عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کے دوران کشمیر کے روایتی وگئو’ چٹائی کے احیا پر روشنی ڈالی، اور صدیوں پرانے دستکاری کو وادی کے ثقافتی ورثے کی ایک منفرد اور ماحول دوست علامت کے طور پر بیان کیا۔سامعین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ‘وگئو’ چٹائی بنانے کی روایت کئی نسلوں پرانی ہے۔ سرکنڈوں اور دھان کے بھوسے سے تیار کی گئی چٹائی گرمیوں میں گھروں کو ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم رکھتی ہے۔مودی نے کہا، “کشمیر کی روایتی ‘وگئو’ چٹائی بنانے کی روایت کئی سال پرانی ہے۔ یہ چٹائی منفرد اور ماحول دوست دونوں ہے۔ ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ گرمیوں میں ٹھنڈک اور سردیوں میں گرمی فراہم کرتی ہے،” ۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ‘وگئو’ چٹائی کبھی تقریباً ہر کشمیری گھرانے میں ایک عام خصوصیت تھی، لیکن گزشتہ سالوں میں اس کا استعمال کم ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے سری نگر میں مقیم کاریگر غلام حسین اور ان کی بیٹی تنزیلہ کی روایتی دستکاری کو بحال کرنے کا مشن اٹھانے پر سراہا۔انہوں نے کہا” یہ ہر کشمیری گھرانے میں پایا جاتا تھا، پچھلے کچھ سالوں میں اس کے استعمال میں کمی آئی ہے۔ اس کے درمیان، سری نگر کے غلام حسین جی اور ان کی بیٹی تنزیلہ جی نے ‘وگئو’ ہنر کی روایت کو بحال کرنے کا عہد لیا،” ۔ان کی لگن کی تعریف کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ جب ٹیلنٹ کو عزم کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو ہر چیلنج پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔ انہوں نے ‘وگئو’ چٹائی کو بحال کرنے کی جاری کوششوں کو کشمیر کی روایتی دستکاری کو محفوظ رکھنے اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی ایک متاثر کن مثال قرار دیا۔