سرینگر// اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز سرینگر کی طرف سے منگل کو ایک روزہ مشاعرہ ’’کشمیری کی نئی نسل کے نام‘‘ منعقد ہوا ۔ مشاعرے کی صدارت نامور شاعر و ادیب حسن انظر نے انجام دی جبکہ ایوانِ صدارت میں ڈاکٹر نگہت نظر بحیثیت مہمانِ خصوصی موجود رہیں ۔ مشاعرے کی نظامت گلزار جعفر نے انجام دی ۔مہمانوں کا باقاعدہ استقبال کرتے ہوئے شیرازہ اردو کے مدیر سلیم سالک نے کہا کہ اکیڈیمی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کی آبیار ی کے لئے مختلف ادبی تقاریب کا انعقاد کرے ۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر آج ’’کشمیر کی نئی نسل کے نام ‘‘ کے عنوان کے تحت ایک مشاعرے کا انعقاد کر رہی ہے ۔ مشاعرے میں نگہت صاحبہ، غضنفر علی شہباز، ڈاکٹرتنویر طاہر، قتیل مہدی، ساگر سرفراز، عاصم اسدی، گلزار جعفر، عارض ارشاد، خالد ابرار، مصروفہ قادر، اطہر بشیر، بلال قاصر، یونس ڈار، تسنیم الرحمن حامی، پرویز گلشن ‘ عقیل فاروق، راشف عزمی، عمر فیاض، راشد مقبول، عذرا حکاک،خواہش کشمیری اور شبینہ آرا نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈاکٹر نگہت نظر نے اپنی تقریر میں کہا کہ کہنہ مشق شعرا پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ نئی نسل کے باصلاحیت شعرا کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں بلکہ ان کو شعر و سخن کے لوازمات سے بھی آگاہ کرتے رہیں تاکہ مستقبل قریب میں تابناک شعری روایت کی ضمانت فراہم ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں تخلیقی صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کی رہنمائی کی جائے ۔ اپنے صدارتی کلمات میں حسن انظر نے کہا کہ یہ نہایت ہی خوش آئند قدم ہے کہ اکیڈیمی نے نئی نسل کے شعرا کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی صلاحیتو ںکا مظاہرہ کرسکیں اور انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ایسی تقاریب تواتر کے ساتھ جاری رہنی چاہئیں تاکہ ادبی فضا کا جمود ختم ہو اور ہماری تابناک شعری و ادبی روایت بدستور برقرار رہ سکے ۔