کٹھوعہ // ملک بھر میں سینکڑوں ایسے نوجوان ہیں جو اپنی آنکھوں میں شاندار مستقبل کا خواب سجائے بیٹھے ہوئے ہیں اور مستقبل کے خواب سجانے کیلئے قرض میں ڈوب کر جائیداد و زمین نوکریوں کے لالچ میں بیچ دیتے ہیں اور کسی ایجنٹ سے رجوع کرتے ہیں اور لاکھوں روپے ان کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں مگر افسوس کہ وہ دن نہیں آتے اور ایک دن وہ ایجنٹ بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہیں جس میں نوجوان مارے مارے پھرتے ہیں ۔ایسا ہی کٹھوعہ میں ایک واقعہ سامنے آیا ہے ،ملازمت دلانے کی لالچ میں لاکھوں روپے کے دھوکے کا ایک واقعہ منظر عام پر آیا ہے جو باعثِ عبرت بھی ہے۔کٹھوعہ میں 9 نوجوانوں نے ایک ایجنٹ کے جھانسے میں آکر ملازمت کے لالچ میں اسکو روپے دئے ہیں۔متاثرین نے بتایا کہ یہ ناگیش سرمال نامی ایجنٹ کٹھوعہ کے کالی باڑی کا رہنے والا ہے جوکہ مبینہ طور سے ینشنل کانفرنس کا کارکن بھی ہے، اسکے علاوہ مدسر احمد، فیض احمد، رایند سنگھ بالی بھی اس میں شامل ہیں ۔اس ایجنٹ نے ان لوگوںکو ملازمت کا لالچ دیا اور ان نوجوانوں نے قرض پر روپے لے کر اس ایجنٹ کو 14 لاکھ 80 ہزار روپے دے دئیے جسکے بعد انکو سرینگر میں بلایا گیا اور وہاں پر رنگریٹ میں ایم ای ایس میں میڈیکل بھی کروایا گیا جسکے بعد انکے ہاتھوں میں فرضی آرڈر بھی تھمائے گئے جو کہ ان کے پاس ابھی بھی موجود ہیں ،انھوں نے بتایا کہ ہمیں سرینگر میں پھر سے آج سے قبل پانچ ماہ پہلے بلایا گیا اور ان ٹھگوں کے کہنے پر انکے ہاتھوں میں فرضی آرڈر لیے ہوئے اور ادہمپور میں joining ڈالنے کیلئے کہا گیا اور وہاں معلوم ہونے پر انکو معلوم ہواہے کہ ہم سب ان ٹھگوں کے شکار ہوئے ہیں ۔انھوں بتایا کہ 6 نوجوانوں کو ایم ای ایس میں اور ایک کو میڈیکل میں اور ایک فارسٹ میں اور ایک نوجوان کو بینک میں ملازمت دینے کی بات کی گئی تھی جس کے لالچ میں ان لوگوں سے روپے بھی لئے گئے جس کے بعد انھوں نے کٹھوعہ ایڈیشنل ایس پی کے پاس اپنی شکایت بھی درج کروائی ہے ۔