ٹی ای این
سرینگر//کشمیر کی خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال وادیِ گریز نہ صرف اپنی دلکش مناظر اور ثقافتی ورثے کیلئے مشہور ہے بلکہ یہاں صدیوں سے محفوظ روایتی طبی علم بھی ایک قیمتی اثاثہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گریز میں پائی جانے والی نایاب جڑی بوٹیوں اور ان سے متعلق مقامی علم کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ڈاکٹر جوہر رفیق اور ڈاکٹر ہلال احمد ملک کی جانب سے پیش کردہ ایک تحقیقی جائزے کے مطابق گریز کے بزرگوں، چرواہوں، حکیموں اور دیہی خاندانوں کے پاس مقامی پودوں کی شناخت، ان کے طبی استعمال اور علاجی نسخوں سے متعلق وسیع معلومات موجود ہیں، جو نسل در نسل زبانی طور پر منتقل ہوتی رہی ہیں۔گریز کی الپائن چراگاہیں، جنگلات اور گھاس زار متعدد اہم طبی پودوں کی آماجگاہ ہیں۔ ان میں’کْٹھ (Saussurea costus)، کالا زیرہ (Bunium persicum)، پتریس (Aconitum heterophyllum)، ریوم ایموڈی، برگینیا، انجلیکا، ارٹیمیسیا، شیتھ کھر اور تھائمس‘ جیسی قیمتی جڑی بوٹیاں شامل ہیں۔ مقامی لوگ ان پودوں کو سانس کی بیماریوں، نظامِ ہاضمہ کے مسائل، بخار، سوزش، زخموں اور جوڑوں کے درد سمیت مختلف امراض کے علاج میں استعمال کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق مقامی آبادی کو یہ بھی بخوبی معلوم ہے کہ مختلف پودوں کی جڑیں، پتے، پھول، بیج یا دیگر حصے کس موسم میں اور کس طریقے سے حاصل کیے جائیں تاکہ ان کی افادیت برقرار رہے۔
یہی وجہ ہے کہ گریز میں روایتی علاج آج بھی دیہی صحت کے نظام کا اہم حصہ ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں جدید طبی سہولیات محدود ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی طبی علم نے علاقے میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مقامی لوگ صدیوں سے جڑی بوٹیوں کی پائیدار انداز میں کٹائی اور استعمال کرتے آئے ہیں، جس سے ان نایاب پودوں کی بقا ممکن ہوئی ہے۔دوسری جانب عالمی سطح پر جڑی بوٹیوں، قدرتی ادویات اور غذائی سپلیمنٹس کی بڑھتی ہوئی مانگ نے گریز کی طبی پودوں کو معاشی اہمیت بھی عطا کی ہے۔ خاص طور پر کالا زیرہ جیسی قیمتی فصلوں کی کاشت اور پروسیسنگ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جدید طرزِ زندگی، نوجوان نسل کی نقل مکانی، روایتی طریقہ علاج سے دوری، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی مساکن کی تباہی کے باعث یہ قیمتی علمی ورثہ تیزی سے خطرات سے دوچار ہو رہا ہے۔ اگر اس علم کی بروقت دستاویز بندی اور تحفظ نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کا بڑا حصہ ہمیشہ کے لیے ضائع ہو سکتا ہے۔تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ مقامی علم کو سائنسی تحقیق کے ساتھ جوڑتے ہوئے جڑی بوٹیوں کی کاشت کو فروغ دیا جائے، قدرتی مساکن کا تحفظ یقینی بنایا جائے، نوجوان نسل میں بیداری پیدا کی جائے اور مقامی آبادی کو تحفظ و ترقی کے منصوبوں میں شریک کیا جائے۔ماہرین کے مطابق گریز وادی کا روایتی طبی علم نہ صرف صحت عامہ اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ بلکہ یہ پائیدار معاشی ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس منفرد ورثے کا تحفظ دراصل کشمیر کی ثقافتی شناخت اور قدرتی دولت کے تحفظ کے مترادف ہے۔