سرینگر // نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نوہٹہ میں ایک نوجوانوں کو فورسز کی جانب سے گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے کے واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا رمضان سیز فائر کا مطلب نوجوانوں کو بندوقوں سے نہیں بلکہ گاڑیوں سے کچل کر ہلاک کرنا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے پوچھا کہ کیا گاڑیوں سے کچل کر ہلاک کرنا نیا سٹینڈارڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) ہے۔ عمر عبداللہ نے یہ باتیں اپنے ٹویٹس میں کہیں۔ انہوں نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں گذشتہ برس سری نگر کی پارلیمانی نشست پر پولنگ کے دوران کشمیری نوجوان فاروق احمد ڈار کو فوجی کی جانب سے اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر درجن بھر دیہات میں گھمانے کے واقعہ کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے نوجوانوں کو جیب کے آگے باندھا گیا اور اب انہیں جیپوں سے کچلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ’پہلے مظاہرین کو احتجاجوں سے روکنے کے لئے انہیں جیپ کے آگے باندھ کر مختلف دیہات میں گھمایا گیا۔ لیکن اب وہ اپنی جیپیں احتجاجیوں کے اوپر سے دوڑا رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی صاحبہ کیا یہ نیا ایس او پی ہے؟ کیا سیز فائر کا مطلب ہے کہ بندوقیں نہیں جیپیں استعمال کرنی ہیں؟‘۔ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ جس میں کہا گیا ہے کہ نوہٹہ واقعہ میں ملوث گاڑی ہریانہ کا رجسٹریشن نمبر رکھتی ہے، پر کہا کہ کچھ لوگ واقعہ پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے بجائے رجسٹریشن نمبر میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’کچھ لوگ گاڑی کے رجسٹریشن نمبر میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ وہ اس پر نالاں نہیں کہ کس طرح احتجاجیوں کو گاڑیوں سے کچلا جارہا ہے۔ بتا دیتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں فورسز کی بیشتر گاڑیوں مختلف بھاری ریاستوں کے رجسٹریشن نمبر کے ساتھ ہیں‘۔