دبئی// (یواین آئی) چار سال قبل دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان کے خلاف میچ میں ہاردک کے پٹھوں میں کھنچاؤ آگیا تھا اور وہ زخمی ہوگئے تب ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کا کیریر کا آخری میچ ہوسکتا ہے ۔ پاکستان اننگز کے 18 ویں اوور میں ہاردک کے پٹھوں میں کھچاؤ آگیا تھا وہ اپنے پیروں پر کھڑے بھی نہیں ہو پارہے تھے ۔اس وقت انہیں اسٹریچر پر لے جایا گیا ۔ اس وقت انہوں نے 4.5 اوور میں 24 رنز دیے تھے اور کوئی وکٹ نہیں لی تھی۔ اب ایشیا کپ میں اتوار کے روز کھیلے گئے میچ میں ہاردک نے پاکستان کے خلاف اپنے کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی اور تین وکٹ لینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے 17 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 33 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور چھکا لگا کر ٹیم کو فتح دلائی۔یہ ہاردک پانڈیا کا 2.0 اوتار ہے ۔ ہاردک نے ہندوستان کو پاکستان کے خلاف پانچ وکٹوں سے جیت دلانے میں اہم رول نبھایا۔ ان کی گیندبازی میں بھی تیزی آئی ہے ۔ انہوں نے شارٹ پچ باؤلنگ کو نیا ہتھیار بنایا ہے ۔ پاکستان کے خلاف ہاردک کی تمام گیندیں شارٹ یا گڈلینتھ سے تھوڑی شارٹ تھیں ۔ انہوں نے ایک بار بھی فل ٹاس، یارکر یا فل لینتھ گیند نہیں کی تھی۔ ان کی تینوں وکٹیں شارٹ پچ گیندوں پر آئیں اور اوسط رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی۔میچ جیتنے کے بعد بی سی سی آئی کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں، ہاردک چار سال قبل ملنے والے درد کو یاد کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب مجھے اسٹریچر پر ڈریسنگ روم لے جایا گیا تو مجھے وہ سب باتیں یاد آرہی تھیں۔ جب آپ ایسے حالات سے گزرتے ہیں اور آج موقع ملنے پر آپ کو یہ کامیابی کی طرح محسوس ہوتا ہے ۔ ہاردک نے اپنی کامیاب واپسی کا سہرا سابق ہندوستانی ٹیم کے فیزیو اور فی الحال بی سی سی آئی کے اسپورٹس سائنس کے سربراہ نتن پٹیل اور کوچ سوہم دیسائی کو دیا۔اس سال کا آئی پی ایل بھی ہاردک کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ انہوں نے آئی پی ایل میں بلے بازی، گیندبازی کے ساتھ اپنی کپتانی میں نئی ٹیم گجرات ٹائٹنز کو چیمپئن بنایا۔ ہاردک نے رواں سال جولائی میں انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں 33 گیندوں پر 51 رنز کی اننگز کھیلی اور چار وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اس کے علاوہ تیسرے ون ڈے میں ہاردک نے چار وکٹوں کے ساتھ ناٹ آوٹ 71 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ انہیں ون ڈے میں مین آف دی سیریز قرار بھی دیا گیا تھا۔