سرینگر //بی جے پی لیڈران کی جانب سے جموں میں زمین کی غیر قانونی طور پر خرید و فروخت کے معاملے پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی خاموشی پر سوال اُٹھاتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ریاستی گورنر این این ووہر ا سے اپیل کی ہے کہ وہ اسمبلی تحلیل کرکے ریاست میں گورنر راج نافذ کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست میں کبھی بھی گورنر راج کی متمنی نہیں رہی ہے لیکن حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کرنا ناگزیر بن چکا ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے بی جے پی کے کئی لیڈروں کی جانب سے بذریعہ ایک کمپنی نگروٹہ میں زمین اپنے نام کر نے پر کہا کہ اس حوالے سے ریاستی حکومت خاموش تماشائی بن بیٹھی ہے ۔انہوں نے ریاستی گور نر سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں اسمبلی تحلیل کر کے یہاں گور نر راج کا نفاز عمل میں لائیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مخلوط حکومت نے ریاست کو سخت مشکلات میں کھڑا کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات در پیش ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گو ر نر راج کے لئے ریاست میں یہ مو زوں و قت ہے کیونکہ مشکلات سے بھرے حالات کو مذید پھسلنے سے بچانے کے لئے یہاں گور نر راج کا نفاذلازمی ہے تاکہ جلد ہی لوگ اس کے بعدراحت کی سانس لے سکیں گے ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈروں نے فوجی کیمپ کے اسلحہ ڈیپوسے متصل جموں کے نگروٹہ میں ایک کمپنی کے ذریعے زمین خرید لی ہے اور اس خرید وفروخت میں بی جے پی کے سر کردہ لیڈرسابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نر مل سنگھ اور کویندر گپتا شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس مسئلے پرخاموشی کیوں اختیار کی ہو ئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نر مل سنگھ کی جانب سے ایک 2ہزار اسکیر میٹر پلاٹ پر رہائشی مکان کی تعمیر ہو رہی ہے جو اس 12ایکڑ زمین کا حصہ ہے جو انہوں نے 2014میں خریدا ہے ۔اس تعمیر پر جموں میں تعینات 16کارپس کمانڈر جنرل سنجیت سنگھ نے اعتراض اٹھایا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ فوج کے ایمو نیشن ڈیپو کے نزدیک رہائشی ڈھانچے کی تعمیر سیکورٹی کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے تاہم دونوں بی جے پی لیڈران نے رہائشی ڈھانچے کی تعمیر کو غیر قانو نی ماننے سے انکار کیا جس کے بعد فوج نے اسکے خلاف ہائی کورٹ جموں میں در خواست دائر کی ۔فوج کا ماننا ہے کہ ایمو نیشن ڈیپو کے متصل رہائشی ڈھانچے کی تعمیر سے یہاں تعینات اہلکاروں کے ساتھ سیکورٹی صورتحال پر بھی برا اثر پڑے گا ۔ ڈا کٹر فاروق نے کہا کہ ریاست کے تینوں خطے موجودہ مخلوط حکومت سے خفا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ محسوس کررہے ہیں کہ یہاں پر کو ئی حکومت نہیں ہیں اورسب لوگ یہ جانتے ہیں کہ کس طرح ریاستی حکومت کے اہم عہدوں پر فائز بی جے پی کے دو وزیر زمیں ڈیلوں میں ملوث ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی کئی لیڈران دیگرغیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں لیکن انکے خلاف کو ئی آواز نہیں اٹھا رہا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لینڈ رو میں ملوث بی جے پی لیڈران کے خلاف صرف فوج نے آواز اٹھائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد ریاست میں گورنر راج کا نفاز تین ماہ تک رہا اور ان تین ماہ کے دوران لوگوں نے سب کچھ بلا کر نئے سرے سے آگے بڑھنے کی کو شش کی تھی ۔