سوال کرنا ہی حقیقی زندگی اور ہمیشہ رہنے والے سکھ کی ضمانت ہے۔ جب تک ہم خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے، زخموں کا یہ لامتناہی سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ کانٹوں کا ہار اتارنے کا واحد راستہ ہے کہ ہم اپنے دل اور رویوں کو بدلیں۔ شاید تب کہیں ہمارے زخموں پر مرہم لگے، شاید تب کہیں ہماری روح کو سکون ملے اور شاید تب کہیں ہم سمجھ پائیں کہ زندگی صرف زخموں کا نام نہیں، بلکہ ان زخموں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کا نام ہے اور ہماری آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ سکون کی چمک آ جائے اور ہمارا دل کانٹوں کی بجائے کچھ گلابوں کی خوشبو سے مہک اٹھے۔ایسی رونقیں ہماری زندگیوں میں لوٹے جس سے ہر زخمی روح سکون کے کچھ لمحوں سے محظوظ ہوسکے۔
حوالہ جات: ( ۱۔یاسمین موغحد،۲۔ مولانا وحید الدین خان،۳۔گروک کے ذریعہAI،تجویز کردہ آئیڈیاز،۴۔مولانا وحید الدین خان کے دو ماہی رسالہ،اسپرٹ آف اسلام)
رابطہ۔7006031540
[email protected]