یواین آئی
نئی دہلی//ملک میں کوئلے پر مبنی بجلی کی پیداوار میں اپریل سے دسمبر 23 کے دوران پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 10.13 فیصد ک غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ اسی مدت کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار میں بھی 6.71 فیصد اضافہ ہوا۔اپریل-دسمبر 23 کے دوران کوئلے پر مبنی گھریلو بجلی کی پیداوار 872 بلین یونٹس (بی یو) تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں پیدا ہونے والے 813.9 بلین یونٹس (بی یو) سے 7.14 فیصد زیادہ ہے ۔ اس سے ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے کوئلے کی وافر فراہمی کی عکاسی ہوتی ہے ۔بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود آمیزش کے لیے کوئلے کی درآمد میں 40.66 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو اب 17.08 میٹرک ٹن ہو گئی ہے ۔ پچھلے سال کی اسی مدت میں یہ در آمد 28.78 میٹرک ٹن تھی۔ اس سے کوئلے کی پیداوار میں خود انحصاری اور کوئلے کی مجموعی درآمدات کو کم سے کم کرنے کے لیے قوم کے عزم کا اظہار ہوتا ہے ۔ہندوستان میں بجلی روایتی (تھرمل، نیوکلیئر اور ہائیڈرو) اور قابل تجدید ذرائع (ہوا، شمسی، بایوماس وغیرہ) سے پیدا کی جاتی ہے ۔ تاہم، بجلی کی پیداوار کا بڑا ذریعہ کوئلہ ہے جو بجلی کی کل پیداوار کا 70 فیصد سے زیادہ ہے ۔ہندوستان میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار نے ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ملک کو اس وقت بجلی کی طلب میں خاطر خواہ اضافے کا سامنا ہے ۔ اس کی وجہ صنعتی ترقی، تکنیکی ترقی، آبادی میں اضافہ، اقتصادی ترقی وغیرہ جیسے عوامل ہیں۔حکومت کوئلے کی پیداوار کو مزید بڑھانے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جس کا مقصد دستیابی کو بڑھانا اور درآمداتی کوئلے پر انحصار کم کرنا اور اس طرح غیر ملکی ذخائر کی حفاظت کرنا ہے ۔