نیوز ڈیسک
جموں// گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کو فیکلٹی ممبران کی کمی کا سامنا ہے جہاں 275 گزیٹیڈ اور نان گزیٹیڈ اسامیاں خالی پڑی ہیں۔حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے سوال کے جواب میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جی ایم سی جموں میں 108 سے زیادہ گزیٹیڈ اور 167 نان گزیٹیڈ اسامیاں خالی ہیں۔یہ معلومات ہسپتال کے حکام نے آر ٹی آئی کے تحت سماجی کارکن ایم ایم شجاع کی درخواست کے جواب میں فراہم کی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزٹیڈ سپیریئر کے لیے 189 اسامیاں منظور کی گئی تھیں، جن میں سے اب تک صرف 81 اسامیاں پْر ہوسکی ہیں، جب کہ 108 خالی پڑی ہیں۔ ان پوسٹوں میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچررز، رجسٹرار، اسسٹنٹ سرجن اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔اسی طرح نان گزیٹڈ سپیریئر کے لیے کم از کم 487 اسامیاں منظور کی گئی تھیں جن میں سے 320 پْر ہو چکی ہیں اور 167 اب بھی خالی ہیں۔ اسامیوں میں فارماسسٹ، ٹیکنیکل سپروائزر، یورولوجی اینستھیزیا، برونکوسکوپی، سپروائزر، کارڈیو گرافر، شماریاتی آفیسر، میڈیکل ریکارڈ آفیسر، چیف لیب ٹیکنیشن، سینئر ای سی جی ٹیکنیشن، نرسنگ سپروائزر شامل ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2022 سے دسمبر 2022 کے درمیان جموں کے گورنمنٹ سپر سپیشلٹی ہسپتال میں 3665 سرجریز کی گئیں۔3665 سرجریوں میں سے 1672 بڑی اور 1993 چھوٹی سرجری تھیں۔اسی مدت میں جموں کے گورنمنٹ سپرسپیشلٹی ہسپتال میں 182 اموات کی اطلاع ملی۔پچھلے سال سپر پیشلٹی ہسپتال جموں میں 1456 مریضوں کو یورولوجی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کیا گیا تھا جبکہ 675 کو نیفرولوجی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کیا گیا تھا۔جموں کی طرح کشمیر کے کئی ضلعی اور ذیلی ضلع ہسپتالوں میں ابھی بھی عملہ کی کمی ہے اور اسامیاں پْر نہیں کی گئی ہیں اس طرح صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے کے بارے میں حکام کے دعووں کو کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔کشمیر کے مختلف ضلع ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی 100 سے زیادہ اسامیاں اور پیرا میڈیکس کی 450 اسامیاں خالی ہیں۔