سرینگر//موسم سرما کی آمد کے سا تھ ہی وادی میں لو گوں نے سردیوں سے بچنے کیلئے تمام روایتی تدا بیر کو اپنا نا شروع کر دیا ہے جس میں’کا نگڑی‘کا روایتی اور تا ریخی استعمال بھی شامل ہے۔ کشمیرمیں سردی کی شدت سے بچنے کیلئے گرمی حاصل کرنے کے مختلف ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں۔کانگڑی سردیوں میں کشمیریوں کیلئے سردی سے بچائو کا بہترین اور پسندیدہ ذریعہ مانا جاتا ہے ۔کانگڑی بید کی لچکدار ٹہنیوں سے بنی ہوئی خوبصورت ٹوکری کی مانند ہوتی ہے جس کے اندر مٹی کی انگیھٹی ہوتی ہے جس کو کشمیری میں’’کُنڈل‘‘ کہتے ہیں۔کانگڑی میں دہکتے ہوئے کوئلے ڈالے جاتے ہیں جو 7 سے8گھنٹے تک گرم رہتے ہیں۔ چلہ کلان کے دوران تیز و سخت سردی کی لہرکامقابلہ کرنے کا واحد ہتھیار سمجھے جانے والی’کانگڑی‘ کی افادیت روز افزوں ہیٹروں کے بازاروں میں آنے کے باوجود کم نہیں ہو رہی ہے۔ کانگڑی کا استعمال سردیوں کے دوران وادی میں صدیوں سے کیا جاتا ہے تاہم دور جدید میں گرمی فراہم کرنے والے آلات نے اب اس کی اہمیت کو اگر چہ کچھ حد تک نقصان پہنچایا ہے تاہم اب بھی کانگڑی ہی موسم سرما کے دوران خود کو گرم کرنے کا پسندیدہ طریقہ کار مانا جاتا ہے۔ کانگڑیوں اور اس میں درکار کوئلوں کی قیمتوں میں گزشتہ برسوں سے مسلسل اضافے سے بھی کانگڑیوں کے استعمال کی افادیت کم نہیں ہوئی ہے۔شہر اور قصبہ جات میں3برس قبل جہاں عام کانگڑیوں کی قیمت80روپے سے100روپے تھی وہی اُن کی قیمت اب200روپے سے لیکر500روپے تک جا پہنچی ہے۔ سرینگر کے بہوری کدل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ممتازہ نے کہا کہ گیس ہیٹر کانگڑیوں کے مقابلے میں مہنگے ثابت ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب جب گرمیوں کیلئے جدید آلات بازاروں میں موجود ہیں، تو اس کا زیادہ تر استعمال سرکاری و نجی دفاتر اورکبھی کبھار بڑے اجتماعات میں ہوتا ہے ،جبکہ متواسط گھرانوں کی پہلی پسند اب بھی کانگڑی ہی ہے۔ بڈگام کے کرالہ پورہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون شاہدہ کا کہنا تھا کہ کانگڑیاں جہاں کشمیر کی تہذیب و روایات کا حصہ ہے وہیں گیس اور الیکٹرک ہیٹروں کے مقابلے میں محفوظ اور آرام دہ بھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موسم سرما میں جہاں بجلی بریک ڈائون عام سی بات ہے وہی سرینگر جموں شاہراہ کے بند ہونے سے گیس کی قلت بھی پائی جاتی ہے اور اس پر خطر موسم کا مقابلہ کرنے کیلئے گیس اور بجلی ہیٹروں پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ۔ گیس اور الیکٹرک ہیٹروں کے مقابلے میں کانگڑیوں کو کسی بھی جگہ اندر یا باہر محفل یا دکان پر ساتھ لیا جاسکتا ہے اور ہڈیوں کو گلا دینے والی سردیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ کوئلے اور کانگڑیوں کی قیمتوں میں اضافے نے تاہم شہری لوگوں کو کافی پریشان کیا ہے۔گیس ہیٹر فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے کہا کہ بہت کم خریدار گیس اور بجلی سے چلنے والے ہیٹروں کی خریداری کرتے ہیں ۔ وادی میں چرار شریف اور بانڈی پورہ کی کانگڑیوں کی ایک الگ ہی شان اور پہچان ہے اور شادیوں سے لیکر مبارکبادیوں تک کانگڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔