سرینگر// وبائی بیماری نے جہاں عالمی سطح پر معیشت کے تمام ستونوں کو لرزہ براندام کیا اور قریب100کروڑ مزدوربے روزگار ہو گئے وہیں وادی میںبھی قریب6 لاکھ لوگوں کا روزگاربری طرح متاثر ہوا۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے20سے25فیصد روزگار بحال ہوگیا ہے لیکن جموعی طور پر روزگار متاثر ہونے سے انکی مشکلات دور نہیں ہوئے۔کورونا لاک ڈائون کا آغاز18مارچ سے ہوا،جو کئی مراحل اور نرمیوں کے ساتھ کم و بیش6ماہ تک جاری رہا۔اس عرصے میں تجارتی مراکز، صنعتوں، کارخانوں، بازاروں،تعلیمی اداروں اور دیگر تجارتی شعبوں میں الو بولتے رہے،جبکہ ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام رہا۔لگاتار لاک ڈائون کے نتیجے میں لاکھوں مقامی و غیر مقامی لوگ بے روزگار ہوگئے اور تجارتی شعبے مقفل رہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس عرصے میں قریب5لاکھ لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا،جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے۔
تجارتی و صنعتی انجمنوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریزکا کہنا ہے کہ لاک ڈائون اور بندشوں کے نتیجے میں وادی میںسب سے زیادی نقصان سفری و سیاحتی،دستکاری ،خدمات(سروس) ،ٹرانسپورٹ اور پیدواری صنعت( مینو فکچرنگ انڈسٹری) کو پہنچا،جس کے نتیجے میں ان شعبہ جات میں روزگار پر براہ راست اثرات مرتب ہوئے۔ چیمبر کے کار گذار جنرل سیکر یٹری فاروق امین نے بتایا کہ نقصانات اور روزگار کے نقصانات سے متعلق ایک مفصل رپورٹ پہلے ہی سرکار کو سونپی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا لاک ڈائون کے دوران4لاکھ97ہزار لوگوں کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ فاروق امین نے بتایا کہ چیمبر نے جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں سیاحتی شعبہ سر فہرست ہے،جس میں ایک اندازے کے مطابق74ہزار کے قریب لوگ اپنے روزگار سے محروم ہوئے۔انکا کہنا تھا کہ لاک ڈائون سے قبل ہی5 اگست کے بعدسیاحت پر سیاہ بادل منڈلانے لگے،جو کوویڈ میں بھی جاری رہے۔ہوٹل،ریستوراں،ہاوس بوٹ،ٹورسٹ گاڑیاں،شکارا اوراس سے جڑے دیگر کام بند رہے جس کی وجہ سے سیاحتی صنعت بری طرح متاثر ہوئی،اور سیاحتی شعبے سے جڑے لوگوں کو روزگار سے محروم ہونا پڑا۔ رپورٹ میں چیمبر نے دست کاری شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قریب70ہزار لوگ اس شعبے سے بھی متاثر ہوئے،جبکہ باغبانی،پھولبانی،زراعت اور ابریشم(سریکلچر) شعبہ جات سے12ہزار لوگ بے کار ہوئے۔ فاروق امین نے مزید بتایا کہ صنعت و حرفت شعبہ بھی متاثر ہونے سے نہیں رہااور وہاں پر کامگاروں کو اس کا خمیازہ اٹھانا پڑا ،جس کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق70ہزار کامگار،مزدور،ہنر مند افراد اور دیگر لوگ بے روزگار ہوگئے۔
ٹرانسپورٹ شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی حالت ناگفتہ بہہ بن گئی ہے کیونکہ قریب6ماہ تک مکمل طور پر گاڑیوں کے پیہے جام رہنے کے نتیجے میں 60ہزار لوگ متاثر ہوئے۔ جنرل ٹریڈ یا دکانات میں کام کرنے والے سیلز مینوں سے لیکر دیگر عملہ بھی بیکار ہوگیا اور کوروناکے نتیجے میں تجارتی و کاروباری مراکز مقفل رہے اور قریب ایک لاکھ20ہزار لوگوں کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پاور پروجیکٹوں،تعمیراتی کاموں اور ٹھیکداری شعبے میں بھی20ہزار ہنر مند کاریگروں کو کورونا لاک ڈائون کا خمیازہ اٹھانا پڑا۔حکام کی جانب سے رجسٹر کئے گئے 3لاکھ 82ہزار مزدور ہیں،اور قریب ایک لاکھ مزدور اس میں بھی ابتدائی 2ماہ کے دوران بے کار ہوئے۔ طبی و نگہداشت سہولیات شعبے میں بے روزگار ہونے والے ملازمین کی تعداد2500کے قریب تھی،جبکہ سروس سیکٹر(شعبہ خدمات) میں66ہزار کامگاروں کو بے روزگار ہونا پڑا۔ تعلیمی شعبے میں بھی قریب1500اور فائنانس سیکٹر میں1000لوگوں کو اپنے کام سے بے دخل کیا گیا۔ کورونا وبائی بیماری میں روک تھام اور لاک ڈائون کا سلسلہ ختم ہونے نیز بندشوں و معیاری عملیاتی طریقہ کار میں نرمیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر روزگار کی بحالی کیلئے جدوجہد شروع ہوئی۔ گزشتہ4 ماہ کے دوران25فیصد کے قریب روزگار بحال ہوا،تاہم ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کچھ ایسے شعبے ہیں،جن میں روزگار کی بحالی کیلئے وقت رکار ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے کام چلائو جنرل سیکریٹری فاروق امین کا کہنا ہے کہ گزشتہ3ماہ سے سیاحت میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے کو ملی ہے،جس کے نتیجے میں20سے25فیصد تک لوگوں کا روزگار بحال ہوا،تاہم انہیں خدشات ہیں کہ یہ عارضی ثابت نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ شعبے میں بھی کم و بیش بحالی ہوئی،جبکہ عام تجارت یا جنرل ٹریڈ سیکٹر بھی کچھ حد تک بہتر ہوا،تاہم کئی ایسے شعبہ جات ہے،جن کی پوزیشن ابھی بھی خراب ہے۔انہوں نے کہا’’ دست کاری، صنعت و حرفت،سفری شعبہ،انٹرنیٹ سے جڑا کاروبار،اور دیگر کئی شعبہ جات ابھی بھی متاثر ہیں اور انکی بحالی میں وقت درکار ہے‘‘۔
سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکر یٹری فاروق احمد ڈار نے بتایا کہ ابتدائی ایام میں ہنر مند اور کاریگر بے روزگار ہوئے تھے،تاہم لاک ڈائون کے خاتمے کے بعد پروجیکٹوں پر کام پھر شروع ہوا اور اس شعبے میں قریب70فیصد لوگوں کا روزگار پھر سے بحال ہوا۔گڈس ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے صدر محمد صدیق رونگہ کا بھی کہنا ہے کہ لاک ڈائون ختم ہونے اور بین الریاستی سفر کے مال بردار گاڑیوں کو اجازت ملنے کے بعد کافی حد تک اس شعبے میں روزگار بحال ہوا،جبکہ شکارا ایسو سی ایشن کے صدر حاجی ولی محمد کا بھی کہنا ہے کہ کچھ ماہ سے سیاحوں کی آمد میں اضافے کے نتیجے میں اس شعبے میں نئی زندگی آگئی ہے۔