سرینگر//کووِڈ- 19کاٹیکہ تیار کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ،لیکن ممکن ہے کہ یہ ٹیکہ کبھی تیار ہی نہ ہواور اسطرح کووِڈ- 19کبھی بھی دنیا سے ختم نہ ہو۔اس بات کاانکشاف عالمی صحت تنظیم کے ہنگامی حالات شعبے کے سربراہ مائیکل رائن نے کیا۔ادھراقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کوروناوائرس کی عالمگیر وباء دنیا میں ذہنی صحت کابحران پیداکررہا ہے اور کئی ممالک ذہنی امراض کے علاج سے غفلت برت رہے ہیں ۔عالمی صحت تنظیم کے ہنگامی حالات شعبے کے سربراہ مائیکل رائن نے بدھ کو جنیوامیں ایک ورچیول پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کوروناوائرس ہمارے سماج کاحصہ بن جائے اور مقامی وباء کے طور ہمارے ساتھ چمٹا رہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وائرس کبھی بھی ختم نہ ہو ۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی ختم نہیں ہواہے مگر ہم نے اس کا مقابلہ کرنا سیکھ لیا ہے ۔رائن نے کہاکہ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ کوروناوائر س کی چھوت کا کب خاتمہ ہوگا۔فی الوقت پورے عالم میں اس بیماری سے تین لاکھ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد43لاکھ سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کے بغیر لوگوں میں اس وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت کی درکار سطح تک آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔دنیا بھر میں کوورنا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی 100 سے زیادہ کوششیں جاری ہیں مگر ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ کبھی نہ بن سکے گی۔ مائیکل رائن کا کہنا تھا کہ اگر ویکسین بن بھی جاتی ہے تو وائرس پر قابو پانے کے لیے انتہائی بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہو گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب بھی دنیا میں خسرہ جیسی کئی بیماریاں ہیں جن کی ویکسین موجودہے، مگر ان کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔اقوامِ متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء ،اس کا مقابلہ کررہے فرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں اور اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں سے لے کر گھروں میں قید بچوں اور طالب علموں تک، سب کے لیے ذہنی دباؤ اور کوفت کا باعث ہے۔جمعرات کو جاری ہونے والے ایک پالیسی بیان میں اقوامِ متحدہ نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ وباء سے نمٹنے کے منصوبوں میں ذہنی صحت کے علاج اور عوام کے لیے نفسیاتی امداد فراہم کرنے کے طریقے بھی شامل کریں۔اچھی ذہنی صحت ایک پھلتے پھولتے معاشرے کے لیے ضروری ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق ان اقدامات کے بغیر وبا کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔