سرینگر//کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہا ہے کہ نوجوان اساتذہ کو کلاس روم سے ہٹ کر متعلقہ رہنے کے لئے تعلیم کے بدلتے ہوئے نمونوں کے مطابق رہنا ہوگا۔یو جی سی-ایچ آر ڈی سی کے زیر اہتمام انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دو ہفتوں کے بین الضابطہ ریفریشر کورس کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر طلعت نے کہا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی -2020 اساتذہ کو ایک ایسا موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اس تدریسی داخلے کے لئے اپنے نئے داخلی طریقہ کار سے ہم آہنگ ہوں۔ انہوں نے کہا ’’اساتذہ کی ترقی کے لئے یہ فیکلٹی ڈیولپمنٹ کورسز کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ ان کے علم کو بڑھانے اور ان کی مہارت کے شعبوں کے بارے میں جو کچھ پہلے سے سیکھ چکے ہیں ،اس سے کہیں زیادہ سیکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں‘‘۔ وائس چانسلر نے کہاکہ اس وبا، جس نے بہت ساری رکاوٹوں کو جنم دیا ، نے تعلیم کو آن لائن و آف لائن طریقہ سے بہتر طور فراہم کرنے کیلئے نئے مواقع بھی فراہم کئے۔انہوں نے کہا کہ تمام تکنیکی ترقیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اساتذہ کو مستقل طور پر اپنے ذہن کا استعمال کرتے رہنا پڑتا ہے کیونکہ آخرکار سپر کمپیوٹر ، سپر دماغ ہمارا اپنا دماغ ہے اور اس کی جگہ کوئی چیز نہیں لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی ہی ہمارے لئے چیزوں کو آسان بنا سکتی ہے۔مہمان خصوصی ڈین آف اکیڈمک امور پروفیسر شبیر اے بٹ نے کہا کہ آج کے نوجوان اساتذہ کو پوری دنیا میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اپنے علم ، اپنی دانشمندی اور اپنی سمجھ بوجھ کو بانٹنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔