سرینگر//کوروناوائرس کی ممکنہ تیسری لہر کے اثر کو زائل کرنے کیلئے بچوں کو ٹیکہ دینے پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا کہ تیسری لہر بچوں کو ہی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، اس لئے وادی کشمیر میں بچوں کیلئے ویکسی نیشن مہم شروع کرنے کیلئے ایل جی انتطامیہ کو اقدامات کرنے چاہئے ۔ ایسوسی ایشن نے کہاکہ بچوں کیلئے ویکسین کے ٹرائل کو پہلے ہی منظور دی گئی ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ بچوں کیلئے ویکسینیشن مہم شروع کی جانی چاہئے تاکہ کووڈ 19کی ممکنہ تیسری لہر پر قابو پایا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ بچوں کی ٹیکہ کاری سے تیسری لہر کی شدت سے بچاجاسکتا ہے کیوں کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ تیسری لہر میں بچے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ کوروناوائرس کی پہلی لہر میں عمر رسیدہ افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور دوسری لہر میں جوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر رہا جس میںملک بھر میں سینکڑوں جوان فوت ہوچکے ہیں اور تیسری لہر کی لپیٹ میں بچے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا Pfizerویکسین کو پہلے ہی 12سے 15برس عمر تک کے بچوں کیلئے منظور کرلیا گیا ہے اور یہ ویکسین 16سال تک کے بچوںکو دیا جاچکا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ یہ ویکسین سو فیصد محفوظ اور اثر دار ہے ۔ ڈاکٹر حسن نے کہا ہمیں بچوں میں کوڈ 19 کو روکنا ہے۔ہمیں یہ ویکسین درآمد کرنی چاہئے اور بچوں کو ٹیکہ دینا شروع کردینا چاہئے۔ڈاک صدر نے کہا کہ بچوں کو ٹیکہ لگائے بغیر کووڈ 19 کے وبائی مرض کو شکست دینا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بچوں کو ویکسین نہیں دئے جاتے ہم وائرس سے بچنے کے قابل نہیں رہ سکتے ۔ کمیونٹی اس مرض سے محفوظ ہے تا کہ یہ وائرس ایک فرد سے دوسرے شخص تک آسانی سے پھیل نہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ وائرس سے بچنے کے لئے 70 فیصد سے زیادہ لوگوں کوٹیکہ لگانے کی ضرورت ہے۔