سالانہ کئی بچے اعلیٰ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ،لوگوں کا حکومت اور محکمہ ایجوکیشن کیخلاف احتجاج
حسین محتشم
پونچھ // ضلع پونچھ کے پسماندہ علاقے فضل آباد میں گورنمنٹ ہائی سکول کو ہائر سکنڈری کا درجہ نہ دینے پر عوامی حلقوں میں شدید ناراضگی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں سہیل ملک، ضلعی ترقیاتی کونسل ممبر کی قیادت میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقے کے مختلف دیہات سے بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت اور محکمہ تعلیم کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ فضل آباد کے اس اہم تعلیمی ادارے کو فوراً ہائر سکنڈری کا درجہ دیا جائے تاکہ مقامی طلبہ کی تعلیمی مشکلات کم ہو سکیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ فضل آباد ہائی سکول کئی برسوں سے اس درجہ کیلئے منتظر ہے، لیکن ہر بار ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سکول پر نہ صرف فضل آباد بلکہ آس پاس کے درجنوں دیہات کے طلبہ انحصار کرتے ہیں لیکن چونکہ ادارے کو ابھی تک ہائر سکینڈری کا درجہ نہیں دیا گیا، اس لئے یہاں کے طلباء کو میٹرک کے بعد مزید تعلیم کے لئے دور دراز کے علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔ غریب گھرانوں کے طلباء کے لئے یہ سفر نہ صرف مالی طور پر بوجھ ہے بلکہ ان کی تعلیم کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ڈی ڈی سی ممبر سہیل ملک نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت تعلیم کی ترقی کے بلند و بانگ دعوے تو کر رہی ہے لیکن حقیقت میں عوام کو بنیادی تعلیمی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اگر ایک بڑے اور مرکزی سکول کو بھی ہائر سکنڈری کا درجہ نہیں دیا جا رہا تو یہ تعلیمی پالیسی اور انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فضل آباد کے طلبہ کو انصاف دلانے کے لئے عوامی جدوجہد کو ہر سطح پر جاری رکھا جائے گا۔مظاہرین نے متفقہ طور پر کہا کہ حکومت فوری طور پر اس سکول کو ہائر سکینڈری کا درجہ دے، ورنہ احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے دنوں میں ضلع بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی پروگرام ترتیب دئیے جائیں گے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت اور محکمہ تعلیم پر ہوگی۔اس موقع پر مقامی عوام نے وزیر تعلیم سے ذاتی طور پر اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کا نوٹس لیں اور فضل آباد کے طلبہ کو درپیش تعلیمی مشکلات کو ختم کریں۔ عوام کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو بھی برابر کا تعلیمی حق حاصل ہے اور اگر حکومت واقعی تعلیم کی ترقی کے دعووں پر عمل پیرا ہے تو فضل آباد ہائی سکول کو جلد از جلد ہائر سکنڈری کا درجہ دیا جائے۔