جموں//رسانہ کٹھوعہ میں 8سالہ معصوم بچی کی اجتماعی آبرو ریزی اور قتل معاملہ کے ملزم وشال جنگوترہ کے دستخط میرٹھ کالج کے اس جوابی پرچہ پر کئے گئے دستخطوں سے نہیں ملتے ہیں جو اس کی طرف سے جرم کے وقت کٹھوعہ سے غیر حاضر ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کئے جا رہے تھے۔ سنٹرل فورینسک سائنسز لیبارٹری کی طرف سے ریاستی کرائم برانچ کو سونپی گئی مفصل رپورٹ میں یہ خلاصہ کیا گیا ہے ۔ دریں اثنا کرائم برانچ نے ملزم کے تینوں دوستوں کو نوٹس جاری کر دیا ہے جنہیں 17مئی کو سپریم کورٹ نے پوچھ تاچھ سے مستثنیٰ قرار دینے یا تحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فورینسک لیبارٹری کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امتحانی ہال کے حاضری شیٹ پر کئے گئے دستخط وشال کے نہیں ہیںبلکہ یہ کسی اور نے کئے ہیں۔وشال 8ملزمان میں سے ایک ہے جنہوں نے رسانہ میں بچی کو ایک ہفتہ تک یرغمال بنا کر جنسی ہراسانی کا شکار بنایا تھا۔ ملزم کا دعویٰ ہے کہ جب یہ انسانیت سوز جرم ہوا، وہ کٹھوعہ گیا ہی نہیں بلکہ وہ اتر پردیش کے زرعی کالج کے امتحانات میں شریک ہوا اور اس نے 15جنوری کو امتحان میں بھی شرکت کی جہاں اس نے امتحانی ہال میں دستخط بھی کئے تھے۔ کرائم برانچ نے اس کی اٹینڈنس شیٹ تجزیہ کیلئے مرکزی لیبارٹری میں بھیجی تھی تاکہ اس پر کئے گئے دستخطوں کا پتہ لگایا جا سکے کیوں کہ اس روز وشال کی ٹرین لیٹ ہو گئی تھی اور جب وہ میرٹھ پہنچا ، امتحان منعقد کیا جا چکا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہینڈ رائٹنگ کے ماہر کا کہنا ہے کہ اٹینڈنس شیٹ پر کئے گئے دستخط وشال کے نہیں ہیں ۔ وشال سانجھی رام کا بیٹا ہے جسے اس معاملہ میں کلیدی ملزم قرار دیا گیا ہے ۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات کا دائر ہ وسیع کردیا ہے تاکہ اٹینڈنس شیٹ پر جعلی دستخط کرنے والوں کی نکیل کسی جا سکے ۔ پولیس وشال کے تین دوستوں سچن شرما، نیرج شرما اور ساحل شرما سے اس سلسلہ میں پوچھ گچھ کر رہی ہے جنہوں نے گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی تھی تاہم عدالت نے انہیں راحت نہیں دی البتہ ان کا ایک رشتہ دار دوران پوچھ گچھ وہاں موجود رہے گا تاہم اسے پوچھ گچھ والے کمرہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہوگی وہ صرف دور سے دیکھ سکے گا۔